Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

حجاج کی شہادت اور گرمی سے بچائو

حج کے دوران گرمی کی شدت سے کم و بیش 920 حاجیوں کی شہادت کا المناک واقعہ پیش آیا۔ اس دفعہ سعودی عرب، خلیجی ممالک اور پاکستان میں گرمی کی شدید لہر آئی ہوئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں گرمی مزید بڑھے گی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ گرمی سے بچائوکے بارے عوام الناس کو زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جائے۔ خاص طور پر شدید دھوپ اور لو سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ گرم موسم میں حفظان صحت اور احتیاطی تدابیر پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی جائے۔
سعودی سفارت خانہ کی وضاحت کے مطابق گرمی کی شدت سے شہید ہونے والے حجاج بغیر اجازت کے حج کر رہے تھے۔ یہ شہداء حج ویزوں پر نہیں تھے بلکہ وہ سیاحتی ویزوں پر مناسک حج کے آغاز سے پہلے سعودی عرب پہنچے تھے۔سعودی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ رواں برس حج کے دوران انتقال کرنے والے عازمین کی اکثریت کے پاس حج کرنے کا اجازت نامہ نہیں تھا۔ سعودی سفارت خانہ کے مطابق رواں برس حج کے دوران مکہ مکرمہ میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور رواں سال مختلف ممالک سے بڑی تعداد میں زائرین سیاحت یا وزٹ ویزوں پر سعودی عرب پہنچے۔ بیان میں کہا گیا کیونکہ یہ لوگ سیاحتی ویزوں پر آئے تھے اور حج کا اجازت نامہ حاصل نہیں کیا تھا جس وجہ سے کسی کمپنی یا ادارے کی فراہم کردہ رہائش، کھانا اور نقل و حمل کی سہولیات انہیں حاصل نہیں تھیں جس وجہ سے یہ شہادتیں ہوئیں۔
مکہ مکرمہ میں درجہ حرارت 51سینٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا جس کی وجہ سے اتنے حاجی گرمی کی وجہ سے شہید ہوئے۔ اللہ پاک حاجی شہدا ء کے درجات بلند فرمائے۔ یہ زائرین چلچلاتی دھوپ میں مقدس شہروں میں طویل فاصلہ پیدل طے کرتے رہے جو پیدل چلنے والوں کے لئے مختص نہیں تھا، یہ حالات بہت سے حجاج کی شہادت کا باعث بنے۔ دوسری جانب تیونس، اردن اور مصر کے سفارت خانوں کے ترجمان کا بھی یہی کہنا تھا کہ گرمی کی وجہ سے حج کے دوران انتقال کر جانے والے افراد ان ممالک کے سرکاری حج کا حصہ نہ تھے بلکہ انفرادی طور پر سیاحتی ویزے پر پہنچے تھے۔
رواں برس حج کے دوران شدید گرمی کے باعث جو عازمین حج شہید ہوئے ان میں سے 320کا تعلق مصر، 144 کا انڈونیشیا، 60 کا اردن، 68کا بھارت، 35 کا پاکستان، 11کا ایران اور 3کا تعلق سینیگال سے تھا۔
21 جون سال کا سب سے بڑا دن اور سب سے چھوٹی رات تھی 22 جون سے 22 دسمبر تک روزانہ 80 سیکنڈ کے حساب سے دن چھوٹا ہوتا ہے یہاں تک کہ 10گھنٹے کا دن اور رات 14گھنٹے کی ہو جاتی ہے اسی طرح 22 دسمبر سے 21جون تک 45سیکنڈ کے حساب سے دن بڑا ہوتا ہے یہاں تک کہ دن 14 گھنٹے اور رات 10 گھنٹے کی ہو جاتی ہے۔
ویسے تو گرمی کے موسم میں دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہو جاتی ہیں، لیکن 21جون کا دن شمالی نصف کرے میں سال 2024 ء کا سب سے طویل ترین دن تھا۔ ایسا ہر سال ہی ہوتا ہے اور اس موقع کو خط سرطان (summer solstice) کہا جاتا ہے، دنیا کے مختلف ممالک میں اسے موسم گرما کا پہلا دن قرار دیا جاتا ہے۔
خط سرطان سے مراد زمین کی وہ حالت ہے جب سورج آسمان پر اپنے طویل ترین راستے پر سفر کرتے ہوئے سب سے زیادہ بلندی پر پہنچتا ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق 21جون کا دورانیہ 13 گھنٹے 40منٹ 58سیکنڈ کا تھا جبکہ رات تقریباً 11 گھنٹوں کی تھی، یکم جولائی کے بعد دن کا دورانیہ بتدریج کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور 22 ستمبر کو دن اور رات کا دورانیہ تقریبا برابر ہو جاتا ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق اس کے بعد راتوں کے دورانیے میں اضافہ اور دن کا دورانیہ مختصر ہونا شروع ہو جاتا ہے اور 22 دسمبر کو سال کا مختصر ترین دن اور رات طویل ترین ہوتی ہے۔
چونکہ گرمی کی شدید دھوپ میں لو لگنے سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اگر ہمیں معلوم ہو کہ دھوپ اور لو میں گرمی کی شدت سے کیسے بچنا ہے تو ہم ایسے اندوہناک واقعات سے بچ سکتے ہیں جو اس دفعہ دوران حج پیش آئے۔ ہم سب دھوپ میں گھومتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو دھوپ لگ جانے کی وجہ سے اچانک موت واقع ہو جاتی ہے کیونکہ ہمارے جسم کا درجہ حرارت ہمیشہ 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، اس درجہ حرارت پر ہی ہمارے جسم کے تمام اعضا صحیح طریقے سے کام کر پاتے ہیں، ہمارے جسم کا نظام پسینے کے طور پر پانی باہر نکال کر 37 سینٹی گریڈ درجہ حرارت برقرار رکھتا ہے، مسلسل پسینہ نکلتے وقت پانی پیتے رہنا انتہائی مفید اور ضروری ہے،اس کے علاوہ بھی پانی بہت کارآمد ہے، ہمارے جسم کا 70فیصد حصہ پانی پر مبنی ہے۔ جسم میں پانی کی کمی ہونے پر ہمارا جسم پسینے کے ذریعے ہونے والے پانی کے اخراج کو روکتا ہے،جب باہر درجہ حرارت 45ڈگری سے زائد ہو جاتا ہے اور جسم کا کولنگ سسٹم بند ہو جاتا ہے تب جسم کا درجہ حرارت 37ڈگری سے زیادہ ہونے لگتا ہے،جسم کا درجہ حرارت جب 42سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے تو خون زیادہ گرم ہو جاتا ہے اور خون میں موجود پروٹین پکنے لگتے ہیں،پٹھے اکڑ جاتے ہیں۔ اس دوران سانس لینے کے لئے ضروری پٹھے بھی کام کرنا بند کر دیتے ہیں، جسم کا پانی کم ہو جانے سے خون گاڑھا ہونے لگتا ہے، بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے، اہم عضو (بالخصوص دماغ)تک خون کی رسائی رک جاتی ہے،انسان کوما میں چلا جاتا ہے اور اس کے جسم کے ایک کے بعد ایک عضو دھیرے دھیرے کام کرنا بند کر دیتے ہیں جس سے گرمی میں رہنے والے کی موت ہو جاتی ہے۔
لہٰذا انتہائی ضروری ہے کہ گرمی کے دنوں میں ایسے مسائل ٹالنے کے لئے مسلسل پانی پیتے رہنا چاہئے، اس سے ہمارے جسم کا درجہ حرارت 37 ڈگری پر برقرار رہتا ہے۔آنے والے کچھ دنوں میں ’’اکونکس‘‘کے گہرے اثرات پاکستان کے موسم پر پڑیں گے، کئی علاقے اس کی زد میں ہوں گے،ہمیں چاہیے کہ ہم دوپہر 12سے 3 بجے کے درمیان زیادہ سے زیادہ گھر، کمرے یا آفس کے اندر رہنے کی کوشش کریں،درجہ حرارت 40 ڈگری کے آس پاس ہو گا۔موسم کی یہ سختی جسم میں پانی کی کمی اور لو لگنے والی صورتحال پیدا کر دے گی۔یہ اثرات خط استوا کے ٹھیک اوپر سورج کے چمکنے کی وجہ سے پیدا ہوں گے۔ ہمیں چایئے کہ ہم خود کو اور اپنے متعلقین کو پانی کی کمی میں مبتلا ہونے سے بچائیں،بلا ناغہ کم از کم 3 لیٹر پانی ضرور استعمال کریں،گردے کی بیماری والے فی دن کم از کم 6 سے 8 لیٹر پانی پینے کی کوشش کریں یعنی روزانہ کم از کم 10 گلاس پانی پیئیں اور دیگر ٹھنڈے مشروبات استعمال کریں۔
جہاں تک ممکن ہو بلڈ پریشر پر نظر رکھیں،کسی کو بھی لو لگ سکتی ہے یعنی ’’ہیٹ اسٹروک‘‘ہو سکتا ہے۔ ٹھنڈے پانی کے ساتھ نہائیں۔ گوشت کا استعمال بند یا کم کر دیں،پھل اور سبزیاں زیادہ استعمال کریں.
سونے کے کمرے اور دیگر کمروں میں 2نصف پانی سے بھرے اوپر سے کھلے برتنوں کو رکھ کر کمرے کی نمی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔اس دوران اپنے ہونٹوں اور آنکھوں کو بھی نم رکھنے کی کوشش کریں۔اللہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

یہ بھی پڑھیں