واشنگٹن کے فیصلے اور دنیا کی جنگیں
(گزشتہ سےپیوستہ) 1950ء میں صدر ہیری ایس ٹرومین نے کوریا میں مداخلت کا فیصلہ کیا۔ اس تنازع کو باضابطہ جنگ کے بجائے اقوام متحدہ کے تحت ایک‘‘پولیس ایکشن’’قرار دیا گیا، لیکن اس میں بڑے پیمانے پر فوجی لڑائی شامل تھی۔
(گزشتہ سےپیوستہ) 1950ء میں صدر ہیری ایس ٹرومین نے کوریا میں مداخلت کا فیصلہ کیا۔ اس تنازع کو باضابطہ جنگ کے بجائے اقوام متحدہ کے تحت ایک‘‘پولیس ایکشن’’قرار دیا گیا، لیکن اس میں بڑے پیمانے پر فوجی لڑائی شامل تھی۔
اقتدار ہمیشہ انسان کے کردار کو پرکھنے کا سب سے کڑا معیار رہا ہے۔ جب اختیار کسی فرد کے ہاتھ میں آتا ہے تو انسانی فطرت میں پوشیدہ خواہشات اکثر زیادہ شدت کے ساتھ ابھرنے لگتی ہیں۔ تاریخ ہمیں یہ
(گزشتہ سے پیوستہ) بعد ازاں کمانڈر میک گوناگل کو امریکہ کے سب سے بڑے عسکری اعزاز میڈل آف آنر سے نوازا گیا۔ تاہم یہ تقریب وائٹ ہاؤس کے بجائے واشنگٹن نیوی یارڈ میں خاموشی سے منعقد کی گئی، جسے وسیع
اردو میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ چور چوری چھوڑ سکتا ہے مگر ہیر پھیر اور فریب کاری نہیں چھوڑتا۔ یہ پرانی کہاوت آج کی عالمی سیاست کے منظرنامے میں غیر معمولی طور پر صادق آتی محسوس ہوتی ہے۔ خلیج
اردو میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ چور چوری چھوڑ سکتا ہے مگر ہیر پھیر اور فریب کاری نہیں چھوڑتا۔ یہ پرانی کہاوت آج کی عالمی سیاست کے منظرنامے میں غیر معمولی طور پر صادق آتی محسوس ہوتی ہے۔ خلیج
آج مشرقِ وسطیٰ غیر معمولی کشیدگی کی فضا میں گھرا ہوا ہے، جہاں سیاسی حکمتِ عملی اور عسکری تیاری خوف، بدگمانی اور اچانک جنگ کے ہمہ وقت خطرے کے ساتھ بے اطمینانی سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ جو منظر
قوموں کی زندگی میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جو اگرچہ مدت کے اعتبار سے مختصر ہوتے ہیں، مگر ان کے سائے اتنے طویل ہوتے ہیں کہ وہ حال کی بے چینیوں اور مستقبل کے احتساب دونوں کو شکل دے
قدیم تاریخ کے اوراق میں کشتی محض طاقت کا مقابلہ نہ تھی بلکہ ایک مہذب فن تھا، جس کے اصول مقدس قانون کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس کے مقابلے شان و شوکت اور باوقار رسم و رواج کے ساتھ منعقد
ایک ایسے دور میں جو روشن ضمیری اور ضابطہ بند بین الاقوامی قانون پر فخر کرتا ہے، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ طاقت کے ذریعے حاصل کی گئی سرزمینوں پر طویل قبضہ آج بھی جاری ہے، حالانکہ عالمی اصول
تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان نے ہتھیار اٹھائے، وہ بیرونی جارحیت کے جواب میں یا اپنی خودمختاری اور عوام کے دفاع کے لیے تھے۔ 1948ء ، 1965ء اور 1971 ء کی جنگوں سے لے کر