ویٹو کی زنجیروں میں جکڑی عالمی پنچائیت
جب فکر میں اضطراب جنم لیتا ہے تو اس کے بطن سے انتشار پیدا ہوتا ہے، اور جب یہی انتشار دل و دماغ پر قابض ہو جائے تو انصاف اور ناانصافی کے درمیان امتیاز کی صلاحیت مدہم پڑنے لگتی ہے،
جب فکر میں اضطراب جنم لیتا ہے تو اس کے بطن سے انتشار پیدا ہوتا ہے، اور جب یہی انتشار دل و دماغ پر قابض ہو جائے تو انصاف اور ناانصافی کے درمیان امتیاز کی صلاحیت مدہم پڑنے لگتی ہے،
جمہوری طرزِ حکمرانی کی اس درخشاں روایت میں، جہاں عوام کے منتخب نمائندے ایک باوقار اجتماع میں جمع ہو کر اقوام کی تقدیر کے نقوش ترتیب دیتے ہیں، پارلیمان ایک مقدس انجمن کی حیثیت رکھتی ہے،ایسی انجمن جہاں بحث و
انسان کے لئے اس دنیا میں اپنی جان سے بڑھ کر کوئی شے عزیز نہیں۔ اس کی حفاظت کی خاطر وہ ہر خطرے سے گزرنے اور ہر آزمائش کو سہنے کے لئے تیار رہتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ
انفارمیشن ٹیکنالوجی کی پیش رفت نے انسانی زندگی کو ایک ایسے مرحلے پر پہنچا دیا ہے جہاں اب وہ کام بھی انجام دئیے جا رہے ہیں جن کا چند دہائیاں پہلے تصور تک ممکن نہ تھا۔ ابتدا میں یہ ٹیکنالوجی
انسانی تاریخ کے طویل سفر میں افراد ہوں یا اقوام، ہمیشہ کچھ ایسی دلکش مگر نازک فریبِ نظرکےسہارےجیتے آئے ہیں جو ان کی جدوجہد کو معنی عطا کرتے اور ان کی اجتماعی خودداری کو سہارا دیتے ہیں۔ یہ خوش گمانیاں
آج کا پاکستان ایک ایسے عالم میں جہاں اضطراب اور کشمکش کی دھند چھائی رہتی ہے، امن کے ایک روشن مینار کی صورت ابھرا ہے۔ اسے وہ عزت و توقیر نصیب ہو رہی ہے جو اس کی جدید تاریخ میں
قوموں کی زندگی میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جب تقدیر ان کے عزم کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیتی ہے۔ ایسے لمحات محض اتفاق سے جنم نہیں لیتے۔ یہ مسلسل محنت، ایثار اور جدوجہد کا حاصل ہوتے ہیں۔
ایک ایسے عہد میں جب اطلاعات کی رفتار سچائی سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے، بلوچستان کا معاملہ محض ایک تنازع نہیں رہا بلکہ بیانیوں کا ایک ایسا میدان بن چکا ہے جہاں کچھ آوازیں حقیقت کی بنیاد پر
قومیں کسی ایک لمحے میں وجود میں نہیں آتیں اور نہ ہی وہ بغیر قربانی کے عزت و وقار کی بلندیوں تک پہنچتی ہیں۔ پاکستان کی داستان درحقیقت اخلاص، استقامت اور غیر متزلزل ایمان کی ایک زندہ تاریخ ہے۔ قائداعظم
طب کو ہمیشہ سے ایک مسیحائی پیشہ سمجھا گیا ہے،ایک ایسا مقدس عہد جو معالج اور مریض کے درمیان قائم ہوتا ہے، جہاں ڈاکٹر محض سائنس کا ماہر نہیں بلکہ رحمتِ الٰہی کا ایک وسیلہ بن کر سامنے آتا ہے۔