Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

گداگری کا قومی مسئلہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
لیکن مجال ہے کہ کسی بھی حکومت نے اس بھیانک قومی مسئلہ کے بارے میں کبھی بھی سنجیدگی سے سوچا ہو۔ پاکستان میں 1970ء سے آج تک قرضے لے کر معاف کرانے والے سیاسی خاندانوں کی لسٹیں کبھی پبلک کی گئی ہیں اور نہ ہی کبھی ان کی جائیدادوں کو ضبط کیا گیا ہے۔ قرضے لے کر معاف کرانا ’’بھکاری پن‘‘کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے، جس کی خود ’’اشرافیہ‘‘ مرتکب ہوتی آ رہی ہے۔ ایک معاصر صحافی نے ماضی قریب میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کے تانبہ کے ذخائر سے 6000 ارب ڈالر کا تانبہ شمالی وزیرستان سے چین بھیجا گیا جبکہ پاکستان کا قرضہ صرف 200 ارب ڈالر ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ پیسہ آخر کہاں گیا اور وہ کون ’’بھکاری‘‘ہڑپ کر گئے؟ پورے انگلینڈ میں صرف 86 سرکاری گاڑیاں ہیں جبکہ صرف اسلام آباد میں 90 ہزار سرکاری گاڑیاں ہیں۔ صدر سے لے کر ایم پی اے اور ایم این اے کے منشیوں اور بیوروکریسی کے چپڑاسیوں تک آرام دہ سرکاری گاڑیوں میں مفت گھومتے ہیں۔ ان سب کی بجلی، گیس، ہزاروں لٹر کا فیول، سینکڑوں سیکورٹی گارڈز اور پروٹوکول کے نام پر درجنوں گاڑیاں، کچن کے نام پر کروڑوں روپے، اور باہر کے ملکوں میں دوروں کے دوران درجن بھر افراد ساتھ لے کر سیر سپاٹے کرنا اور قومی خزانے سے حج عمر کروانا کون سے ملک کا قانون ہے؟ ہفتہ بھر سے سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ پنجاب کی وزیر اعلی محترمہ مریم نواز شریف نے سرکاری زیر استعمال گاڑیوں کے ٹائروں کی شکل میں تقریباً3 کروڑ اور ہیلی کاپٹر کی خریداری پر لگ بھگ 4 ارب روپے کی رقم خرچ کی ہے۔ اس نوع کے سرکاری اخراجات پورے سالانہ بجٹ کا 50 فیصد سے بھی زیادہ بنتے ہیں جس کا بلآخر بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے جسے ٹیکس لگا کر پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس طرز کی کرپشن نے ہی گداگری کی لعنت کی حوصلہ افزائی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے کہ نہ صرف یہ مفت خوری نما گداگری ملک بھر میں تیزی سے پھیلی ہے بلکہ اسے ملک سے باہر بھی پروموٹ کیا گیا ہے۔ اس کے پیچھے ایک بہت بڑا مافیہ سرگرم عمل ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں گداگروں کو ایکسپورٹ کیا جاتا ہے جو شاپنگ سنٹرز، دکانوں، سڑکوں اور مسجدوں کے باہر بھیک مانگتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے لاہور کی پی آئی اے کی فلائٹ سے سعودی عرب جانے والے گداگروں کو نیچے اتارا گیا تھا۔ اس سے پہلے سعودی حکومت نے بھی کچھ پاکستانی بھکاریوں کو پکڑ کر ڈی پورٹ کیا تھا۔ اب یہ بھی اطلاع ہے کہ سعودی عرب نے پاکستانیوں کے ویزوں پر پابندی لگا دی ہے۔ میں نے دبئی میں بھی کثیر تعداد میں جوان خواتین کو بھیک مانگتے دیکھا ہے جن میں کچھ معصوم بچوں کو اٹھائے ہوئے ہوتی ہیں۔ بعض خوبصورت اور جوان لڑکیاں بھی اس دھندے میں ملوث ہیں جو مختلف فلیٹوں اور ویلوں وغیرہ میں گھر کے دروازے پر بیل دے کر بھیک مانگتی ہیں۔ ان لڑکیوں کو لانے والے گروہ ایک ایک بھکاری لڑکی سے دو سو سے تین سو درہم تک ایک دن کا لیتے ہیں۔ یہ لڑکیاں اس سے اوپر جو کماتی ہیں وہ ان کا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بھکاری ’’دلال‘‘سے تنخواہ اس کے علاوہ لیتی ہیں۔ ان کو لانے والے یہ بدقماش لوگ ان کے ویزہ، ٹکٹ اور رہائش کا انتظام کرتے ہیں اور بعد میں ان سے ہزاروں درہم ماہانہ کماتے ہیں۔ پاکستان میں بھکاری خواتین، بچے، مرد اور بوڑھے بھی گھروں کے دروازوں پر جا کر بھیک مانگتے ہیں۔ ان بھکاریوں کی اکثریت شہروں اور دیہاتوں میں موٹے کپڑے کے ٹینٹوں میں رہتی ہے جنہیں پنجابی میں ’’پکھی واس‘‘ یا ’’اوڈ‘‘ کہتے ہیں۔ ان میں اکثر گداگر گھروں کی ریکی کرتے ہیں اور بعد میں انہی خیرات دینے والے گھروں میں چوریاں اور ڈکیتیاں بھی کرتے ہیں۔
خاص طور بیرون ملک میں ان بھکاریوں کی وجہ سے پاکستانیوں کے وزٹ اور ایمپلائمنٹ ویزوں پر پابندی بھی لگائی گئی ہے جس میں متحدہ عرب امارات سرفہرست ہے۔ پاکستان کے کم و بیش 30 اضلاع کے باشندوں کا داخلہ متحدہ عرب امارات میں بند کیا جا چکا ہے۔ یہاں پاکستان کے لیبر کے ویزوں پر 6 ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا پہلے ہی اس وجہ سے پابندی لگی ہوئی یے۔ گداگری کے اس مکروہ پیشہ کی وجہ سے خلیجی ممالک میں پاکستان بری طرح بدنام ہو رہا ہے۔ اس سے قبل ان ممالک میں پاکستانی ورکروں کی بہت عزت اور ڈیمانڈ تھی۔ اب آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا ہے کہ یہاں ہم اچھے بھلے خارجی پاکستانیوں کے بارے میں بھی یہ ریمارکس دیئے جانے لگے ہیں کہ کل پاکستانی کچرا۔ پاکستان میں گداگری کے خلاف قانون بھی موجود ہے مگر کبھی اس پر عمل کیا گیا ہے اور نہ ہی معصوم و رحم دل پاکستانی قوم ان بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ ہماری اجتماعی عزت ہے کہ ایسے بھکاریوں کی وجہ سے جس کا جنازہ نکلتا جا رہا ہے۔ علامہ محمد اقبال کے الفاظ یاد آتے ہیں۔حکومت کے علاوہ گداگری کے ناسور سے چھٹکارے کے لیئے کچھ ذمہ داریاں عوام پر بھی عائد ہوتی ہیں۔بچوں کے لئے خوشحال اور پرسکون زندگی چاہتے ہیں تو آج ہی سے ہمیں ایسے تمام بھکاریوں کو بھیک دینا بند کرنا ہو گی، چاہے یہ بھکاری عوام سے ہوں یا یہ سرکاری بھکاری ہوں۔بنگلہ دیش نے جس دن بھکاری سسٹم کو خدا حافظ کہا تھا، اس کے صرف چار سال بعد اس کے پاس 52 ارب ڈالر کے ذخائر تھے۔کیا ہم ایسے مثالی اور مستند کام کی تقلید نہیں کر سکتے ہیں؟ بہتر ہے ہم کشکول اٹھا کر دربدر ایک ایک ارب ڈالر کی صدا لگانے کی بجائے اس بھکاری پن سے ہی جان چھڑا لیں۔

یہ بھی پڑھیں