اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے
میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر دنیا کی ستاون اسلامی ریاستیں ایک دن کے لیے بھی صرف اپنے اسلامی شعور پر جمع ہو جائیں تو شاید اقوام متحدہ کا ایوان لرز جائے۔ شاید وائٹ ہائوس کی دیواریں پسینے سے بھیگ
میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر دنیا کی ستاون اسلامی ریاستیں ایک دن کے لیے بھی صرف اپنے اسلامی شعور پر جمع ہو جائیں تو شاید اقوام متحدہ کا ایوان لرز جائے۔ شاید وائٹ ہائوس کی دیواریں پسینے سے بھیگ
یقین کیجیے اس ملک کا اصل مسئلہ نہ مہنگائی ہے نہ لوڈشیڈنگ نہ بیروزگاری اور نہ ہی خارجہ پالیسی کی پیچیدگیاں۔ اصل دکھ یہ ہے کہ ہمارے صاحبِ اختیار فیصلہ کرنے سے گھبراتے ہیں اور جب کوئی صاحبِ ایمان، صاحبِ
دنیا کی سیاست میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو قوموں کی تقدیر کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ وہ لمحے جن میں صرف ملاقاتیں نہیں ہوتیں تاریخ لکھی جاتی ہے، بیانیے بنتے ہیں اور طاقت کا توازن ایک نئی ترتیب
میں نے زندگی کے کئی منظر دیکھے۔ عراق کی بربادی، افغانستان کی خاک، شام کا خوں رنگ پانی، برما اور ہندوستان میں خون کی ہولی اور لیبیا کی بکھری ہوئی ریاستیں۔ مگر ایک چیز ہر جگہ مشترک دیکھی …! مسلمان
تقریباً آٹھ دہائیوں سے دنیا کے ستاون مسلمان ممالک ایک ایسے سراب میں گرفتار رہے جسے اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا نام دیا جاتا تھا۔ یہودی ریاست کی عسکری برتری، ٹیکنالوجی، امریکہ و یورپ کی پشت پناہی اور خفیہ
یاریاست یا کارٹل؟پاکستان کا حالیہ وفاقی بجٹ عوامی بجٹ کم اور اشرافیہ کا جشنِ مراعات زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ اس بجٹ میں جن طبقات کو ریلیف ملنا چاہیے تھا ان کی جھولی خالی رہی جبکہ حکمران اشرافیہ کی جھولیاں بے
جب بھی دنیا میں ظلم کی رات طویل ہو جائے تو وہی ظلم اپنے انجام کو خود دعوت دینے لگتا ہے۔ اسرائیل نے جب ایران کے خلاف کھلے عام جارحیت کا آغاز کیا تو شاید اسے اندازہ نہیں تھا کہ
نیویارک میں پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا ’’سستا چربہ‘‘ قرار دے کر حقیقت پر مبنی ایسی تشبیہ دی جس نے عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں کی توجہ
ریاست عبرت کی دہلیز پر تاریخ انسانیت کا ورق الٹیں تو ہمیں فرعونوں، نمرودوں، اور ہٹلروں کی کئی داستانیں ملتی ہیں جو طاقت کے نشے میں چور ہو کر یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ دائمی ہیں، ناقابل شکست ہیں اور
پاک فوج کے ہاتھوں بدترین شکست کے بعد اپنے ہوش وحواس کھو کر پاکستانی قوم کو گولی کی دھمکی دینے والے نریندرا مودی جیسے بزدل اور متعصب شخص کا انجام قریب ہے۔ اس کا جھوٹ اس کی سیاست اس کی