(گزشتہ سے پیوستہ)
بعد ازاں کمانڈر میک گوناگل کو امریکہ کے سب سے بڑے عسکری اعزاز میڈل آف آنر سے نوازا گیا۔ تاہم یہ تقریب وائٹ ہاؤس کے بجائے واشنگٹن نیوی یارڈ میں خاموشی سے منعقد کی گئی، جسے وسیع پیمانے پر اس کوشش کے طور پر دیکھا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تناؤ کو کم رکھا جائے اور عوامی سطح پر بحث کو محدود کیا جائے۔ حملے سے بچ جانے والے افراد مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ یہ کارروائی دانستہ تھی۔ پیٹی آفیسر ارنی گیلو نے کہا تھا کہ جہاز کی شناخت بالکل واضح تھی، جبکہ ایک اور زندہ بچ جانے والے جو میڈرز نے اس واقعے کو‘‘سرد خون میں قتل ’’قرار دیا۔ کئی دہائیوں سے یہ آوازیں سرکاری مؤقف کو چیلنج کرتی آ رہی ہیں جس میں اس حملے کو محض ایک المناک غلطی قرار دیا گیا تھا۔
یو ایس ایس لبرٹی کے اس واقعے اور 2026 ء میں سامنے آنے والی موجودہ صورتحال کے درمیان مماثلتیں نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ دونوں مواقع پر ایک ابتدائی پرتشدد واقعہ نے عوامی رائے کو متاثر کرنے اور وسیع تر اسٹریٹجک مقاصد کے لئے فضا ہموار کرنے کا کام کیا۔ 1967 ء میں اس حملے نے ایک ایسے ممکنہ گواہ کو خاموش کر دیا جو جنگ کے بعض پہلوؤں کو بے نقاب کر سکتا تھا اور اس کے نتیجے میں امریکہ کے براہِ راست عربوں کے خلاف اس جنگ میں شامل ہونے اور ان سے ٹکراو کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا تھا۔ موجودہ بحران میں ایران پر عائد کئے گئے حملوں کے الزامات بظاہر ہمسایہ ممالک کو تہران کے خلاف متحرک کرنے اور جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش معلوم ہوتے ہیں۔
دوسری مماثلت اطلاعات کے استعمال میں نظر آتی ہے۔ لبرٹی کے واقعے میں’’غلط شناخت‘‘ کا مؤقف اس وقت بھی برقرار رکھا گیا جب اس کے برعکس شواہد موجود تھے۔ موجودہ صورتحال میں بھی ایران پر میزائل اور ڈرون حملوں کا الزام لگانے والا بیانیہ جدید تکنیکی اور تحقیقی جائزوں کے باعث سوالات کی زد میں آ رہا ہے۔ جب معلومات حقیقت کی عکاسی کے بجائے حکمتِ عملی کا ہتھیار بن جائیں تو دفاع اور فریب کے درمیان حدیں خطرناک حد تک دھندلا جاتی ہیں۔
تیسری مماثلت اس خاموشی میں پوشیدہ ہے جو اکثر ایسے واقعات کے بعد چھا جاتی ہے۔ حکومتیں اکثر غیر آرام دہ حقائق کو سفارتی مصلحتوں کے تابع کر دیتی ہیں جبکہ میڈیا کے بیانیے بھی اسٹریٹجک اتحادوں اور سیاسی مفادات کے تحت تشکیل پاتے ہیں۔ لبرٹی کے واقعے میں متاثرین کی جانب سے انصاف کی جدوجہد وقت کے ساتھ پس منظر میں چلی گئی کیونکہ مختلف امریکی حکومتیں اس معاملے کو دوبارہ کھولنے سے گریزاں رہیں۔ اسی طرح آج بھی عالمی ادارے ایسے طاقتور بیانیوں کو چیلنج کرنے سے ہچکچاتے دکھائی دیتے ہیں جو موجودہ جغرافیائی سیاسی شراکت داریوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
لیکن تاریخ محض واقعات کا ریکارڈ نہیں بلکہ تنبیہ بھی ہے۔ مصنوعی طور پر پیدا کیے گئے بحران اکثر اپنی حدود میں محدود نہیں رہتے۔ لبرٹی کا واقعہ امریکی فوجیوں اور ان کی سیاسی قیادت کے درمیان اعتماد پر ایک گہرا داغ چھوڑ گیا تھا۔ آج ترکی، آذربائیجان، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں مبینہ طور پر ترتیب دیے گئے حملوں کے الزامات پہلے ہی ایک ایسے تناؤ کو جنم دے چکے ہیں جو پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
جب سچائی اسٹریٹجک فریب کا پہلا شکار بن جائے تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور درحقیقت پوری عالمی برادری کو موجودہ بحران کا سامنا انتہائی احتیاط، شفافیت اور آزادانہ تحقیقات کے اصولوں کے ساتھ کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر دنیا ایک مرتبہ پھر اس المناک سلسلے کو دہراتی دیکھ سکتی ہے جس میں بدگمانی تصادم کو جنم دیتی ہے، تصادم جنگ میں بدل جاتا ہے، اور تاریخ کے اسباق اس وقت سیکھے جاتے ہیں جب نقصان ناقابلِ تلافی ہو چکا ہوتا ہے۔