انسانی تاریخ کے طویل سفر میں افراد ہوں یا اقوام، ہمیشہ کچھ ایسی دلکش مگر نازک فریبِ نظرکےسہارےجیتے آئے ہیں جو ان کی جدوجہد کو معنی عطا کرتے اور ان کی اجتماعی خودداری کو سہارا دیتے ہیں۔ یہ خوش گمانیاں جو عادت ، مشترکہ یقین اورماضی کی فتوحات کی یادوں سے بُنی جاتی ہیں، قوموں کو باہم امن قائم رکھنے اور دنیا میں وقار حاصل کرنے کا حوصلہ بخشتی ہیں۔ یہی وہ سہارا ہیں جو ناامیدی کے اندھیروں کے مقابل ایک مضبوط دیوار بن کرکھڑے رہتےہیں اور اہلِ سیاست و عوام کو زندگی کی بےیقینیوں میں اعتماد کے ساتھ آگےبڑھنےکا حوصلہ دیتے ہیں لیکن جب یہ خوش فہمیاں ٹوٹنے لگتی ہیں،جب دنیا اب پرانی یقین دہانیوں کے تابع نہیں رہتی تو اخلاقی شکست ایک خاموش مگر ناگزیرحقیقت بن کرسامنے آتی ہے۔ وہ قوتیں جو کبھی ناقابلِ تسخیر سمجھی جاتی تھیں، اپنی محدودیتوں سے آشنا ہونےلگتی ہیں اور ان کی ہیبت رفتہ رفتہ ایک عارضی اور کمزور حقیقت میں بدل جاتی ہے۔
ایسا ہی ایک لمحہ حالیہ دنوں میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ پر بھی آن پڑا ہے۔ طویل عرصے تک جب بھی واشنگٹن نے کسی فوجی مہم کا ارادہ کیا یا کسی ناپسندیدہ حکومت کے خاتمے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا، اس کے روایتی اتحادی ہر دم اس کے شانہ بشانہ کھڑے دکھائی دئیے،چاہے وہ کھلی حمایت ہو، عملی معاونت یا پسِ پردہ سفارتی سہارا،مگر اب یہ روایت ایک فیصلہ کن انداز میں ٹوٹ چکی ہے۔ ایران کےحوالےسےحالیہ کشیدگی کے دوران امریکہ کے دیرینہ اتحادیوں،یورپ، نیٹو اور دیگراتحادوں نے نہایت واضح اور دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ وہ کسی ایسی فوجی کارروائی کی حمایت یا اس میں شرکت نہیں کریں گے جس کا مقصد ایرانی حکومت کا خاتمہ ہو۔ یہ انکار بند کمروں میں سرگوشیوں تک محدود نہ رہا بلکہ برملا اور مضبوط لہجے میں دنیا کے سامنے آیا۔یوں پہلی بارحالیہ تاریخ میں امریکہ خود کو اپنے قریبی اتحادیوں کے درمیان بھی سفارتی تنہائی کا شکار دیکھنے لگا اور اس کے اثرو رسوخ کی وہ حدیں عیاں ہو گئیں جو کبھی ناقابلِ سوال سمجھی جاتی تھیں۔
اس غیرمتوقع صورتِ حال میں ایران نے غیر معمولی بردباری اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔ اس نے اسرائیل اوراس کے طاقتور حامی کے مقابل ڈٹے رہتے ہوئے نہایت متوازن مگر پُرعزم دفاع کیاجس کے باعث اسےخطےاوردنیا کے کئی حلقوں میں ایک اخلاقی برتری حاصل ہوئی۔
ایک تنہا ہوتی ہوئی سپر پاور کا منظر، جو اپنی روایتی اتحادی قوتوں کو ساتھ ملانے میں ناکام رہی، عالمی تصورات میں ایک گہری اور خاموش تبدیلی کا سبب بنا ہے۔ امریکہ، جو کبھی اپنی عسکری طاقت اورعالمی معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت کے باعث خوف کی علامت سمجھاجاتاتھا، اب ایک ایسی قوت کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو بدلتی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے میں دشواری محسوس کر رہی ہے۔اس کے ردعمل میں واشنگٹن کے بعض حلقوں سے اپنے سابقہ اتحادیوں کے لیے دبے لفظوں میں تنبیہات بھی سامنے آئیں کہ آئندہ جب یورپ یا دیگر علاقوں میں بحران جنم لیں گے تو شاید امریکہ کی مدد اسی فراخ دلی سے میسر نہ ہو۔ تاہم یہ انتباہات، جو کبھی اثر انگیز ہتھیار ہواکرتےتھے، اب بےاثر محسوس ہوتے ہیں۔ اتحادی ممالک گویا اس راستے سے اکتا چکے ہیں جسے وہ اب مشترکہ مفاد اور سلامتی کا ضامن نہیں سمجھتے اور خاموشی سے اپنی خودمختار راہ اختیار کر رہے ہیں۔یہ دراڑخلیجی ممالک تک بھی پھیل گئی ہے، جن کی سلامتی کے معاملات طویل عرصے سے امریکی پالیسیوں سے جڑے رہے ہیں۔ ان ریاستوں نے واضح طور پر اعلان کیا کہ وہ اسرائیل کے مفادات کے لئے کسی تنازع میں شامل نہیں ہوں گی، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ خطہ اب بیرونی ایجنڈوں کا آلہ کار بننے سے گریزاں ہے۔ان تمام ترانکار کے باوجود امریکہ نے آبنائے ہرمز،جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے کےتحفظ کےلیےعالمی مدد کی اپیل کی، مگر اس درخواست کو بھی سرد مہری اور خاموشی کا سامنا کرنا پڑا۔ جو کام کبھی ایک اشارے سے ہو جاتا تھا، اب طویل سفارتی کوششوں کے باوجود نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکا۔
امریکہ کے اندر بھی ان حالات کے اثرات شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو کانگریس کے ارکان، عوامی حلقوں اور بااثر مبصرین کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ جو باتیں پہلے محض قیاس آرائی تھیں اب کھلے عام ان کے منصب سے ہٹائے جانے کے امکانات پر گفتگو ہو رہی ہے، چاہے وہ آئینی طریقوں سے ہو یا عوامی دباؤ کے ذریعے۔مزید برآں، ٹرمپ کی جانب سے پوپ لیو پر تنقید نے بھی ان کے خلاف ردعمل کو مزید شدید کر دیا ہےجس کے نتیجے میں وہ نہ صرف سیاسی بلکہ اخلاقی و مذہبی حلقوں میں بھی تنہائی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہےکہ ان کی خارجہ پالیسی نے امریکہ کی وہ غیر مرئی مگر نہایت قیمتی قوتیں،جیسے خوف، وقار اور اعتماد،کمزور کردی ہیں، جو دہائیوں کی محنت اور حکمتِ عملی سے حاصل کی گئی تھیں۔یوں غیر متنازع بالادستی کا وہ پرانا تصور جو کبھی امریکہ کی پہچان تھااب بکھرتا دکھائی دیتا ہے۔ کینیڈا جیسے قریبی اور دیرینہ دوست بھی بعض پالیسیوں سے فاصلہ اختیار کرتے نظر آتے ہیں جو اس بڑھتی ہوئی خلیج اور اتحادوں کی کمزوری کی ایک اور علامت ہے۔بعض مبصرین کے مطابق امریکہ اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیےایک ہی راستہ اختیار کر سکتا ہے؛ صدر ٹرمپ کو اقتدار سے ہٹانا، تاکہ عالمی سطح پر کھویا ہوا وقار کسی حد تک بحال کیاجاسکے۔ ان کے نزدیک یہی قدم امریکہ کو دوبارہ اعتماد اور سفارتی حیثیت دلانے میں مدد دے سکتا ہے۔ خوش فہمیاں،چاہے کتنی ہی دلکش کیوں نہ ہوں،زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتیں جب وہ بدلتی حقیقتوں سے مطابقت کھو بیٹھیں۔ممکن ہے کہ امریکہ کے لئے موجودہ صورتِ حال ایک مثبت موڑ ثابت ہو، اگر وہ اسے خود احتسابی اور حقیقت پسندی کی جانب لے آئے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غرور اور تکبر نے بڑی بڑی قوتوں کو زوال سے دوچار کیا ہے؛ دانائی اسی میں ہے کہ انسان اس لمحے کو پہچان لے جب پرانی یقین دہانیاں نئی حقیقتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ اس سبق کو سیکھتا ہے یا نہیں،مگر اتنا طے ہے کہ دنیا کی نظریں بدستور اس پر مرکوز ہیں، نہایت باریک بینی اور گہری توجہ کے ساتھ۔