Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

اہرام ہائے مصر اور سائنس کی بے بسی

اہرام مصر دیکھنے والوں کو ورطہ حیرت میں ڈالتے ہیں۔ انہیں دیکھ اور سوچ کر انسان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان کے لئے کوئی بھی بڑے سے بڑا شاہکار تعمیر کرنا ناممکن نہیں ہے۔ اہرام مصر کے بارے میں ابھی یہ تک معلوم نہیں ہوا کہ ان کی تعمیر کیسے ممکن ہوئی؟ دنیا بھر کے سائنس دان، محققین، تاریخ دان، سیاح اور عام لوگ ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ یہ دیوہیکل اہرام کیوں اور کس طرح تعمیر کئے گئے۔ اسی لئے اہرام مصر کو دنیا کا پہلا ’’عجوبہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
دنیا میں کل 7 عجوبے شمار کیئے جاتے ہیں جو ساتوں کے سات اب تک کی معلوم انسانی تاریخ میں تعمیر کئے گئے عظیم ترین نمونے ہیں۔ اسی لئے انہیں زمان قدیم کی فہرست کے مطابق 7 عجائبات عالم کہا جاتا ہے جن میں اہرام ہائے مصر ابھی تک قائم ہیں۔ دیگر 6 عجوبوں میں بابل کے معلق باغات، ارٹیمس کا مندر، زیوس کا مجسمہ، موسولس کا مزار، رہوڈز کا مجسمہ اور اسکندریہ کا روشن مینار شامل ہیں۔ جدید فہرست میں ’’دیوار چین‘‘ اور ’’تاج محل‘‘ کو بھی ان سات عجوبوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ قدیم فہرست کی ان تمام عمارتوں میں سے صرف اہرام مصر اب تک قائم ہیں۔ جبکہ بابل کے باغات (جنہیں ’’ہینگنگ گارڈنز‘‘ بھی کہا جاتا ہے) کی تاحال موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ بقیہ 5 عجائبات قدرتی آفات کا شکار ہو کر تباہ ہوئے۔ ارٹیمس کا مندر اور زیوس کا مجسمہ آتش زدگی اور اسکندریہ کا روشن مینار، روڈس کا مجسمہ اور موسولس کا مزار زلزلے کا شکار ہوئے۔ موسولس کے مزار اور ارٹیمس کے مندر کی چند باقیات لندن کے برٹش میوزیم میں آج بھی موجود ہیں۔
ان عجائبات کی یہ قدیم فہرست 305 سے 204 قبل مسیح کے دوران ترتیب دی گئی تھی۔ تاہم مذکورہ فہرست زمانے کی دست برد کی نظر ہو گئی۔ ان 7 عجائبات کا ذکر 140 قبل مسیح کی ایک نظم میں ملتا ہے۔ اصل میں مذکورہ یونانی فہرست میں انھیں عجائبات قرار نہیں دیا گیا تھا بلکہ انہیں ایسے مقامات قرار دیا گیا تھا جنہیں ضرور دیکھنا چایئے۔ اصل فہرست جسے ہم قدیم دنیا کے عجائبات کے نام سے جانتے ہیں وہ قرون وسطی کی تیار کردہ ہے جب ان میں سے اکثر عمارتیں اپنا وجود کھو چکی تھیں۔
دنیا میں سائنسی انقلاب کے بعد سائنس دانوں کی کئی ٹیموں (جن میں پاکستان کے ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی شامل تھے) نے اہرام ہائے مصر کے حیرت انگیز فن تعمیر کا راز معلوم کرنے کی پوری کوشش کی مگر وہ آج تک اسے سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ کئی ٹن وزنی پتھروں کو اتنی اونچائی تک کیسے لے جایا گیا تھا جبکہ اس وقت جدید کرینیں بھی ایجاد نہیں ہوئی تھیں۔ یہ مصری اہرام دنیائے قدیم کی اعلی سائنسی ترقی کے ٹھوس اور جیتے جاگتے ثبوت ہیں۔ وہ کونسی سائنس تھی اور کیسے کام کرتی تھی ابھی یہ راز کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اہرام کے ان عظیم مقبروں کی اہمیت پچھلے ایک ہزار سالوں سے دنیا بھر کے سائنس دانوں، علما، صوفیا اور تاریخ دانوں کے درمیان موضوعِ بحث رہی ہے۔ ان کے مباحثے کا زیادہ تر محور و مرکز مصر کا سب سے بڑا اہرام ’’شی اوپس یا چیوپس کا عظیم اہرام‘‘ رہا ہے۔ یہ تراشیدہ سنگی چٹانوں کا وہ دیوہیکل نمونہ ہے جو ہزاروں برسوں سے انسانی ادراک و اذہان کے لئے ایک لاینحل معمہ اور ناقابلِ تسخیر چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج بھی جب کہ انسان نے خلا کی وسعتوں اور سمندر کی گہرائیوں تک کو کھنگال ڈالا ہے شی اوپس کا یہ عظیم اہرام پہلے ہی کی طرح کھڑا ہے اور جدید سائنس اور سائنس دانوں کو حیرانی میں ڈالے ہوئے ہے۔
اہرام کی ساخت و تعمیر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کام میں کسی اور دنیا کی مخلوق کا تعاون حاصل رہا ہو گا جو کشش ثقل کو توڑ کر اتنے وزنی پتھروں کو آسانی سے حرکت دے سکتی تھی۔ اہرام کے سربستہ رازوں کو جدید سائنس ابھی تک نہیں سمجھ پائی ہے۔ نئی دریافتیں، نئے انکشافات، نئی معلومات، وسیع تحقیقات و مطالعات نے اس اہرام کے بارے میں کئی پختہ نظریات و افکار کو زمین بوس کر رکھا ہے۔ ’’یورپین اوکلٹ ریسرچ سوسائٹی‘‘ کے بانی اور سابق صدر گنتھر روزن برگ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ’’سائنس دانوں نے حال ہی میں شی اوپس کا کمپیوٹر سے مطالعہ کیا تو بیشتر ماہرین حیرت و استعجاب کا مجسمہ بن کر رہ گئے۔ فی الحال ہم اس بارے میں قطعی تاریکی میں ہیں کہ یہ اہرام کن لوگوں نے بنائے تھے، کیوں بنائے تھے اور آخر ان کے وجود کا سبب کیا تھا۔‘‘ بہرحال تازہ ترین معلومات نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ یہ اہرام قدیم اور انتہائی ترقی یافتہ سائنسی تخلیقات کا مظہر ہیں اور یہ انتہائی ترقی یافتہ سائنس حضرت عیسی کی پیدائش سے ہزاروں سال قبل پوری دنیا پر غالب تھی۔ اہراموں کے معمار کائنات کے بیشتر سربستہ رازوں سے واقف تھے۔ وہ اعلی ترین ریاضی کا ادراک رکھتے تھے۔ دنیا کے جغرافیہ کے بارے میں ان کا علم حیرت انگیز تھا۔ تعمیرِ اہرام کے مطالعہ اور تحقیقات سے حاصل شدہ حقائق میں سے چند ایک کو خلائی سائنس دان ثابت کرنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ ہمیں نصابی کتب اور انسانی تاریخ کو ازسرنو مرتب کرنا پڑے گا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں