طاقت سے امن یا امن کے بغیر طاقت؟
انسانی تاریخ درحقیقت ایک طویل داستانِ تصادم و تسخیر ہے۔ انسانی وجود کے آغاز سے ہی، جب بقا کا انحصار شکار اور قبائل کے درمیان دفاع پر تھا، ہتھیاروں کی ایجاد اور ترقی تہذیبوں کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ چلتی
انسانی تاریخ درحقیقت ایک طویل داستانِ تصادم و تسخیر ہے۔ انسانی وجود کے آغاز سے ہی، جب بقا کا انحصار شکار اور قبائل کے درمیان دفاع پر تھا، ہتھیاروں کی ایجاد اور ترقی تہذیبوں کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ چلتی
جنگ دراصل انسانیت کی ناکامی کا اندوہناک اظہار ہے— مکالمے سے اختلافات حل نہ کر سکنا، حدود و قیود کا احترام نہ کرنا، اور انصاف کے اصولوں کو پامال کرنا۔ جنگ معصوموں پر ہولناکیاں مسلط کرتی ہے اور تہذیبوں کو
پارلیمانی عمارت کی خاموش عظمت میں کچھ خیالات محض ایوان میں ہونے والی بحث سے نہیں، بلکہ ان درمیانی خلاؤں میں جنم لیتے ہیں—جہاں آوازیں بغیر مائیکروفون کے گونجتی ہیں اور خیالات رسمی حدود کے بغیر بہتے ہیں۔ قومی اسمبلی
فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ غیر معمولی ملاقات نے عالمی مبصرین، تجزیہ کاروں اور حکومتوں کی بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔ یہ محض دو اہم شخصیات کی ایک اعلیٰ سطحی ملاقات
دنیا طاقت، سازشوں اور مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ انہی عوامل کی روشنی میں مئی اور جون 2025 ء کے مہینے دو بظاہر الگ لیکن حیرت انگیز طور پر مماثل تنازعات کی وجہ سے عالمی سیاسی تاریخ میں نقش ہو
جب سے انسانی تہذیب کا آغاز ہوا ہے، انسان جنگ و جدل کی تلخ راہوں میں الجھا رہا ہے ۔کبھی زمین کی توسیع کے لیے، کبھی دشمنوں کو زیر کرنے کے لیے، اور کبھی مظلوموں کو آزادی دلانے کے لئے۔
دنیا پہلے ہی کئی بحرانوں کے دہانے پر کھڑی ہے، ایسے میں حالیہ اسرائیلی حملے نے نہ صرف ایران میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے بلکہ بعض عالمی قوتوں کے خطرناک کھیل کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ
موت ایک یقینی اور ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔ روئے زمین پر بسنے والا ہر انسان اس کا ذائقہ چکھے گا۔ جو پیدا ہوا ہے، اسے ایک دن مرنا ہے۔ کوئی طاقت، کوئی دولت، کوئی دعا یا احتجاج اسے اُس وقت
جون کا مہینہ جیسے ہی قریب آتا ہے، پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوانوں میں ایک خاص قسم کی سنجیدگی اور بے چینی محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس کی وجہ وہ اہم دستاویز ہے جسے ’’وفاقی بجٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ
جب سے ہوش سنبھالا، ہر جون میں پاکستان کا وفاقی بجٹ ایک تہوار کی طرح پیش ہوتے دیکھا—جس کا انتظار اُتنی ہی بے چینی اور اُمید سے کیا جاتا تھا جتنی کسی بڑے قومی موقع کا۔ کاروباری طبقہ اسے تیز