اردو میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ چور چوری چھوڑ سکتا ہے مگر ہیر پھیر اور فریب کاری نہیں چھوڑتا۔ یہ پرانی کہاوت آج کی عالمی سیاست کے منظرنامے میں غیر معمولی طور پر صادق آتی محسوس ہوتی ہے۔ خلیج کے خطے میں اس وقت ایک خطرناک کشمکش جنم لے چکی ہے جس میں بظاہر امریکہ اور اسرائیل ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں، جبکہ اسی کے ساتھ خطے کے دیگر ممالک میں بالواسطہ دباؤ اور کشیدگی کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ اس محاذ آرائی کا ظاہر اور پوشیدہ مقصد ایران کے سیاسی نظام کو کمزور کرنا یا بالآخر اسے زوال سے دوچار کرنا معلوم ہوتا ہے۔ تاہم مسلسل سیاسی، عسکری اور نفسیاتی دباؤ کے باوجود اب تک یہ مقصد حاصل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
اس کے برعکس اس بحران نے ایران کے اندر انتشار پیدا کرنے کے بجائے ایک مختلف نتیجہ پیدا کیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی معاشرے میں جذباتی اور سیاسی اتحاد کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ خطے میں گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق انہیں سیکورٹی مشیروں کی جانب سے مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اپنی حفاظت کے لئے کسی مضبوط بنکر میں منتقل ہو جائیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس مشورے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ وہ آزمائش کی اس گھڑی میں اپنی قوم کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ اس واقعے کو خواہ علامت سمجھا جائے یا قربانی، اس نے ایران کے اندر قومی یکجہتی کے جذبے کو مضبوط کیا ہے اور ان کے مخالفین کی حکمتِ عملی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
جب متوقع سیاسی انہدام رونما نہ ہو سکا تو کشیدگی کا دائرہ دوسرے رخ اختیار کرنے لگا۔ حالیہ ہفتوں میں آذربائیجان، سعودی عرب، ترکی اور مشرقِ وسطیٰ و خلیج کے دیگر ممالک میں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی الزامات فوری طور پر ایران کی طرف اشارہ کرتے تھے، جس کے نتیجے میں ہمسایہ ریاستوں کے درمیان بدگمانی اور تشویش کی فضا پیدا ہو گئی۔ اگر ایسے الزامات کو بغیر تحقیق کے تسلیم کر لیا جائے تو وہ خطے کی طاقتوں کو ایران کے خلاف ایک وسیع عسکری اتحاد میں دھکیل سکتے ہیں، جس سے محدود کشیدگی ایک بڑے جنگی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
تاہم ڈیجیٹل نگرانی، سیٹلائٹ انٹیلی جنس اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ بیانیہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا ہے۔ مختلف تکنیکی ذرائع سے ہونے والی تحقیقات نے یہ اشارے دیے ہیں کہ ممکن ہے ایران ان حملوں کا ذمہ دار نہ ہو۔ ابھرنے والی بعض اطلاعات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ شاید شواہد کو من گھڑت انداز میں پیش کرنے اور خطے کی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی ایک منظم کوشش کی گئی ہو۔ اگر یہ شواہد درست ثابت ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ حملے ایران کی جوابی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسی حکمتِ عملی کا حصہ تھے جس کا مقصد ہمسایہ ممالک کو اس جنگ میں دھکیلنا تھا۔
جغرافیائی سیاست کے سائے میں تاریخ اکثر خود کو دہراتی ہے،کبھی طنز کے طور پر نہیں بلکہ ایک خوفناک منظرنامے کی صورت میں جس میں کردار بدل جاتے ہیں مگر محرکات وہی رہتے ہیں۔ تقریباً چھ دہائیاں قبل پیش آنے والا ایک تاریخی واقعہ اس صورتِ حال سے حیران کن مماثلت رکھتا ہے۔ 8 جون 1967ء کو عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان چھ روزہ جنگ کے دوران امریکی بحریہ کا انٹیلی جنس جہاز یو ایس ایس لبرٹی جزیرہ نما سینائی کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں موجود تھا۔ یہ جہاز واضح طور پر نشان زد تھا اور جنگی کارروائی کے لئے استعمال نہیں ہو رہا تھا، لیکن اچانک اسرائیلی لڑاکا طیاروں اور ٹارپیڈو کشتیوں نے اس پر شدید حملہ کر دیا۔
یہ حملہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ جب یہ ختم ہوا تو چونتیس امریکی فوجی ہلاک اور ایک سو اکہتر زخمی ہو چکے تھے۔ جہاز پر واضح طور پر لہراتا ہوا امریکی پرچم موجود تھا اور بار بار شناختی سگنل بھی بھیجے گئے، اس کے باوجود حملہ غیر معمولی درستگی کے ساتھ جاری رہا۔ جہاز کا بچ جانا بڑی حد تک اس کے کپتان کمانڈر ولیم ایل میک گوناگل کی غیر معمولی جرات کا نتیجہ تھا۔ حملے کے ابتدائی مرحلے میں شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ جہاز پر اپنے مقام پر ڈٹے رہے اور جہاز کے عملے کو ہدایات دیتے رہے جبکہ تباہ حال جہاز سمندر میں ڈوبنے سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ان کی قیادت نے بالآخر جہاز کو غرق ہونے سے بچا لیا۔
(جاری ہے)