اب امریکہ کے لئے پاکستان کی سٹرٹیجک اہمیت نوے کی دہائی والی نہیں رہی۔ تب امریکہ کے لئے چین اور افغانستان میں روس کے خلاف پاکستان اس کی اشد ضرورت تھا۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کا قبلہ ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے کبھی بھی قائم نہیں رہا ہے۔ بلکہ آمر فوجی حکمران ضیاالحق اور مشرف دور میں تو پاکستان ڈالروں کے بدلے میں وطن عزیز کی عزت و وقار کا بھی سودا کرتا رہا۔ حتی کہ 17جولائی 2008 ء کو جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پکڑوا کر خود امریکہ کے حوالے کیا تھا۔ اسی طرح امریکہ کی سرپرستی میں پہلے پاکستان نے 1979 ء میں اسامہ بن لادن کا ریڈ کارپٹ بچھا کر استقبال کیا اور بعد میں جب امریکہ کو طالبان کی ضرورت نہیں رہی اور اس نے ہاتھ کھینچا تو 2مئی 2011 ء کو پاکستان نے امریکہ کو اسامہ بن لادن کے قتل کے لئے ایبٹ آباد میں پاکستان کے اندر گھس کر مارنے کی چھٹی دی۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی ظریفی دیکھیں کہ سینٹرل ایشیا میں پاکستان کی جتنی جغرافیائی حدود کی وجہ سے سیکورٹی اور فوجی اہمیت ہے اس کا اندازہ خود پاکستان کے کار پردازوں کو بھی نہیں ہے کہ اس سے ملکی مفادات کا تحفظ کس بہتر انداز سے کیا جا سکتا ہے۔
دو روز قبل یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس (USIP) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے امریکی شہہ پر بھارت کی طرف سے پاکستان پر حملہ کرنے کی صورت میں ایٹمی خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کا انتباہ سینئر امریکی سفارت کاروں اور اسکالرز کے ایک گروپ کی طرف سے کی جانے والی اس تحقیقی رپورٹ میں کیا جس میں مصنفین نے امریکی پالیسی سازوں پر زور دیا کہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ بھارتی حکومت کو پاکستان اور افغانستان میں فوجی کارروائی کی اجازت دینا مزید کشیدگی اور تنازعات کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سے بھارت کی توجہ بحرالکاہل کے خطے میں چین کا مقابلہ کرنے سے ہٹ سکتی ہے۔ پاکستان پر حملہ کرنے کی صورت میں بھارت کی امریکی حمایت پر کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس ایٹمی خطرے سے خبر دار کرنے کا ایک مقصد پاکستانی مقتدرہ کو بھی بیدار کرنا ہے جو ایسے مواقع پر چوکنا رہنے سے ہچکچاہٹ کا شکار رہتی ہے یا اس سے بروقت فائدہ اٹھانے سے قاصر نظر آتی ہے۔
ان امریکی دانشوروں نے مقف اپنایا کہ اس صورتحال کے مزید بگڑنے سے پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے بعد چین کی شمولیت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران میں امریکہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا چایئے اور امریکی انتظامیہ نے اس فرض کو نبھانے میں غفلت یا کوتاہی کی تو یہ ممکنہ طور پر جغرافیائی سیاست میں ایک بڑے عالمی بحران کا باعث بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے اراکین میں سفیر این پیٹرسن، ڈاکٹر ٹریسیا بیکن، سفیر مائیکل پی میک کینلے، ڈاکٹر جوشوا وائٹ، اور ڈاکٹر برائن فنوکین شامل تھے۔ اس حوالے سے پاکستان میں سابق امریکی سفیر پیٹرسن نے بتایا کہ امریکی پالیسی سازوں نے افغانستان سے انخلا کے بعد جنوبی ایشیا میں انسداد دہشت گردی پر توجہ کم کر دی ہے۔ رپورٹ میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں باہمی تعلقات کے امکانات کو تسلیم کیا گیا ہے، اور جس میں زور دیا گیا یے کہ دونوں ممالک دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان میں شہریوں، سیکورٹی فورسز اور سرکاری اداروں کو نشانہ بنانے والے متعدد حملوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے امریکا اور دیگر ممالک تحریک طالبان پاکستان کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ امریکہ کے پاس پاکستان کے حوالے سے دو آپشن ہیں۔پہلا آپشن جس میں محتاط دبائو کے ساتھ تعاون شامل ہے، کو خطے کے جغرافیہ اور پاکستان کی بھارت مخالف گروہوں کی حمایت کی تاریخ کی وجہ سے قابل عمل سمجھا جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور وسطی ایشیا میں امریکی فوجی عدم موجودگی کے باعث افغانستان تک رسائی کے لیے پاکستانی زمینی راستے اور فضائی حدود اہم ہیں۔ لہٰذا دہشت گردی سے لڑنے کا کوئی بھی منصوبہ جو پاکستان کو نظر انداز کرتا ہو ان لاجسٹک مسائل کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکتا ہے۔
دوسرے آپشن کا مطلب ٹرمپ انتظامیہ کی ابتدائی پالیسیوں کی طرح پاکستان کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات منقطع کرنا ہو گا، تاہم اس رپورٹ کے مطابق یہ نقطہ نظر جغرافیائی رکاوٹوں کو دور نہیں کر سکتا اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد نہیں کر سکتا، کیونکہ پاکستان بین الاقوامی خطرات پر تعاون سے انکار اور اپنی فضائی حدود بند کر کے جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ اگر اس بات کی اہمیت کا خود پاکستان کو بھی علم ہو تو پاکستان دنیا کے اس خطہ میں واقع ہے کہ جس سے بھرپور فائدہ اٹھا کر ہر قسم کے بحرانوں سے نکلا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کی سٹرٹیجک پالیسیاں کیا ہیں اور انہیں ہم نے کتنے بہتر انداز میں استعمال کیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ان کے نتائج ہمارے لیئے کبھی بھی منافع بخش ثابت نہیں ہوئے ہیں اور یا پھر ہمیں امریکی ڈالروں کی صورت میں کچھ امداد ملی بھی ہے تو ہم نے اس سے کماحقہ طور پر کبھی فائدہ نہیں اٹھایا ہے کہ جس سے پاکستان مالی و معاشی بحران سے نکل سکتا۔ ہم اپنی آزاد پالیسیوں کو بھی ہمیشہ غلامانہ انداز میں اور ناقص طریقے سے استعمال کرنے کے عادی ہو چکے ہیں جس وجہ سے ہم آج تک قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جو آئے روز مسلسل بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