Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

ایرانی صدر کی شہادت

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے کا اعلان دیر سے کیا گیا۔ جس طرح 17 اگست 1988 میں سانحہ بہاولپور میں ضیاالحق کی شہادت کے بارے طرح طرح کی چہ میگوئیاں کی گئی تھیں ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے کے بارے بھی انتہائی مخدوش تبصرے کیئے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صدارتی ہیلی کاپٹر کی حفاظت کے لئے اس کے آگے پیچھے دو ہیلی کاپٹر مامور تھے جو صحیح سلامت لینڈ ہوئے۔ خدشات یہ ظاہر کیئے جا رہے ہیں ہیلی کاپٹر کو زمین سے میزائل مارا گیا یا اس پر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا۔
آزربائیجان کے دورے سے واپسی پر ایرانی صدر کا فضائی قافلہ تین ہیلی کاپٹرز پر مشتمل تھا جن میں سے ایک میں چار وی وی آئی پیز سوار تھے جبکہ دوسرے دونوں ہیلی کاپٹرز سیکورٹی پر مامور تھے لیکن حیران کن طور پر منفی موسمی حالات کے باعث صرف ایک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا اور مزید حیران کن طور پر دوسرے دونوں ہیلی کاپٹرز جو سیکورٹی کی خدمات انجام دے رہے تھے انہیں اس حادثے کا علم تک نہ ہوا اور وہ دونوں ہیلی کاپٹرز معمول کے مطابق اپنی منزل مقصود پر لینڈ کر گئے یا اگر یہ حادثہ موسم کی خرابی کی وجہ سے ہی پیش آیا تو دوسرے دو ہیلی کاپٹروں کی بجائے یہ حادثہ صدر موصوف کے ہیلی کاپٹر ہی کو کیوں پیش آیا؟
جب بہاولپور میں ضیاالحق کے جہاز کو حادثہ پیش آیا تھا تو اس وقت چیف آف آرمی سٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ کا جہاز بھی محو پرواز تھا جس کے بعد یہ جہاز واپس بہاولپور ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا گیا۔ اس حادثہ کے بارے میں دو اہم وجوہات زیر بحث رہی تھیں کہ اول جہاز میں آموں کی پیٹیوں میں بم رکھا گیا تھا اور دوم یہ کہ صدارتی جہاز کو گرائونڈ سے میزائل داغا گیا تھا۔ اگرچہ دنیا میں اس نوع کے حادثات ہوتے رہتے ہیں جن کے بارے حقیقت آج تک منظر عام پر نہیں آئی۔ اس نوعیت کے فضائی حادثات میں جاں بحق ہونے والے صدور کی لسٹ میں پیراگوئے کے صدر (1940)، فلپائن کے صدر (1957)، برازیل کے صدر (1958)، عراق کے صدر (1966)، برازیل کے صدر (1967)، بولیویا کے صدر (1969)، ایکواڈور کے صدر (1981)، موزمبیق کے صدر (1986)، پاکستانی کے صدر (1988)، روانڈا کے صدر (1994)، برونڈی کے صدر (1994)، شمالی مقدونیہ کے صدر (2004)، پولینڈ کے صدر (2010)، چلی کے صدر (2024) اور اب ایران کے صدر ابراہیم رئیسی (2024) شامل ہیں۔ اس حادثے کے بارے میں بھی یہ خدشات ظاہر کیئے جا رہے ہیں کہ ایرانی صدر کی شہادت میں ضرور کوئی سازش شامل ہے۔
اسرائیل فلسطین جنگ اور اسرائیل ایران کے ایک دوسرے پر میزائیل حملوں کے تناظر میں بھی اس حادثہ پر تبصرے ہو رہے ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے ایرانی صدر کو پاکستان کا دورہ کرنے کی سزا دی گئی ہے۔ یہ سوچنا کہ اس حادثہ کے پیچھے کسی بڑی عالمی طاقت کا ہاتھ ہے ایک قبل از وقت بدگمانی ہے۔ تاہم کچھ عرصہ ہوا ایران اور پاکستان نے بھی ایک دوسرے پر میزائل حملے کیئے تھے۔ البتہ پاکستان اور ایران کے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو امریکہ اور یورپ میں قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ایران وہ پہلا برادر اسلامی ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ، برطانیہ اور یورپ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں ہمیشہ رخنہ ڈالتے آئے ہیں اور وہ نہیں چاہتے ہیں کہ پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ مراسم قائم ہوں یا پاکستان ایران سے سستے داموں تیل خرید کر خوشحالی کی جانب گامزن ہو۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ ایران کے مرحوم صدر پاکستان کے دورے کے بعد پاکستان کو ایران کے کافی قریب لے آئے تھے۔ اس سے قبل چین نے ایران اور سعودی عرب کے اختلافات کو ختم کرانے اور انہیں ایک دوسرے کے اچھے دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں مدد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا جس سے یہ لگتا تھا کہ چین اور روس کے خفیہ تعاون سے مشرق وسطی میں اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ایک نیا بلاک بننے جا رہا تھا۔
ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کے کریش کی سب سے پہلے خبر اسرائیل نے چلائی تھی۔ حادثہ میں ہلاک ہونے والوں کی ڈیڈ باڈیز نہیں دیکھائی گئیں اور شہید ہونے والوں کے صرف جسم کے ٹکڑے ظاہر کیئے گئے۔ ایران کے پہاڑی علاقوں سے ایک ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے جس میں جگہ کا یہ تعین ہو رہا ہے کہ ڈرون حملہ ہوا ہے اور ڈرون حملے کے نتیجے میں پہاڑوں کے بیچ میں آیت اللہ ابراہیم رئیسی اور اس کے دیگر ساتھی شہید ہوئے۔ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کی شہادت پر ایران کے سوشل میڈیا پر بھی متضاد تبصرے سامنے آئے بلکہ جب شہادت کی خبر میں تاخیر کی گئی یا جونہی ایرانی میڈیا نے صدر کی شہادت کا اعلان کیا تو ایران میں رئیسی مخالف کیمپ میں جشن کا سا سماں تھا۔ ابراہیم رئیسی کی شہادت پر ایران میں پانچ روزہ اور لبنان میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا۔
ایران کے صدر کی شہادت پر سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کی جانب سے ایک روزہ سوگ کا اعلان ہوا۔
سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق منگل 21 مئی کو سندھ بھر میں سرکاری عمارتوں میں قومی پرچم سرنگوں رہا۔
ایرانی صدر اور ان کے رفقا کے حادثے میں انتقال پر پنجاب حکومت نے بھی منگل کو یوم سوگ کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ صوبے کی تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ اسی روز صدر رئیسی کی ایران میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔المیہ یہ ہے کہ دنیا کے دیگر صدور کی ایسی ہلاکتوں کے علاوہ شائد ابراہیم رئیسی کی شہادت کے بارے بھی حقیقت کبھی کھل کر سامنے نہ آسکے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ایران سے تعزیت کی ہے جبکہ ایران کے سپریم لیڈر نے ملک میں پانچ روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔پاکستان، متحدہ عرب امارات، چین، قطر، انڈیا، روس، ترکی، شام، ملائیشیا، سپین، لبنان اور یورپی یونین نے ایرانی صدر کی موت پر اظہار افسوس کیا۔ دوسری جانب ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف محمد باقری نے اس ہیلی کاپٹر حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ہیلی کاپٹر حادثے میں مرنے والے صدر رئیسی اور ان کے ساتھیوں کی آخری رسومات منگل کو تبریز میں مقامی وقت کے مطابق ساڑھے نو بجے ادا کی گئیں جس کے بعد ابراہیم رئیسی کے جسد خاکی کو تہران لے جایا گیا۔ یہ افسوسناک حادثہ مشرقی آذربائیجان کے صوبے میں پیش آیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نائب صدر محمد مخبر کو ملک کی ایگزیکٹو برانچ کا عبوری سربراہ مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔ ایران میں اب رئیسی کے جانشین کے انتخاب کے لئے صدارتی انتخابات سے قبل زیادہ سے زیادہ 50 دن کی مدت دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں