Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

ایران اسرائیل کشیدگی اور ایرانی صدر کا دورہ پاکستان

کہتے ہیں کہ جب گیدڑ کو موت آتی ہے تو وہ گائوں کی طرف بھاگتا ہے۔ اس کہاوت کو ایک طرف رکھ دیں اور سوچیں کہ ایران اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیا کے امن کو تباہ کرنے کے لئے کیا بھیانک رخ اختیار کر سکتی ہے جس سے نہ صرف فلسطین اسرائیل جنگ پورے خطہ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی بلکہ اس سے’’تیسری عالمی جنگ‘‘کے خطرات بھی دوبارہ شدت اختیار کر جائیں گے۔ 14اپریل کو ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ کیا تو ان تبصروں میں تیزی آ گئی تھی اور اب اسرائیل نے اصفہان کے ایئرپورٹ پر میزائلوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی ہے تو ایک بار پھر تیسری عالمی جنگ کو ڈسکس کیئے جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی خطہ میں لڑی جانے والی جنگ چھوٹی ہو یا بڑی ہو، اسلحہ کم خطرناک ہو یا زیادہ خطرناک ہو، وہ چاہے ’’ایٹم بم‘‘ہو یا ’’ہائیڈروجن بم‘‘ہو، ان سے بنی نوع انسانوں ہی کی نسل کشی ہوتی ہے جیسا کہ تاریخ کی پہلی جنگوں میں ہوتا آیا ہے، اب ہو رہا ہے یا آئندہ ہونے جا رہا ہے۔اسرائیل پر 14اپریل کے پہلے ایرانی حملہ کے بعد ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے دوٹوک الفاظ میں وارننگ کے انداز میں اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا یا اس کو نقصان پہنچایا تو اسرائیل کو فوری، سخت اور وسیع پیمانے پر اس سے بڑا اور سنگین ردعمل دیا جائے گا جس کے لئے وہ مزید 12دن انتظار نہیں کریں گے۔ اس بیان کے اگلے روز ’’کیمیائی ہتھیاروں‘‘ پر بھی تبصرے ہوئے۔ اگرچہ اسرائیل کو امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی متنبہ کیا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف ایسی کوئی جارحیت کی تو امریکہ اس کا شریک کار نہیں ہو گا۔ لیکن اسرائیل نے بغیر کسی انتظار کے اگلے ہی روز ایران کے شہر پر حملہ کر دیا جس کی امریکی خبر رساں ایجنسیوں نے تصدیق کی اور ایران نے بھی دعویٰ کیا کہ اس نے اسرائیل کے میزائل حملہ میں 3ڈرونز مار گرائے ہیں۔ ایران نے اپنے 14اپریل کے حملہ کو ’’آپریشن سچا وعدہ‘‘کا نام دیا تھا۔اسرائیل پر ایران کے پہلے حملہ کے بعد بہت سے اسلامسٹ مجاہدین نے اس ایرانی حملہ کو اسرائیل کے خاتمہ کی ابتدا قرار دیا تھا۔ کیا اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے اپنی موت کو دعوت دی ہے؟ ابراہیم رئیسی ایک ملک کے سربراہ ہیں جس کا نام ایران ہے اور ملک کے سربراہ کا بیان گیدڑ بھبکی نہیں ہو سکتا کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ایران اسرائیل پر دوسرا حملہ پہلے حملے سے زیادہ بڑا کرے گا۔ ماضی میں اسرائیل کو خلیج کا ’’پولیس مین‘‘ کہا جاتا تھا۔ ہمارے کچھ لکھاری اسرائیل کو امریکہ کا ’’بغل‘‘بچہ بھی کہتے آئے ہیں۔ اس کے بدلے امریکہ نے عرصہ دراز سے ’’حماس‘‘کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ اسرائیل کو لگا کہ وہ جنگ ہار رہا ہے تو وہ خوفزدہ ہو کر ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی غلطی بھی کر سکتا ہے۔
ہمارے ہاں پاکستان میں پرو ایران اور اینٹی ایران دو طبقات پائے جاتے ہیں۔ پہلے طبقہ کا خیال ہے کہ ایران ایک سچا، کھرا اور بہادر مسلمان ملک ہے جو 1980 ء سے آزادی فلسطین کے لئے جہاد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب ایران نے اسرائیل پر حملہ کر کے اور اس کے دفاعی نظام کو شکست دے کر مسلم ممالک کے دل سے اسرائیل کی فوجی طاقت کا خوف نکال دیا ہے۔ ایران اور پوری دنیا میں اس کے اتحادی ہر ماہِ رمضان جمعتہ الوداع پر فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل کے قبضہ سے فلسطین کو آزاد کرانے کے لئے ’’یوم قدس‘‘مناتے ہیں۔ اب وقت قریب ہے کہ دوسرے مسلمان ملک بھی ایران کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو نہ صرف فلسطین کو آزادی نصیب ہو گی بلکہ اسرائیل کا خاتمہ بھی نوشتہ دیوار ہے۔ جبکہ ایران مخالف طبقہ بھی موجود ہے اور وہ اس کے برعکس سوچتا ہے، جس کے ان کے پاس اپنے دلائل ہیں۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کچھ مسلمان ریاستیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حیلے بہانے ڈھونڈ رہی ہیں اور درپردہ طور پر فلسطین کی آزادی کے بدلے میں پوری امہ سے اسرائیل کو تسلیم کروانا چاہتی ہیں۔ میرے خیال میں فلسطین اسرائیل جنگ کے عین درمیان میں ایران اسرائیل کی حالیہ چھڑپیں اور اس حساس موقع پر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا دورہ پاکستان اس تنازعہ کے حل کے لئے ایک اہم سنگ میل ہے۔ اسرائیل کو ختم کرنے کی قیمت پر فلسطین کسی صورت بھی آزادی حاصل نہیں کر سکتا ہے۔ پھر ایسی کسی صورتحال میں تیسری عالمی جنگ کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ہم امت مسلمہ کے ماننے والے ہیں۔ اسلام دوسرے ادیان و مذاہب اور اقوام کو جینے کا حق دیتا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کے پاکستان کے دورے کی پیش گوئی کی تھی کہ وہ عنقریب پاکستان آئیں گے۔ اگرچہ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ’’اس دورے کا فلسطین اسرائیل تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں یہ دورہ پہلے سے طے شدہ تھا۔‘‘خدا کرے!ایرانی صدر کے دورے کا یہی اصل مقصد ہو اور وزیر موصوف کا بیان جھوٹا ہو۔ ’’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ‘‘ حسن ظن یہ رکھنا چایئے کہ المقام ایرانی صدر ابراہیم رئیسی پاکستان صلح کا جذبہ لے کر آ رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت کو چایئے کہ وہ سفارت کاری کے ذریعے امریکہ کے توسط سے ایران اور اسرائیل کے درمیان مصالحت کا کردار ادا کرے تاکہ فلسطینیوں کی حالیہ لازوال قربانیوں اور شہادتوں کو ان کی پرامن آزادی کی طرف لایا جا سکے۔ گیڈر کی قدرتی موت شہر میں نہیں جنگل میں ہی ہو تو بہتر ہے۔ اسرائیل ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی تازہ کشیدہ صورتحال کا یہی ایک واحد مثبت پہلو ہے۔

یہ بھی پڑھیں