Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

سپاہی ولیم کی لازوال جانی قربانی

انسان کی عظمت و کردار کا اپنے وطن کی مٹی سے گہرا تعلق ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد کے رہائشی 29 سالہ مسیحی سپاہی ہارون ولیم نے مادر وطن کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
مذہبی روایات اور سائنسی ارتقا سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان مٹی سے بنا ہے اور مٹی ہی سے ارتقا کر کے تاریخی تہذیب و ثقافت تک پہنچا ہے۔ مادر ملت کے جن جوانوں کو یہ احساس ہے کہ ان کا جنم مٹی سے ہوا ہے وہ ’’دھرتی ماں‘‘ سے پیار اپنی جان سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔ جب پردیسی وطن کو لوٹتے ہیں یا کوئی فوجی دشمن کی قید سے آزاد ہو کر وطن واپس پلٹتا ہے تو وہ جونہی اپنی دھرتی پر پہلا قدم رکھتا ہے وہ پہلے جھک کر اپنے وطن کی مٹی کو چومتا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا 1992 ء میں جب پاکستان نے آسٹریلیا میں انگلینڈ کو شکست دے کر کرکٹ کا ’’ورلڈ کپ‘‘ جیتا تھا تو میچ جتوانے میں اہم کردار ادا کرنے والے معروف کھلاڑی جاوید میاں داد زمین پر سجدہ ریز ہو گئے تھے۔ یہ احساس تشکر ہے جو انسان اپنی بہترین پیشانی مٹی پر جھکا کر ادا کرتا ہے۔ زمین کی مٹی پر سجدہ کرنا یا اسے چومنا انتہائی عقیدت و احترام کی علامت ہے۔ دنیا کے تقریباً تمام مذاہب میں سجدہ زمین پر کیا جاتا ہے۔ مسلمان تو پنچ گانہ نمازوں میں روزانہ زمین پر اپنی پیشانی ٹیکتے ہیں۔ آپ نے کبڈی کے کھیل میں بھی کچھ کھلاڑیوں کو دیکھا ہو گا کہ جب وہ دوڑ لگانے کے لیئے جاپھیوں کے جھرمٹ میں جاتے ہیں تو پہلے وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے زمین کو چھو کر چومتے ہیں اور پھر اپنی آنکھوں پر لگا کر ساہ ڈالنے لئے آگے دوڑتے ہیں۔
اگر ہم سب انسان مٹی سے بنے ہیں تو مٹی ہی کی کوکھ سے غذائی پیداوار بھی اگاتے ہیں، زندہ رہنے کے لئے مٹی سے حاصل شدہ متوازن خوراک استعمال کرتے ہیں اور جب اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو تب بھی زمین کی یہی مٹی ہمیں اپنے دامن میں پناہ دیتی ہے۔ اسی لئے دنیا کا ہر فرد اپنے وطن کی مٹی کو مقدس سمجھتا ہے اور اسے چوم کر یا سجدہ کر کے اس کا قرض ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وطن کی مٹی کے لیئے جان کی قربانی اس سے بھی زیادہ مقدس فریضہ ہے جس پر ولیم نے اپنی جان قربان کر کے اس کا حق ادا کر دیا۔ وطن پر قربان ہونے کا یہ جزبہ ہی ایسا حسین ہے کہ انسان اس پر قربان ہو کر بھی زندہ جاوید ہو جاتا ہے۔
جب آسمان سے بارش برستی ہے تو ابتدائی بوندوں کے ساتھ ہی مٹی کی یہ خوشبو چاروں طرف مہک اٹھتی ہے۔ اردو زبان کا ایک دلکش محاورہ ہے کہ: ’’آپ کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں‘‘ جس کا مطلب و مفہوم ہے کہ کچھ لوگ اپنی دھن کے پکے ہوتے ہیں اور وہ کبھی بھی ہمت نہیں ہارتے ہیں اور بہادری کے ساتھ ہمیشہ اپنے محاذ پر ڈٹے رہتے ہیں۔ مٹی کی وفا کے بارے بھی بہت کچھ کہا اور سنا جاتا ہے، بزبان شاعر:
روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
کچی مٹی تو مہکے گی، ہے مٹی کی مجبوری
دھرتی ماں پر قربان ہو جانے کا یہی وہ جذبہ تھا جس کے تحت فاٹا (FATA) کے علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران ضلع کرم میں ولیم ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا کر اپنی جان قربان کر گیا جس کی آخری رسومات سینٹ پال چرچ راولپنڈی میں ادا کی گئیں۔ اس کی آخری رسومات کی تقریب میں وزیر اعظم پاکستان، وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات و نشریات، چیف آف آرمی اسٹاف، اعلیٰ سول و فوجی افسران، فوجیوں، شہریوں اور لواحقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر ملک کی ترقی میں مسیحی برادری کے کردار اور قربانیوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ایک مربوط یونٹ ہے، جس میں مختلف مکاتب فکر کے افراد شامل ہیں، جو ریاست کے اجتماعی دفاع کے لیئے کوشاں ہیں۔ اسی طرح آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے سپاہی ہارون ولیم، سپاہی انوش رفون اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا اتحاد اور بہادری قوم کی طاقت کی مثال ہے۔ قوم مادر وطن کے دفاع کے لئے ان کی خدمات اور قربانیوں کی ہمیشہ مقروض رہے گی۔ بعد ازاں سپاہی ہارون ولیم کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔حوالدار عقیل احمد (اوکاڑہ)، لانس نائیک محمد طفیر (پونچھ)، سپاہی انوش رفون (اٹک) اور سپاہی محمد اعظم خان(ہری پور) کی نماز جنازہ بھی پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں میں ادا کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں