Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

اوپرا گیل ونفری

دنیا بھر میں چند گنتی کے لوگ ایسے بھی ہیں جو دائیں ہاتھ سے سینکڑوں ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بناتے ہیں مگر وہ اس کی خبر اپنے بائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہونے دیتے۔ امریکہ میں ایک مشہور براڈکاسٹر اوپرا گیل ونفری بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں جو اب 70 سال کی ہو چکی ہیں۔ ان کا ٹاک شو 8ستمبر 1986 ء سے لے کر 25مئی 2011 ء تک شکاگو سے مسلسل 25 برس تک چلتا رہا۔ اوپرا شو میں مائیکل جیکسن کے انٹرویو کو 90 ملین لوگوں نے دیکھا تھا۔ اس کے علاوہ اس شو میں امریکی صدر باراک اوباما، ان کی اہلیہ مشیل اوباما اور جارج بش بھی شریک ہوئے۔ شاید ہی کوئی سیلیبریٹی ہو جس نے اس ٹاک شو میں شرکت نہ کی ہو۔ اوپرا ونفرے شو کا آخری پروگرام دو دن پر مشتمل تھا جس میں میڈونا اور بیانسی جیسی فنکارائیں شامل ہوئیں۔ جن مداحوں نے اوپرا کو آخری شو ریکارڈ کرتے دیکھا ہے ان کا کہنا تھا کہ آخری بار الوداع کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
جب اوپرا نے اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تو انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے اعزاز میں ایک فٹ بال اسٹیڈیم میں ایک میلہ منعقد کیا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ انہوں نے ایک چوتھائی صدی تک 65,000 غریب لوگوں کی کفالت کی، یہ جانے بغیر کہ وہ کون ہیں۔ ان افراد میں سے بہت سے اسٹیڈیم میں اس تقریب میں شریک ہوئے جن میں تقریباً 450 لوگ اپنے محسن کا دیدار کرنے اور اسے خراج تحسین پیش کرنے کے لیئے موم بتیاں لے کر آئے تھے۔ ان افراد میں ہارورڈ یونیورسٹی کے5پروفیسر بھی شامل تھے جنہوں نے اس کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے ایک مختصر خطبہ دیا تھا اور کہا تھا کہ: ’’اگر یہ اوپرا نہ ہوتی تو اب ہم اس سے مختلف جگہ پر ہوتے‘‘۔
کیا ایک شخصیت 65 ہزار لوگوں کی زندگیاں بدل سکتی ہے؟ آج کی دنیا میں ایسے لوگ چراغ لے کر بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔ قدیم یونان کے مشہور فلسفی جانسن قلبی بھی دن کی روشنی میں گلیوں میں چراغ لے کر گھوما کرتا تھا تاکہ دنیا میں اجالا پھیلایا جا سکے۔ لیکن آج کے مادہ پرستی کے دور میں بھی ایسے چند لوگ موجود ہیں جن کی مثال روشنی کی مانند ہے۔ ایسے لوگ انسانوں کے روپ میں فرشتے ہوتے ہیں جن کا مزہب صرف انسانیت کی خدمت ہوتی ہے جس کا کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ کوئی صلہ، بلکہ یہ ایک اعلیٰ و ارفع درجہ اور مقام ہے جس پر چند گنے چنے درد دل لوگ ہی پہنچتے ہیں۔
اوپرا ونفری جنہیں ’’میڈیا کوئین‘‘ کہا جاتا رہا ہے ایک انتہائی غریب افریقن خاندان میں 29جنوری 1954 ء میں پیدا ہوئیں۔ لیکن وہ اپنی محنت، خوداعتمادی اور قابلیت کے بل بوتے پر مشہور زمانہ مصنفہ، اداکارہ، پروڈیوسر اور میڈیا پرسن بنیں جنہیں 20ویں صدی کی واحد امیرترین ارب پتی افریکی امیریکن خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ سنہ 1986 ء میں انہوں نے’’ہارپو پروڈکشن‘‘ کے نام سے نیٹ ورک قائم کیا جس کی وہ پہلی سی ای او اور چیئرمین بنیں۔ 2007 ء میں انہیں دنیا کی سب سے موثر ترین خاتون شخصیت قرار دیا گیا۔ وہ 2008 ء میں باراک اوبامہ اور ڈیموکریٹک کی حمایت سے ایک سیاسی قوت کے طور پر بھی ابھریں جنہوں نے امریکی صدارتی انتخابات کی دوڑ میں ون ملین ووٹرز کو متحرک کیا۔ اسی سال انہوں نے اپنے نام سے ’’اوپرا ونفری نیٹ ورک‘‘ بھی قائم کیا۔ 2013 ء میں امریکی صدر باراک اوباما نے انہیں ’’صدارتی ایوارڈ برائے آزادی‘‘ سے نوازا۔ انہیں بے شمار دیگر ایوارڈز دیئے گئے اور کچھ یونیورسٹیوں نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا۔
اوپرا ونفری سماجی خدمات میں اب تک 3 بلین ڈالر سے زائد رقم تعلیمی اداروں بشمول چارٹر اسکولوں، افریقی و امریکی طلبا کی بہبود اور جنوبی افریقہ میں قائم اوپرا ونفرے لیڈرشپ اکیڈمی اور دیگر پروجیکٹس پر خرچ کر چکی ہیں۔ 1998 ء میں اوپرا نے ’’اینجل نیٹ ورک‘‘ قائم کیا اور اپنے ویوورز کی زندگیاں بدلنے کیلئے 3.5 ملین ڈالر جمع کیئے جس میں بہت سارے صاحب حیثیت افراد نے عطیات دیئے۔ اس فنڈ کی مدد سے اوپرا نے 2000 ء میں 15000 رضاکاروں کے ذریعے 150 مستحقین کے گھر بنوائے اور فی گھر 25ہزار ڈالر وظیفہ مقرر کیا۔ عطیات کو جاری کرنے تک ونفرے کو 80ملین ڈالر سے زائد کی رقم مل چکی تھی اور یہ زائد رقم کیٹرینا اور ریٹا نامی طوفانوں کی وجہ سے متاثر ہونے والے لوگوں کے کام آئی۔ یہ نیٹ ورک 13 ممالک کے 60 سے زائد اسکولوں کو چلا رہا ہے جہاں کتابیں اور یونیفارم مفت فراہم کی جاتی ہے۔ اب یہ اینجل نیٹ ورک اوپرا ونفرے چیری ٹیبل فائونڈیشن کے زیر اہتمام چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھی اوپرا کی کئی سماجی اور انسانی فلاح و بہبود کی خدمات ہیں جن کا اس مختصر کالم میں احاطہ کرنا ممکن نہیں۔
ان سطور میں اوپرا جیسی ’’سیلف میڈ وومین‘‘ کے ذکر کرنے اور ان کی سماجی و انسانی خدمات گنوانے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ نیکی وہی ہے جو اعلانیہ کرنے کے ساتھ ساتھ خاموشی سے کی جاتی ہے ناکہ اس میں دکھاوا کیا جاتا ہے تاکہ اس سے استفادہ کرنے والے مستحقین کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔
یاد رکھیں نیکی کا مزہ ہی چھپ کر کرنے میں ہے بتانے اور اس کا ڈھنڈورا پیٹنے سے ایک تو نیکی کا وزن کم ہو جاتا ہے اور دوسرا نیکی کرنے والے میں غرور پیدا ہوتا ہے جس سے لوگوں کی زندگیاں بدلنے والی نیکی بھی غارت ہو جاتی ہے۔ ایک یہ ونفری ہیں کہ جو آج بھی کیلیفورنیا مونٹیسوری میں پہاڑوں اور ساحل سمندر کے نظاروں میں گھری 42ایکڑ کی ریاست میں رہتی رہی ہیں جس کے دروازے ضرورت مندوں کے لئے آج بھی 24 گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں