Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

نور السماوات والارض کا دینی و سائنسی فریضہ

گزشتہ روز ناسا کے امریکی سائنس دانوں نے کائنات کی سب سے دور افتادہ کہکشاں دریافت کی۔ اس قدیم ترین فلکی کہکشاں کا نام ’’جیڈز جی ایس زیڈ ون فور زیرو‘‘ رکھا گیا۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے عظیم سائنسدانوں نے یہ کارنامہ ’’جیمز ویب اسپیس‘‘نامی ٹیلی اسکوپ کے ذریعے انجام دیا جس کے کام میں خلا میں کائنات کے موجودات کی ابتدا اور ان کے کام کرنے کے طریقہ کار وغیرہ کے بارے میں کھوج لگانا شامل ہے۔ قرآن پاک میں کائنات کے انہی سربستہ رازوں اور زندگی کے بارے غور و فکر اور اسے عملی جامہ پہنانے کا کم و بیش 765مرتبہ ذکر آیا ہے۔ ان عنوانات میں کائنات کی پیدائش، ستاروں کی گردش، آسمانی ستون اور زندگی کے مختلف مراحل سرفہرست ہیں۔
ایک تخمینے کے مطابق اس کہکشاں کا قیام ’’بگ بینگ‘‘کے 29کروڑ سال بعد عمل میں آیا تھا۔ 13 اشاریہ 8 ارب سال قبل کائنات کی ابتدا میں تشکیل پانے والی اس کہکشاں کی چند منفرد خصوصیات بھی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے دریافت کیں۔ اس کہکشاں کو کائنات کا قدیم ترین اور بہت بڑا بلیک ہول بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کہکشاں بہت بڑی ہے اور 1600 نوری برسوں کے فاصلے تک پھیلی ہوئی ہے جبکہ یہ کہکشاں بہت زیادہ روشن بھی ہے۔ حالانکہ بلیک ہولز کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ ان کے احاطہ یعنی ایونٹ ہوریزون Event Horizon سے 3لاکھ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے دوڑنے والی روشنی بھی بچ کر نہیں نکل سکتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا راز ہے جو اس کہکشاں سے خارج ہونے والی روشنی سے عیاں ہوتا ہے۔ جیمز ویب کے مڈ انفراریڈ انسٹرومنٹ نے یہ بھی دیکھا کہ اس کہکشاں کی روشنی سے آئیونائزڈگیس کے اخراج کا عندیہ بھی ملتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی خود کو کائنات (اور آسمانوں)کا نور کہتا ہے یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ’’نور السماوات والارض‘‘ہے۔ سائنسدانوں کے خیال میں یہ گیس ہائیڈروجن اور آکسیجن کا امتزاج ہو سکتی ہے جو کہ ایک حیران کن ترین دریافت ہے، کیونکہ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ کائنات کی ابتدا میں آکسیجن موجود نہیں تھی۔
اس حوالے سے ہونے والی تحقیق میں شامل سائنسدانوں نے بتایا کہ تمام تر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہکشاں دیگر کہکشاں جیسی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا امکان ہے کہ مستقبل میں اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ماہرین ایسی مزید روشن کہکشاں کو دریافت کر سکیں گے جو اس سے بھی زیادہ قدیم ہوں۔
اس سے قبل جیمز ویب اسپیس نے کائنات کا قدیم ترین بلیک ہول بھی دریافت کیا تھا۔ نومبر 2023 ء میں ناسا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اس بلیک ہول کے بارے میں بتایا گیا تھا یہ بگ بینگ کے 47کروڑ سال بعد وجود میں آیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کائنات کی ابتدا میں تشکیل پانے والے بلیک ہول کا مشاہدہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا، جس کی عمر کائنات کے برابر تقریبا 13 ارب 20 کروڑ سال ہو سکتی ہے۔ اس بلیک ہول کو ’’یو ایچ زیڈ ون‘‘نامی کہکشاں میں دریافت کیا گیا تھا۔ یہ بلیک ہول ہمارے سورج سے 10 سے 100 کروڑ گنا زیادہ بڑا ہو سکتا ہے۔سائنسدانوں نے کہا کہ یہ کائنات کا سب سے بڑا بلیک ہول تو نہیں مگر ابتدائی عہد میں بننے والے بلیک ہول کا اتنا بڑا حجم غیر معمولی ہے۔
کائنات کے انہی رازوں کو دریافت کرنے کی بنا پر انسان جدید ترین سائنسی ایجادات اور سہولیات سے بہرہ ور ہو رہا ہے اور جن کے بل بوتے پر وہ دوسرے ستاروں پر انسانی آبادیاں قائم کرنے کا خواب بھی دیکھ رہا ہے۔ لیکن صد افسوس ہے کہ کائنات کی دریافت کا یہ سارا مقدس کام غیرمسلم کر رہے ہیں۔ قرآن پاک کے مطابق اللہ تعالیٰ کو کائنات کا نور بابرکات کہا گیا ہے تو مسلمان اس انتہائی اہم فریضہ کی ادائیگی سے کیوں غافل ہیں؟ اگر قرآن پاک کے ان احکامات کو مسلمان بھی اپنی عملی زندگیوں کا حصہ بنا لیں تو ان میں بھی اہل مغرب کی طرح انقلاب آ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں