Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

واشنگٹن کے فیصلے اور دنیا کی جنگیں

(گزشتہ سےپیوستہ)
1950ء میں صدر ہیری ایس ٹرومین نے کوریا میں مداخلت کا فیصلہ کیا۔ اس تنازع کو باضابطہ جنگ کے بجائے اقوام متحدہ کے تحت ایک‘‘پولیس ایکشن’’قرار دیا گیا، لیکن اس میں بڑے پیمانے پر فوجی لڑائی شامل تھی۔ بعد ازاں صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور نے اس جنگ کے خاتمے کی نگرانی کی اور اسی دوران ویتنام میں امریکی مداخلت کے ابتدائی آثار بھی ظاہر ہوئے۔
ویتنام جنگ نے بعد میں ایک طویل اور پیچیدہ شکل اختیار کر لی۔ 1964ء میں خلیج ٹونکن کی قرارداد کے بعد صدر لنڈن بی جانسن نے شمالی ویتنام کے خلاف وسیع فوجی کارروائیوں کی اجازت دی۔ یہ جنگ کئی برسوں تک جاری رہی اور بالآخر صدر رچرڈ نکسن کے دور میں 1973ء کے پیرس امن معاہدوں کے بعد امریکہ کی براہِ راست شرکت کا خاتمہ ہوا۔ اس تجربے نے یہ واضح کر دیا کہ باضابطہ اعلانِ جنگ کے بغیر بھی عسکری مداخلتیں طویل اور مہنگے تنازعات میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
بعد کے عشروں میں بھی امریکی صدور نے مختلف خطوں میں فوجی طاقت کا استعمال کیا۔ 1990ء میں جب عراق نے کویت پر قبضہ کیا تو صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے خلیجی جنگ میں حصہ لیا۔ ان کے صاحبزادے صدر جارج ڈبلیو بش نے 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان میں جنگ کا آغاز کیا اور 2003ء میں عراق کے خلاف بھی فوجی کارروائی شروع کی۔ صدر براک اوباما نے ان دونوں محاذوں پر کارروائیاں جاری رکھیں اور 2011ء میں لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت کے خلاف فوجی مداخلت کی منظوری دی۔
ان بڑی جنگوں کے علاوہ کئی محدود نوعیت کی مداخلتیں بھی ہوئیں۔ صدر رونالڈ ریگن نے 1983ء میں گریناڈا پر حملے کا حکم دیا اور 1986ء میں لیبیا پر فضائی حملے کروائے۔ صدر بل کلنٹن نے 1999ء میں کوسووو میں نیٹو کی فضائی کارروائی کی منظوری دی جبکہ عراق کے خلاف بھی متعدد عسکری آپریشن کیے گئے۔ بعد ازاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017ء اور 2018ء میں شام میں حکومتی اہداف پر میزائل حملوں کا حکم دیا۔ یہ اقدامات اگرچہ جنگ کے بجائے مداخلت کے نام سے جانے گئے، لیکن انہوں نے صدارتی اختیارات کے بڑھتے ہوئے دائرے کو نمایاں کر دیا۔
یہ رجحان موجودہ دور میں بھی جاری ہے۔ 28 فروری 2026ء کو ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کیں۔ اس مہم کو امریکہ نے‘‘آپریشن ایپک فیوری ’’جبکہ اسرائیل نے‘‘آپریشن رورنگ لائن’’کا نام دیا۔ کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی، تعطل کا شکار جوہری مذاکرات اور ایران کی علاقائی سرگرمیوں کے الزامات کے بعد شروع ہونے والی ان کارروائیوں میں جدید ہتھیاروں، کروز میزائلوں، اسٹیلتھ طیاروں، اسٹریٹیجک بمباروں اور ڈرونز کے ذریعے ایران کے مختلف عسکری اور دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں تہران بھی شامل تھا۔
ان کارروائیوں نے واشنگٹن میں آئینی بحث کو بھی جنم دیا۔ کانگریس کے متعدد ارکان کا مؤقف تھا کہ آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے اور اس نوعیت کی طویل فوجی کارروائیوں کے لیے قانون ساز ادارے کی واضح منظوری ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے بعض قانون سازوں نے ایسی قراردادیں پیش کیں جن کا مقصد صدارتی اختیار کو محدود کرنا تھا۔
تاہم کانگریس کے دونوں ایوانوں نے بالآخر ان قراردادوں کو مسترد کر دیا۔ سینیٹ نے 53 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے صدارتی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا، جبکہ ایوانِ نمائندگان نے بھی 219 کے مقابلے میں 212 ووٹوں سے اسی نوعیت کی ایک قرارداد کو رد کر دیا۔ ان فیصلوں نے امریکی سیاست میں جنگی اختیارات اور صدارتی طاقت کے حوالے سے گہری سیاسی تقسیم کو نمایاں کر دیا۔
دوسری طرف اس عسکری کشیدگی کے اثرات خطے میں بھی محسوس کیے جانے لگے۔ ایران نے خلیج میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور علاقائی شراکت داروں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دیا، جن میں بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل تھے، جبکہ اسرائیل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس طرح کارروائی اور ردعمل کا سلسلہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ علاقائی کشیدگی کسی بڑے تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
یہ تمام واقعات ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو زندہ کر دیتے ہیں کہ طاقت اور ضبط کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔ امریکی صدارت جدید دنیا کے بااثر ترین سیاسی مناصب میں شمار ہوتی ہے۔ اوول آفس میں کیے گئے فیصلے نہ صرف عالمی سیاست کی سمت بدل سکتے ہیں بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت اگرچہ رہنماؤں کو فوری اقدام کی طرف مائل کرتی ہے، لیکن حقیقی قیادت اس دانش میں مضمر ہوتی ہے جو ضرورت اور خواہش کے درمیان فرق کو پہچان سکے۔ بالآخر کسی بھی مدبر کی اصل میراث ان جنگوں سے نہیں بلکہ اس امن سے متعین ہوتی ہے جسے وہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں