مسئلہ کشمیر کا تاریخی پس منظر اور موجودہ صورتحال
کشمیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہے جہاں سب سے پہلے مسلمان حکومت آٹھویں صدی ہجری میں قائم ہوئی اور شاہ میر نے ۷۴۰ھ مطابق ۱۳۳۹ء میں سلطان شمس الدین اول کے لقب کے ساتھ اسلامی اقتدار کا آغاز کیا۔ اس
کشمیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہے جہاں سب سے پہلے مسلمان حکومت آٹھویں صدی ہجری میں قائم ہوئی اور شاہ میر نے ۷۴۰ھ مطابق ۱۳۳۹ء میں سلطان شمس الدین اول کے لقب کے ساتھ اسلامی اقتدار کا آغاز کیا۔ اس
(گزشتہ سے پیوستہ) اسی طرح ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرمؐ کا معمول تھا کہ رات کو سونے سے پہلے آخری تین سورتیں جو ’’معوذات‘‘ کہلاتی ہیں یعنی، قل ھو اللّٰہ احد، قل اعوذ برب الفلق اور
(گزشتہ سے پیوستہ) اس سلسلہ میں اس بات پر غور کر لیجئے کہ رحمتیں اور برکتیں لے کر فرشتے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ کام عالم اسباب کے درجے میں انہی کے سپرد کر رکھا ہے، مگر ہمارے
قرآن کریم ہم پڑھتے بھی ہیں سنتے بھی ہیں اور کچھ نہ کچھ یاد بھی کرتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم قرآن کریم کو کس غرض اور مقصد کے لیے پڑھتے ہیں اور اسے اصل میں کس مقصد کے
(گزشتہ سے پیوستہ) پہلی بات یہ ہے کہ ہم شراب نہیں چھوڑ سکیں گے اس لیے کہ ہمارے ہاں انگور کثرت سے پیدا ہوتا ہے اور ہماری معیشت کا زیادہ تر دارومدار اسی پر ہے اس لیے شراب بنانا اور
یہ محفل علماء کرام کی ہے اور موجودہ حالات میں ان کی ذمہ داریوں پر گفتگو اس کنونشن کا خصوصی موضوع ہے۔ جہاں تک علماء کرام کے حوالہ سے موجودہ صورتحال کا تعلق ہے، مجھے ’’چومکھی لڑائی‘‘ کا محاورہ یاد
(گزشتہ سےپیوستہ) مگر یہ بات تاریخی طور پر طے شدہ ہے کہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات اور عام شہریوں کے حقوق اور ان کی بنیادی ضروریات کی طرف مغرب کے معاشرتی انقلاب سے صدیوں پہلے جناب نبی اکرمؐ نے
آج کا دور انسانی حقوق کا دور کہلاتا ہے اور مغرب کا دعوٰی ہے کہ اس نے دنیا کو انسانی اقدار اور انسانی حقوق سے متعارف کرایا اور نسل انسانی کے مختلف طبقات بالخصوص کمزور طبقوں کو حقوق کا شعور
میزبان کا پہلا سوال صحابہ کرامؓ کے قرآن کریم کے ساتھ تعلق کے بارے میں تھا جس پر گفتگو کا آغاز حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس ارشاد گرامی سے کیا کہ ’’جو آدمی کسی
(گزشتہ سے پیوستہ) اس کی مثال یوں سمجھ لیجئے کہ قانون سے واقف ہونا ملک کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور کسی ملک کی کوئی عدالت کسی قانون شکنی کرنے والے کا یہ عذر قبول نہیں کرتی کہ