Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

جس کے صبح و شام نئے ہوں

مصرعہ ’’سطوت لالہ و گل سےکلام پیدا کر‘‘ کے خالق علامہ محمد اقبالؒ سائنس دان نہیں تھے۔ اس کے باوجود علامہ اقبالؒ کی شاعری میں سائنسی نقاط کی کمی نہیں ہے۔ 1986 ء میں جب ناساکی چیلنجرسپیس شٹل خلامیں حادثے کاشکارہوئی تو امریکی تحقیقاتی کمیٹی کے رکن اور نوبل انعام یافتہ سائنس دان رچرڈ فائمین نےایک تاریخی جملہ کہاتھا کہ ’’فطرت کو بےوقوف نہیں بنایاجاسکتا‘‘۔ علامہ اقبال ؒنےبھی اپنےاس شعر کےپہلے مصرعہ میں اس سے ملتی جلتی بات کہی تھی کہ ’’خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو‘‘ اقبال ؒ کا یہ پورا شعر کچھ یوں ہے:
’’خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
سطوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر‘‘
اقبال ؒکی اس غزل کا پہلا شعر بھی فطرت (یعنی کائنات)کی تسخیر کے لئے غضب کی موٹیویشن لئے ہوئے ہے جس میں ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال ؒفرماتے ہیں:
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
امریکی خلائی تحقیق کے ادارے ناسا کے اس جہاز کو حادثہ پیش آنے کی وجوہات میں ایک بنیادی وجہ سائنس دانوں اور عملے کا تجاہل عارفانہ تھا۔ اس حادثے کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ریورٹ میں یہ نتیجہ نکالا کہ یہ حادثہ انسانوں کی غفلت کے باعث پیش آیا۔ ناسا کے انجینئرز کو امکانی حادثے کا ادراک تھا مگر ان کے خدشات کو نظرانداز کیا گیا جس سے اتنا بڑا حادثہ رونما ہوا۔ اسی موقع پرفائنمین نےکہاکہ فطرت کو ہرگز بیوقوف نہیں بنایاجاسکتا ہے ۔ مکرمی رچرڈ فائمین کایہ جملہ بھی اپنےاندر زومعنویت کاایک جہان لئےہوئے ہےجن کے کہنےکامقصد یہ ہےکہ انسان اپنی خواہشات سے فطرت کو اورکائنات کےقوانین کوتو نہیں بدل سکتامگر وہ ان کی دریافت کرکےاورانکو سمجھ کرلامحدودفائدہ اٹھاسکتا ہے۔ فطرت ہماری تابع ہرگزنہیں ہےکیونکہ اس پریہ پابندی عائدنہیں کی جاسکتی ہےکہ وہ انسانوں کی خواہش کے مطابق اپناپورانظام بدل دے لیکن علامہ اقبالؒ کے بلند پایہ تخیل کا اندازہ کریں کہ وہ فرماتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو فطرت شناسی، تحقیق اور اس کے رازوں کو بے پردہ کرنے کی طاقت دے تو وہ کائنات میں رواں دواں ستاروں اور ان کی گردش سے پیدا ہونے والے دن رات کے علاوہ اپنی مرضی کے صبح و شام بھی پیدا کر سکتا ہے!
سائنس اور عشق دو مختلف مضامین ہیں مگر موضوعیت اورجذبہ کے اعتبار سے ان دونوں کی منزل لامکاں سے بھی آگے کی دنیا ہے۔ علامہ اقبالؒ اپنی شاعری میں سائنس کو ادبی زبان میں پیش کرتے نظر آتی ہیں۔ نہ کائنات ختم ہو، نہ عشق کا جذبہ تھمے اور نہ ہی سائنس دان تحقیقات کرنے اور نتائج اخذ کرنے سے رکیں۔ دوسرے لفظوں میں سائنس اور عشق کائنات کی طرح لامحدود دنیائیں ہیں۔ سائنس کی یہ خوبی ہے کہ یہ نظریات، تجربات اور قوانین قائم کرتی ہے۔ آپ جہاز میں بیٹھ کر اڑتے ہیں مگر جہاز محض آپ کو لے کر نہیں اڑتا۔ کئی دہائیوں سے جو بھی جہاز میں بیٹھتا یے، جہاز اسے اڑا کر اس کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ جب آپ گاڑی میں بیٹھتے ہیں تو گاڑی چلتی ہے، ایسا نہیں ہے کہ گاڑی کسی نواب یا محض پیسے والے کے لئے چلی اور کسی اور کے لئے نہیں چلی۔ یہ کبھی نہیں نہیں ہوتا کہ درد کی دوائی سے محض آپ ٹھیک ہوئے ہیں اور کوئی دوسرا نہیں ہوا۔ حتی کہ سائنس کے نظریات پر مبنی ایجادات نے کیا امیر کیا غریب، کیا نوکر کیا مالک سب کو فائدہ پہنچایا کیونکہ سائنس بلاتفریق اور حقیقت پر مبنی علم ہے۔
تاریخ میں سائنس کی ترویج و اشاعت کا کام بھی سائنس دانوں کے حد درجہ عشق و جنون کی وجہ سے پروان چڑھا ہےاورچڑھ رہا ہے۔ جو حقیقت ہے وہ حقیقت ہے اسے تسلیم کرنا چایئے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کائنات اپنے قوانین کسی خاص شخص یا گروہ کے لئے تبدیل کر دے۔ اس کی مثال یہ ہے آپ پہاڑ یا کسی اونچی عمارت سے چھلانگ لگائیں گے تو ہمیشہ نیچے ہی گریں گے، اگر آپ کی یہ خواہش ہو کہ نیچے گرنے کی بجائے آپ اوپر کی طرف جائیں تو ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ البتہ اس کی وجہ پر غور کرنا کہ چیزیں گرنے سے نیچے کیوں آتی ہیں یہ ایک تخلیقی سوچ ہے جس کی بنیاد پرنیوٹن نےسیب کو نیچے گرتے دیکھ کر ’’کشش ثقل‘‘کا قانون دریافت کیا تھا۔ ہوا میں اڑنے کے لئے پوری زمین کی گریوٹی کو ختم کرنا ہوتا ہے جسے ایجادات کے بغیر کلی طور پر ختم کرنا ایک ناممکن سا کام ہے کیونکہ ایسا ہو جائے تو پھر شاید آپ تو زمین پر نہیں گریں گے لیکن باقی زمین پر سب کچھ خلا میں اڑ جائے گا، زمین سورج کےگردمدار سے نکل جائے گی جبکہ کائنات کو اتنی آفت نہیں پڑی کہ وہ آپکی خواہش کے لئے یہ سب کچھ کر گزرے۔
عشق کے بغیر سائنس پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتی کہ سائنس دان بھی تجربات اور ایجادات کی دنیا میں اس قدر محو ہوتے ہیں کہ وہ دن دیکھتے ہیں نہ شام، انہیں کھانے کی پرواہ ہوتی ہے نہ تن کے کپڑوں کی، ہو سکتا ہے ان کے من میں کوئی اچھوتا سائنسی خیال آ جائے تو وہ ننگ دھڑن ہی لیبارٹری کی طرف دوڑ کھڑے ہوں۔ دیگر علوم کے مقابلے میں سائنس عجز وانکسار دکھاتی ہے۔ یہ کبھی بڑے بڑے دعوے نہیں کرتی، نہ دیومالائی داستانیں سناتی ہے کہ جن کا کوئی سر پیر نہ ہو، نہ یہ قصے کہانیاں سنا کر دل بہلاتی ہے۔ اس کی سادگی پر کون مر نہ جائے کہ جو اسکی دریافتوں، ایجادات اور نظریات کو جھوٹ سمجھتے ہیں وہ بھی اس کی بنائی ہوئی ایجادات استعمال کرتے ہیں یعنی سائنس کی اس سے بڑی فتح اور کیا ہو سکتی ہے؟
علامہ اقبال ؒسائنس کے اس کمال کو عشق کی زبان میں پیش کرتے ہوئے شاعرانہ انداز میں فرماتے ہیں جس کی تعبیر یہ ہے کہ ممکن ہے انسان سائنس (اور دیگر علوم)کے بل بوتے پر ترقی کرتا کرتا ایک دن اس قابل بھی ہو جائے کہ وہ اس دنیا کے علاوہ ایک نئی دنیا قائم کر لے، جس کے صبح و شام بھی نئے ہوں!!

یہ بھی پڑھیں