ناروے یورپ کا ایک مشہور ملک ہے۔ اس کی وجہ شہرت میں ایک کہانی یہ شامل ہے کہ اس ملک میں 6ماہ کا دن اور 6ماہ کی رات ہوتی ہے۔ یورپ میں ویسے تو سکینڈے نیوئین کے دوسرے دو ممالک سویڈن اور ڈینمارک بھی کسی نہ کسی وجہ سے مشہور ہیں۔ البتہ ناروے اپنی ایک دیگر خوبصورت روایت کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے کہ ناروے کے مقامی لوگ غریب اور نادار لوگوں میں کھانا تقسیم کرنے کا ایک عجیب و غریب طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ وہاں کی اکثریت کھانے پینے کی سخاوت کو انتہائی خفیہ رکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو ایسی سخاوت عموماً محاوروں اور کہاوتوں میں ملتی ہے۔ پاکستان کے تقریباً ہر طبقہ میں غرور اور حسد دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ لوگ انسانی بھلائی کے کاموں میں بھی بناوٹ اور نمود و نمائش سے کام لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں لوگ اپنی نیکی کی تشہیر نہ کریں تو انہیں چین نہیں آتا۔ یہاں تک کہ اب یہ رواج سیاست میں بھی در آیا ہے کہ حکمران اور عہدے دار سرکاری کھاتے سے ایک آٹے کا تھیلا بھی تقسیم کریں تو اپنے ساتھ کیمرہ مینوں کو لے کر جاتے ہیں یا اس تھیلے پر اپنی تصویر چھپوا لیتے ہیں۔
شمالی یورپ کے ممالک ڈنمارک، سویڈن اور ناروے کو مجموعی طور پر ’’اسکینڈے نیویا‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ممالک بشمول شمالی بحر اوقیانوس کا جزیرہ آئس لینڈ اپنی ملتی جلتی زبانوں اور ثقافتوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔اسکینڈے نیویا کا شمالی اور مغربی حصہ زیادہ تر کٹا پھٹا اور پہاڑی علاقہ ہے جبکہ جنوب میں زمین زیادہ ہموار ہے اور گلیشیروں کی بدولت انتہائی زرخیز بھی ہے۔ فن لینڈ، ناروے اور سویڈن کا بیشتر حصہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے۔ جبکہ آئس لینڈ میں دنیا کے سب سے زیادہ آتش فشانی علاقے ہیں۔ ایک اندازہ ہے کہ اس جزیرے میں 200 آتش فشاں ہیں۔
اس کے برعکس ناروے میں کئی وسیع وادیاں ہیں جنہیں فورڈ کہا جاتا ہے جبکہ سویڈن اور فن لینڈ میں ہزاروں کی تعداد میں جھیلیں ہیں۔ یہ وادیاں اور جھیلیں آخری برفانی عہد میں برف کے پگھلنے کے باعث وجود میں آئیں۔
ناروے کا ملک جس طرح قدرتی حسن سے مالا مال ہے وہاں کے لوگوں کے دل بھی اسی طرح کھلے اور حسین ہیں کہ لوگوں کی اکثریت کسی ریسٹورنٹ یا کافی شاپ وغیرہ میں جائے تو وہ ایک دو وقت کے کھانے یا کافی وغیرہ کی ایکسٹرا ادائیگی کرتے ہیں جو وہاں کے نادار اور مجبور لوگوں کو مفت کھانا اور کافی وغیرہ کے ملنے کے لئے کی جاتی ہے۔ ناروے میں ریسٹورنٹس اور کیف ٹیریاز میں آإ کو یہ منظر اکثر دیکھنے کو ملے گا کہ وہاں کچھ لوگ کھانے پینے کی چیزوں کے وافر پیسے ادا کرتے ہیں۔ گو کہ پاکستان میں درباروں پر بھی مفت لنگر تقسیم ہوتا ہے جسے ثواب سمجھ کر مفت کھاتے ہوئے متمول لوگ بھی کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔ لیکن یہ بھی اب ایک منفعت بخش کاروبار بن گیا ہے جس کے پیچھے پیری مریدی کے علاوہ اور بھی بہت ساری قباحتیں آ گئی ہیں۔ البتہ ناورے میں اس روایت کی ایک الگ ہی پہچان ہے کہ جہاں آپ یہ دیکھتے ہیں کہ کسی ریسٹورنٹ میں ایک بوڑھا مرد یا عورت کیش کائونٹر پر بیٹھے ہوتے ہیں، لوگ وہاں پر آتے ہیں اور 5 کافی اور 3 معطلی کا آرڈر کرتے ہیں اور پھر وہ 5 کافیوں کی بجائے کافی کے صرف 2 کپ لے کر چلے جاتے ہیں۔ ناروے کے یہ چنیدہ سخی لوگ کھانے کا آرڈر کرتے وقت بھی کچھ وافر کھانے کی رقم دیتے ہیں جسے اردو زبان میں ’’خیرات‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ انہی ریسٹورنٹس اور کافی شاپس پر بعد میں کچھ لوگ آتے ہیں اور کائونٹر پر موجود مرد یا خاتون سے پوچھتے ہیں کہ کوئی ’’معطلی‘‘ ہے تو وہاں سے جواب ملتا ہے ریسٹورنٹ کے اندر تشریف رکھیں۔ اس کے بعد باقاعدہ ویٹر مہمان سے جا کر لنچ، ڈنر یا کافی وغیرہ کا آرڈر لیتا ہے۔ آنے والا یہ مہمان اپنی مرضی کا کھانا کھاتا ہے یا کافی نوش کرتا ہے اور پھر ادائیگی کیے بغیر وہاں سے چپکے سے باہر چلا جاتا ہے۔
