Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

ڈاکو راج کی سرپرستی

اس موضوع پر لکھنے کا ارادہ نہیں تھا مگر صوبہ سندھ کی ہماری ایک بہن وقفے وقفے سے یہ طعنہ دیتی رہتی ہیں کہ پنجاب کے لکھنے والے سندھ میں جو ظلم و زیادتیاں ہو رہی ہیں اس پر قلم کیوں نہیں اٹھاتے ہیں۔ ہماری اس بہن کا تعلق ایک بڑے سیاسی خاندان سے ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلزپارٹی بنانے کا منصوبہ ان کے والد گرامی کے گھر میں بیٹھ کر بنایا تھا۔ محترمہ کے چچا سندھی لٹریچر کے مشہور لکھاری ہیں اور وہ خود بھی سندھی زبان و ادب کی ایک مایہ ناز تخلیق کار ہیں۔ وہ مظلوم انسانیت کے لیے بھی وقتاً فوقتاً آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔ میں نے بوجوہ ان کا نام صیغہ راز میں رکھا ہے۔ جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے یہ موضوع انتہائی حساس ہےجو آگےچل کرخود سیکورٹی اداروں کے لیے درد سر بن سکتا ہے۔ اس حوالے سے آج صبح سندھ کی ایک اور اعلی خاتون عہدیدار نے اپنی ایک وائس ویڈیو بھی بھیجی جو ان دنوں سوشل میڈیا اور وٹس ایپ گروپس میں تیزی سے وائرل ہو رہی ہے تو سوچا کہ سندھ کے حالات اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے مقتدرہ اور عوام کو ضرور آگاہ کیا جانا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس پیغام میں وہ خاتون صوبہ سندھ کراچی میں ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی سے مخاطب ہو کر کہتی نظر آتی ہیں کہ کراچی اور دیگر سندھ میں عوام کے ساتھ کچے کےڈاکو قتل وغارت گری،اغوا اورتاوان کی مدمیں جو زیادتیاں کر رہےہیں آپ میں اگردم ہے تو آپ اس کی اطلاع آرمی چیف جنرل عاصم منیر احمد اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) کے سربراہ جنرل ندیم احمد انجم کو روبرو جا کر کیوں نہیں کرتےہیں؟اس ویڈیومیں واضح طورپریہ خاتون کچے کے ڈاکوئوں سے ملے ہوئے حکمرانوں (اور وڈیروں وغیرہ)کے نام لےلےکر وضاحت کرتی ہیں کہ ان ڈاکوئوں کی سرپرستی کون کر رہا ہے۔ یہ ڈاکو مظلوم اور غریب عوام سے بھتہ اور تاوان وصول کرتے ہیں اور وہ نہ دیں تو ان کو قتل کردیاجاتا ہے۔ خود کچے کے ان ڈاکوئوں سےبھتہ اور تاوان کچھ پولیس افسران اور حکومتی کارندےلیتے ہیں جو ان سےملےہوئے ہیں۔ سوال یہ پیداہوتا ہےکہ کیا ’’ریاست‘‘کچے کے ڈاکوئوں کی ان اعلانیہ اور دن دیہاڑے کی کارروائیوں سے بےخبر ہے؟
سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اکثر وائرل ہوتی رہتی ہیں جس کے دوران مشین گنیں، بکتر بند گاڑیاں، راکٹ لانچر اور دیگر اسلحہ دکھایاجاتا ہےجس میں ڈاکوئوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کی لائیوویڈیوز کوبھی نمایاں کوریج دی جاتی ہےاورپولیس کو بھی ڈرایا دھمکایا جاتا یے۔ حتیٰ کہ یہ ڈاکو اپنے پیغامات میں ریاست پاکستان تک کو للکارتے دکھائی دیتے ہیں تاکہ متاثرہ اور مظلوم عوام الناس پر ڈاکوئوں کی دہشت اور خوف و ہراس کو قائم رکھا جاسکے۔ پورے ملک میں سیکورٹی خدشات کے نام پر انٹرنیٹ کی سروس معطل کی جاتی ہے مگر کچے کےڈاکو بلاتعطل اس سہولت کو استعمال کرتے ہیں۔ ان ڈاکووں کے پاس باقاعدہ وائرلس سسٹم بھی موجود ہوتا ہے۔ ان کے پاس یہ ساری سہولیات کہاں سے آتی ہیں اور اس کے سہولت کار کون ہیں اس پر آج تک کسی حکومت یا مقتدرہ نے تحقیق کروائی ہے اور نہ ہی ان کے مکمل خاتمہ کے لیے کبھی کوئی بڑی کارروائی کی ہے۔
کچے کے ڈاکوئوں کی یہ ظالمانہ کارروائیاں گزشتہ چاردہائیوں یعنی 40 سال سے ہی بلاخوف و تردیدجاری نہیں ہیں بلکہ سندھ کے ڈاکوئوں کی ایک مشہور کہانی ہمارے مطالعہ پاکستان کے نصاب میں بھی شامل کی گئی جس کا تعلق 8ویں صدی سے ہے جب عرب تاجروں کا ایک بحری جہاز سری لنکا سے حجاز جا رہا تھا تو راجہ داہر کی پشت پناہی میں سندھ کے سمندری قزاقوں نے اس بحری جہاز پر لوٹ مار کی تھی جس کے بعد اموی خلیفہ حجاج بن یوسف نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو سندھ پر حملہ کرنے کے لیئے بھیجا تھا۔
