(گزشتہ سے پیوستہ)
قاہرہ سے چند میل جنوب کی جانب واقع غزہ گیزا کا میدان ہے۔ یہ علاقہ جو امریکہ کے کسی بھی اوسط درجے کے فارم سے زیادہ وسیع نہیں ہے بلاشبہ دنیا کی وسیع اور پراسرار ترین جاگیر ہے۔ حیرت انگیز ابوالہول اور دیگر اہرام اس بے آب و گیاہ میدان میں صدیوں سے اسی طرح ایستادہ ہیں۔ اسی ویرانے میں عظمت رفتہ کی انمٹ دلیل کا نمائندہ وہ ’’شی اوپس کا اہرام‘‘ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس اہرام کو فرعون شی اوپس کے مقبرے کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ شی اوپس حضرت عیسی کی پیدائش سے تین ہزار سال قبل بڑے کروفر سے حکمرانی کرتا تھا۔ اہرام شی اوپس کی محض جسامت ہی کسی سیاح کے لیے انتہائی حیرت و استعجاب کا باعث ہے۔
ایک مصری محقق اور پروفیسر لکھتا ہے کہ ’’بنیادی طور پر اس اہرام کی بلندی 385 فٹ ہے۔ یہ اہرام تیرہ ایکڑ رقبے پر محیط ہے جو شکاگو یا لندن زیریں کے تقریباً آٹھ مربع بلاکوں کے مساوی ہے۔ ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ اس اہرام کی تعمیر میں پتھروں کی پچیس لاکھ سلیں استعمال کی گئی ہیں۔ ان میں سے ہر سل کا وزن تین ٹن سے نوے ٹن تک ہے۔ چند ایک بلاکوں کا وزن چھ سو ٹن تک بھی ہے۔‘‘ جب نپولین مصر میں تھا تو اس نے تخمینہ لگوایا تھا کہ صرف اس ایک اہرام میں اس قدر پتھر استعمال ہوئے ہیں کہ ان سے پورے فرانس کے گرد دس فٹ اونچی اور ایک فٹ موٹی دیوار تعمیر کی جا سکتی ہے یا اگر ان پتھر کی سلوں کو ایک فٹ کی سلوں میں کاٹ لیں تو پھر یہ چھوٹے بلاک پوری دنیا کے گرد ایک زنجیر بنانے کے لئے کافی ہوں گے۔’’جہاں تک انسانی توانائی اور تعمیراتی سامان کا تعلق ہے تو اس اہرام کو اس صدی کی تیسری دہائی میں امریکہ میں دریائے کولیریڈو پر ہوور ڈیم کی تعمیر سے پہلے دنیا کی تمام تعمیرات پر برتری حاصل تھی۔ درحقیقت آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ایک بھی تعمیراتی کمپنی ایسی نہیں ہے جو ایسا اہرام دوبارہ بنا سکے۔ پروفیسر نے کہا یاد رکھیں! اہرام شی اوپس کے اندر اتنی وسعت ہے کہ اس میں روم، میلان اور فلورنس کے تمام گرجا گھر سما سکتے ہیں اور پھر بھی اتنی گنجائش باقی رہتی ہے کہ نیویارک کی ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ، ویسٹ منسٹر، سینٹ پال کیتھا ڈرل اور انگلش ہائوس آف پارلیمنٹ کی عمارات بھی اس میں آ سکتی ہیں۔ اس اہرام میں استعمال شدہ تعمیراتی سامان حضرت عیسیؑ کی پیدائش سے لے کر آج تک انگلینڈ میں تعمیر کئے گئے تمام گرجا گھروں کے برابر ہے۔ دنیا بھر کی مشینیں مل کر بھی اس اہرام کو اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتیں ہیں کیونکہ یہ ناقابلِ یقین حد تک بھاری یعنی ساڑھے چھ ملین ٹن (65 لاکھ ٹن) وزنی ہے۔ راہداریوں، تدفینی ہالوں اور غیردریافت شدہ مکانوں اور پوشیدہ کمروں کے علاوہ یہ اہرام مکمل طور پر ٹھوس پتھروں کا بنا ہوا ہے۔
اس اہرام کی بیرونی سطح کی سلیں ایک دوسرے کے ساتھ اس قدر مہارت سے جڑی ہوئی ہیں کہ ایک عام لوہے کی باریک سوئی بھی اس کے اندر نہیں جا سکتی ہے، سو سو ٹن وزنی پتھر ایسی نفاست سے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں کہ ان کے درمیان جوڑ کی لائن تلاش کرنا محال ہے۔ ایک عرب تاریخ دان ’’ابو زید بلخی‘‘ کا بیان ہے کہ بیرونی پتھروں پر کسی قدیم زبان کے حروف کندہ تھے جن سے پتا چلتا ہے کہ ان اہراموں کی تعمیر کا زمانہ وہ ہے جب لائر سرطان کے جھرمٹ میں تھا۔ اس حساب سے یہ 83000 سال پہلے کی بات ہے۔ اکثر سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ یہ اہرام فرعون شی اوپس کے زمانے میں ہی تعمیر کیا گیا تھا۔ ان سائنس دانوں کا دعوی ہے کہ شی اوپس نے اپنی تمام رعایا کو مشقتی(لیبر) کے طور پر غلام بنا رکھا تھا۔
ایک مصری ماہر اہرامیات لکھتا ہے: میرے قدیم آبائو اجداد نے دستی اوزاروں کی مدد سے پتھر کی کانوں میں سے ان جناتی سلوں کو تراشا اور انہیں وسیع صحرا میں گھسیٹتے ہوئے یہاں تک لائے یا دریاے نیل سے تیراتے ہوئے غزہ تک پہنچایا پھر انہیں ریگستان میں کھینچتے ہوئے اس اہرام کی تعمیر میں استعمال کیا۔حالانکہ ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے۔ قدیم زمانے کے لوگ اس قدر ناقابلِ یقین حد تک درستی کے ساتھ یہ عمارت تعمیر نہیں کر سکتے تھے۔
تاریخی تخمینے کے مطابق فرعون شی اوپس کے دورِ حکومت میں مصر کی آبادی دو کروڑ تھی۔ ذرا اس اہرام کی تعمیر کے سلسلے میں انسانی فن نقل و حمل کے بارے میں سوچئے۔ ان تعمیراتی مسائل پر قابو پانے کے لئے دس لاکھ سے زیادہ افراد کی ضرورت تھی۔ انہیں پتھر کی کانوں اور پھر اس مقام تک لے جانا تھا جہاں اہرام تعمیر ہونا تھا۔ انہیں سپاہیوں اور نگرانوں کی ضرورت تھی۔ ان کے پاس کھانے پینے کا کیا بندوبست تھا؟ وہ لوگ رات کو کہاں سوتے تھے؟ یہ تو ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ رات بھر صحرا ہی میں گزارتے ہوں۔ پھر وہاں ہزاروں مزدوروں اور مستریوں کے علاوہ ایسے انجینئروں اور فورمینوں کے ایک عظیم گروپ کی بھی ضرورت تھی جو اس پورے پروجیکٹ کی نگرانی کر سکتے۔
انسانی تاریخ کا کوئی دور کسی دوسرے قدیم یا جدید دور سے زیادہ اہم نہیں ہوتا۔ اہرام مصر اس حقیقت کی واضح مثال ہیں انسان کے لیئے کوئی بھی بڑی تعمیر یا کوئی بھی دوسرا سائنسی عجوبہ سرانجام دینا ناممکن نہیں ہے۔ انسانی تہذیب ہر دور کی انسانی جدوجہد اور تخلیقی صلاحیتوں کا نتیجہ ہے۔ انسانی محنت اور ترقی کا یہ سلسلہ آج بھی جاری یے اور آئندہ بھی ہمیشہ جاری رہے گا۔