یہ خیرات کرنے اور ضرورت مندوں کا پیٹ بھرنے کا ایک باعزت اور مہزب طریقہ ہے جس سے کسی کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا کوئی نیک کام کرتے وقت بھی اسراف اور دکھاوے سے کام لیا جاتا ہے۔ نیکی تو اپنے رب کو راضی کرنے اور اپنے اطمینان قلب کے لیئے کی جاتی ہے مگر ہمارے ملک کے مسلمانوں کی اکثریت ایسا نہیں کرتی بلکہ وہ جب تک اپنی سخاوت کی تشہیر نہ کریں انہیں چین نہیں آتا۔
یورپ کے ممالک فلاحی مملکتیں ہیں جہاں لوگ سوشل بینیفٹس بھی لیں تو کسی کو پتہ نہیں چلتا ہے اور ان کی عزت نفس بھی محفوظ رہتی ہے۔ ہمارے کھاتے پیتے ایشین مغربی ممالک میں جھوٹ کی بنیاد پر سوشل ویلفیئر کے فوائد کلیم کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ چوری چھپے کام بھی کرتے ہیں اور بینیفٹس بھی لیتے ہیں مگر جب وہ اپنے ملکوں میں آتے ہیں تو دکھاوے کی ایسی خیراتیں بھی کرتے ہیں جس کے مرتکب نمونے کے طور پر ہمارے کچھ سیاست دان بھی ہوتے ہیں۔
یہ ناروے کے شہریوں کی روایت ہے کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی نامعلوم غریب یا ضرورت مند کی مدد بھی ہو جائے اور اس کا بھرم بھی قائم رہے اور وہ اپنی ’’شناخت‘‘ کروائے بغیر پیٹ بھر کر کھانا کھا لے۔ کسی کا چہرہ دیکھے بغیر اس کی مدد کرنا ہی تو نیکی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ کا قول ہے کہ کسی کی مدد کرتے وقت اس کی چہرے کی طرف نہ دیکھو کہ مبادہ تم میں غرور پیدا نہ ہو جائے۔ یہ نیکی کرنے کا ایک منفرد اور خفیہ انداز ہے جو نیکی کرنے والے کو غرور سے بچاتا ہے اور اسے عجز و انکسار کا پیکر بناتا یے۔ ایک ہمارا ملک ہے کہ جہاں ایک درجن لوگ ایک مریض کو ایک کیلا دیتے ہیں تو تب بھی اس کی تصویریں بنوا لیتے ہیں۔ ہم کتنے ڈھیٹ اور بے رحم لوگ ہیں کہ ہم مجبور لوگوں کی عزت نفس سے کھیلنے میں بھی خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں جیسے ہم ہی دنیا کے سب سے بڑے ڈونرز ہیں اور ابھی ابھی حاطم طاء کی قبر کو لات مار کے آئے ہیں۔
دراصل ہماری بیوروکریٹک طرز کی اشرافیہ کے دماغ کو جمہوریت اور سیاست نے خراب کیا ہے جہاں ہر کام الیکشن مہم سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ سیاست دان منتخب ہو کر بھی الیکشن کے امیدواروں کی طرح سال بھر اپنی سیاسی مہم جاری رکھتے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں ووٹ نہیں ملتا۔ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کرنے میں بھی ایسا تکلف ہے جیسے وہ یہ سارا خرچ اپنی جیبوں سے کرتے ہوں۔ یہ ایسا دکھاوا ہے کہ خدا کی پناہ! ان کو نہیں معلوم کہ یہ قدرت کا ایک جال ہے جس میں وہ ایک دن خود الجھیں گے۔
دربار نبوی ﷺکے حوالے سے یہ واقعہ مشہور ہے کہ نبی مکرم ﷺ کسی نادار اور ضرورت مند کی عزت نفس کو ہمیشہ قائم رکھتے اور ان سے اسی حسن سلوک سے پیش آتے جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے باحسن طریقے سے پیش آتے تھے۔
ناروے کے لوگوں میں ایسی روایت سے پہلے عثمانی مسلمانوں میں بھی یہ رواج تھا کہ ترکی کے شہری کھانے کے ریسٹورنٹس میں فری کھانا کھانے والے مہمانوں کے لیئے وافر ادائیگی کیا کرتے تھے۔ لیکن آج دنیا بھر کے مسلمان اپنی ایسی مہمان نوازی کی صفت سے عاری ہو گئے ہیں یا کرتے بھی ہیں تو وہ اس میں سفید پوشی قائم نہیں رکھتے۔ حالانکہ احادیث میں آیا ہے کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں جن کے حفظ ماتقدم کو قائم رکھنا عین دین ہے جبکہ ہمارے ہاں تو عید ملن پارٹیوں تک کی نمائش کرنے کا رواج پڑ گیا ہے۔ اللہ پاک ہمیں ہدایت سے سرفراز فرمائے۔ عید کھائیں اور داموں اور دعائوں میں اپنے غریب مسلمان بھائیوں کو بھی یاد رکھیں۔