انسانوں اور دیمکوں کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔ انسان ہونے کے ناطے ہم لکڑی کو کھانے والی ان دیمکوں سے البتہ نفرت ضرور کرتے ہیں۔ انسانوں کی دیمکوں سے نفرت کی ایک وجہ یہ ہے کہ دیمک ہمیشہ کسی کام کی لکڑی کو کھاتی ہے یا اسے کھاتی کم ہے اور کتر کتر کر اس کا آٹا زیادہ بناتی ہے۔ دیمک لکڑی کو کھانے والا ایسا موذی کیڑا ہے کہ وہ جس لکڑی کو لگتا ہے وہ سمجھو کام سے گئی یعنی جہاں ہمیں پتہ چلے کہ اس لکڑی کو دیمک لگ گئی ہے پھر ہم سو بار اس قیمتی لکڑی کو بچانے کی کوشش کریں وہ لکڑی کسی کام کی نہیں رہتی۔ دیمک کو پنجابی زبان میں ’’گھن‘‘کہتے ہیں اور ہم سب جانتے ہیں کہ جس کارآمد لکڑی کو گھن لگ جاتا پے وہ اندر سے بالکل کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ گھن لکڑی کو ہمیشہ اندر سے لگتا ہے۔ رہا یہ سوال کہ گھن سخت جان لکڑی کے اندر کیسے داخل ہوتا ہے، یہ جاننے تک لکڑی کا کام تمام ہو چکا ہوتا ہے۔ لکڑی کو گھن سے بچائوکا واحد طریقہ لکڑی سے بنی چیزوں یعنی فرنیچر وغیرہ پر پالش کی تہہ چڑھانا ہوتا ہے تاکہ گھن لکڑی کے اندر داخل ہو کر اس کے گودے (یا مغز) تک پہنچ کر اسے برباد نہ کر سکے۔
ہمارے معاشرے میں اس حوالے سے اداروں میں موجود ان رشوت خوروں، بددیانت اور نااہل افراد کو بھی دیمک کہا جاتا ہے جو اداروں کے اندر گھس کر انہیں اندر ہی اندر تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ محاورہ مشہور ہے کہ، ’’وہ ملک کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں۔‘‘ادارے سے باہر کے افراد کو صرف اس وقت خبر ہو پاتی ہے جب وہ ادارے اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔دیمک دو قسم کی ہو سکتی ہے یعنی دیہاتوں میں رہنے والی دیمک اور شہروں میں رہنے والی دیمک، دیمک شہروں کی ہو یا دیہاتوں کی ہو، اس کے بارے میں یہ دیکھا، کہا اور سنا جاتا ہے کہ یہ اونچی اونچی کالونیاں بنا کر رہتی ہے جسے پرانی جگہوں پر بآسانی دیکھاجاسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آسٹریلیا کے مختلف علاقوں میں ان کی کالونیاں بہت نمایاں، اونچی اور دیدہ زیب ہوتی ہیں۔ خاص طور پر وہاں پائے جانے والی دیمک اپنی افزائش نسل اور اپنے بچوں کی پیدائش کے لیئے بڑے بڑے اونچے یعنی ٹاور نما گھر بناتی ہے۔ اگرچہ دیمک غیرانسانی مخلوق ہیں جو انسانوں کی طرح سکائی سکریپیرز یعنی فلک شگاف عمارتیں بناتی ہے۔ آسٹریلیا کی دیمکوں کو بہت خاص مخلوق مانا جاتا ہے جو ناردرن ٹیریٹوریز میں آٹھ میٹر تک طویل گھر بناتی ہیں جنہیں آسٹریلیا میں ’’دیمکوں کے ٹیلے‘‘کہا جاتا ہے۔ انسانوں نے مشینوں، آلات اور دیگر ٹیکنالوجی کی مدد سے ’’برج خلیفہ‘‘بنایا ہے۔ متحدہ عرب امارات دبئی ہی میں برج خلیفہ سے بھی اونچی عمارت زیر تعمیر ہے اور اسی طرح سعودی عرب میں اس بھی اونچی عمارت بنانے کا منصوبہ تیار ہے جو مستقبل قریب میں دنیا کی سب سے اونچی اور لمبی عمارتیں ہونگی۔ لیکن دیمک کی جسامت اور کاریگری کے اعتبار سے یہ دیمک اپنے رہنے کے لئے جو ٹیلے بناتی ہے ان میں ایک ایک ٹیلہ 4 برج خلیفہ کی عمارت کے برابر ہوتا ہے۔ یعنی اگر دیمک کے ایک جوڑے کو انسان بنا کر موقع دیا جائے تو یہ دونوں دیمک چار برج خلیفہ کی اونچائی کے مطابق عمارت بنا سکتی ہیں! دیمکوں کے یہ مانڈز مٹی، تھوک اور دیمک کے فضلے سے تیار کئے جاتے ہیں۔ ایسے مانڈز درختوں پر بھی ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ پولز اور عمارتوں کے اندر بھی کالونیاں تعمیر کرتے ہیں۔ دیمک کی یہ کالونیاں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا عجیب و غریب مظہر ہیں۔
اللہ نے اپنی مخلوقات کو بڑی نعمتوں اور صلاحیتوں سے نوازا یے۔دیمک کو پسو یا سفید چیونٹی بھی کہا جاتا ہے۔ دیمک کا تعلق کاکروچ گروپ سے ہے جس سے عورتیں بہت زیادہ ڈرتی ہیں۔ کاکروچوں سے بہت زیادہ گھن آتی ہے کیونکہ یہ انتہائی بدبودار ہوتے ہیں۔ دیمک کی 3100 سے زیادہ انواع دریافت ہو چکی ہیں۔ دیمک لکڑی کے علاوہ پودوں کے سڑے پتے اور جانوروں کا فضلہ وغیرہ بھی کھاتی ہے۔ دیمک لکڑی کے اندر بھی گھونسلہ بنا لیتی ہے۔ دیمک کی جسامت 4 سے 15 ملی میٹر تک ہوتی ہے۔ بہت سی دیمک کی انواع کے کارکنوں اور محافظوں کی آنکھیں نہیں ہوتی ہیں اور کچھ کی ہوتی ہیں۔ ابتدائی دنوں میں ملکہ دیمک روزانہ کے حساب سے 10 سے لے کر 20 انڈے دیتی ہے اور کچھ دنوں کے بعد روزانہ کے حساب سے 1000 سے زائد انڈے دیتی ہے اور دیمک کی کچھ انواع دن میں 4000تک بھی انڈے دے سکتی ہے۔ کیڑوں میں سب سے زیادہ زندگی دیمک کے بادشاہ اور ملکہ کی ہوتی ہے جن کی عمر 50سے لے کر 60 سال تک ہوتی ہے۔دیمک کی آبادی کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے اللہ نے دیمک اور چیونٹی کھانے والےجانور مثلاً سیہہ وغیرہ بنائے ہیں۔ ہمارے ہاں سیاست کے پیشہ سے وابستہ انسانوں کو دیکھیں کہ وہ ملک کو اندر ہی اندر گھن (دیمک)کی طرح کھا رہے ہیں۔ کرپٹ سیاستدان دیمک سے زیادہ قابل نفرت ہیں مگر انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