بعض صورتوں میں یہ ڈاکو پورا گائوں، بارات یا تھانے وغیرہ کے عملے کو اغوا کر کے لے جاتے ہیں جن میں عمر رسیدہ عورتیں، بچے، جوان اور بوڑھے بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ ڈاکو ہر ماہ اوسطاً 200 سے 300 تک افراد کو تاوان حاصل کرنے کےلیےاغوا کرتےہیں اورتاوان نہ ملنے پر انکو قتل کر دیتے ہیں جن کی بعد میں وہ سوشل میڈیا پر لائیو ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔
اپریل 2016ء میں جنوبی پنجاب میں کچے کے ’’چھوٹو گینگ‘‘نے 22 پولیس اہلکاروں کو اغوا کرلیاتھا۔ جوابی کارروائی کے دوران 7پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد اس وقت کے پنجاب کے وزیراعلی شہازشریف (جو اس وقت وزیراعظم ہیں)نے فوج کی مدد طلب کر لی تھی اور آپریشن ’’ضرب آہن‘‘کے بعد ڈاکوئوں کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو کے گینگ کے خلاف ہیلی کاپٹر بھی استعمال ہوئے تھے، جس کے بعد چھوٹو گینگ نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ اس کے باوجود ان ڈاکوئوں کا مکمل خاتمہ نہ کیاجاسکا۔ حتیٰ کہ ان کی دہشت گردانہ کاروائیاں آج بھی جاری ہیں جن کے ہاتھوں صدرمملکت آصف علی زرداری کاحلقہ لاڑکانہ بھی محفوظ نہیں ہےجہاں سےاسوقت بھی30 سے 40 افراد ڈاکوئوں کی تحویل میں ہیں۔
پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی بی)کی ایک رپورٹ میں سندھ پولیس کے حکام کےحوالے سے بتایا گیا کہ صوبے کاشمالی حصہ اغوا برائے تاوان، غیرت کےنام پر قتل، مذہبی اقلیتوں کی جبری مذہب کی تبدیلی اور کچے کے ڈاکوئوں کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ ڈاکو گروپس کی شکل میں زیادہ تر وارداتیں گھوٹکی، میرپور ماتھیلو، کندھ کوٹ اور جیکب آباد میں کرتے ہیں جن میں تیغانی،جاگیرانی،شر،چھوٹو،بھیو اوربھگوار گروپ زیادہ مشہور ہیں۔ رپورٹ میں ایس ایس پی گھوٹکی کےحوالے سےبتایاگیاکہ 2022ء کےدوران 300 اور 2023ء اور 2024ء میں اب تک کم و بیش 350 افراد کو تاوان کی خاطرکچے کے ڈاکوئوں نےاغوا کیا۔ یہ بدنام زمانہ ڈاکو سالانہ اوسطا400 افرادکو اغواکرتےہیں اوروہ اس علاقےمیں اغوابرائے تاوان کےذریعے سالانہ ایک ارب روپے سے زیادہ رقم وصول کرتے ہیں۔
رپورٹ کےمطابق سندھ حکومت اور پولیس کےبلند وبانگ دعوئوں اور250 آپریشنز (جس میں وقتاًفوقتاًرینجرز اور فوج بھی شامل رہی ہیں)کے باوجود گزشتہ اتنے عرصہ سے سندھ اور پنجاب کے ان علاقوں میں جاری یہ ’’ڈاکو راج‘‘آج تک ختم نہیں کیاجا سکا ہے جو کچے اور پکے کے علاقوں سے نکل کر اب شہروں اورایوانوں تک پھیلتاجارہا ہے۔ اسمبلیوں کے ممبران خاموش ہیں اور ابھی تک وزیراعظم شہبازشریف بھی چپ ہیں، جنہوں نے اس سے پہلے ان ڈاکوئوں کے خلاف کارروائی کی تھی!
کچے کےیہ ڈاکوایک سوچی سمجھی اورمنظم حکمت عملی کےتحت لوٹ مار، قتل و غارت اور تاوان کا نظام چلارہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہےکہ ان ڈاکووں کو کوئی وفاقی ادارہ پوچھتا ہے، نہ دو صوبوں کی پولیس ان پر ہاتھ ڈالتی ہے اور نہ ہی سیکورٹی ادارے ان کے خلاف فعال ہو رہے ہیں۔ خدشہ نظر آتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ڈاکو طالبان اور بلوچ علیحدگی پسند کالعدم اور مسلح تنظیموں کی طرح ریاست کیلئے کوئی بڑا چیلنج نہ بن جائیں۔ بھلا ریاست سے زیادہ طاقت ور کون ہو سکتا ہے۔ کچے کے ڈاکو کس کھیت کی مولی ہیں کہ انہیں کچلا نہیں جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں