Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

حماس کے سربراہ کی شہادت اور مضمرات

اسماعیل ہنیہ کا پورا نام عبدالسلام احمد ہنیہ تھا۔ اسماعیل ہنیہ 8مئی 1963ء کو مصر کے مقبوضہ غزہ کی پٹی کے الشاطی پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1987ء میں یونیورسٹی آف جارڈن سے عربی ادب میں بیچلر ڈگری حاصل کی اور 1987ء ہی میں فلسطین کی آزادی کی جنگ لڑنے والی تنظیم حماس کو اس کے بانی احمد یاسین کے اسسٹنٹ کے طور پر جوائن کیا۔انہوں نے 2007 ء سے 2014 ء تک غزہ کی پٹی پر فلسطین کے وزیراعظم کے طور پر حکومت کی۔ وہ حماس کے پولیٹیکل بیورو چیئرمین تھے جنہیں حماس کا مرکزی سیاسی رہنما سمجھا جاتا تھا۔
2023 ء سے اپنی شہادت تک وہ قطر میں مقیم رہے اور 31جولائی 2024 ء کو اسرائیل کے ایک میزائیل حملے میں ایران کے دارالخلافہ تہران میں شہید ہوئے۔
حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت سے چند ماہ قبل رمضان میں ان کے تین بیٹے حضیم، عامر اور محمد اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ مغربی غزہ میں الشاتی نامی مہاجر کیمپ کی جانب سفر کے دوران اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ ان کے پوتے پوتیوں میں شہید ہونے والوں میں تین بچیاں اور ایک بچہ شامل تھا۔ حماس کی جانب سے ان کے نام جاری کیے گئے تھے جن میں مونا، امل، خالد اور رازان سرفہرست تھے جبکہ اسرائیلی فوج کا دعوی تھا کہ اس نے غزہ کی پٹی پر موجود حماس کے ملٹری ونگ کے تین آپریشن مکمل کئے جو کہ حماس کے عسکری ونگ کے ممبران تھے۔
فلسطین اسرائیل کی جنگ کے دوران جب سے اسرائیل نے حماس کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا تھا تب سے اب تک ابراہیم ہنیہ خاندان کے 60 افراد شہید ہو چکے تھے۔ جب اسماعیل ہنیہ کے بیٹے اور پوتے پوتیوں کو اسرائیل نے قتل کیا تو ابراہیم ہنیہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ خبر اس وقت سنی تھی جب وہ زخمی فلسطینیوں کی عیادت کے لئے قطر کے دارالحکومت دوحہ کے ہسپتال میں موجود تھے۔ بعد میں ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے حماس کے مطالبات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اوراب اسماعیل ہنیہ شہید ہو چکے ہیں تو ہنیہ کے بیٹے اور بہو کا ان کی شہادت کے بعد ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت کو باعث فخر قرار دیا ہے۔ ابراہیم ہنیہ کے بیٹے عبدالسلام نے والد کی شہادت پر کہا کہ میرے والد ہر روز شہادت محسوس کرتے تھے، ہمیں ان پر فخر ہے اور ہم اپنا سر اونچا رکھتے ہیں کہ ہم بیت المقدس کی جنگ لڑ رہے ہیں، میرے والد کا وہ خواب پورا ہوا جس کا انہوں نے خواب دیکھا تھا۔ ہم اپنے والد کا مشن جاری رکھیں گے اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دیں گے،، حتیٰ کہ اسماعیل ہنیہ کی بہو نے بھی ویڈیو پیغام میں کہا کہ آج میرے سسر شہداء میں شامل ہو گئے ہیں، غم بہت بڑا ہے، آنکھیں اشکبار ہیں، دل ان کی جدائی میں غمزدہ ہے مگر ہمیں ان کی شہادت پر فخر ہے۔
حماس کے سربراہ کو ایران کے شہر تہران میں ان کی رہائش گاہ پر علی الصبح اس وقت شہید کیا گیا جب وہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے تہران آئے ہوئے تھے۔
ایرانی ٹی وی کے مطابق اسرائیلی حملے میں اسماعیل ہنیہ اور ان کا ایک محافظ شہید ہوئے۔ اس سے پہلے اسرائیل حماس کے رہنمائوں کو فلسطین میں اوراس سے باہر بھی نشانہ بناتا رہا ہے جیسا کہ اسرائیل حماس کے تمام لیڈروں کو دہشت گرد سمجھتا ہے اور خیال کیا جاتا ہےکہ جنوری میں بیروت میں ہنیہ کے ڈپٹی صالح الاروری کی ہلاکت کے پیچھے بھی اسرائیل کا ہاتھ تھا۔ اپریل میں بھی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شام میں ایرانی سفارت خانے کی عمارت تباہ ہو گئی تھی جس میں دو سینئر ایرانی فوجی رہنما اور متعدد دیگر افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت بھی ایران نے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کی تھی اور اب بھی ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ اسماعیل ہانیہ کی شہادت کا بدلہ لے گا تاہم اسرائیل کے اس حملے اور اسماعیل ہنیہ کی شہادت سے جہاں ایران کے دفاعی نظام پر طرح طرح کے سوالات اٹھائےجارہےہیں وہاں اس حملےمیں ایران میں موجود اسرائیلی ایجنٹوں کے ساتھ ایران کے ملوث ہونے پر بھی شکوک و شہبات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ یہ میزائل حملہ ایران کے پاسداران انقلاب کے مہمان خانے پرکیا گیاالبتہ یہ ایران کے اندر کا معاملہ ہےجسے فلسطینی بھی اپنا ’’دوسرا گھر‘‘سمجھتے ہیں۔ اس معاملے میں ایران کی جو بھی خفیہ یا واضح پالیسی ہے اسرائیل فلسطین کی موجودہ جنگ میں 40000 ہزار فلسطینی شہادتوں سمیت اسماعیل ہنیہ کی شہادت سے فلسطین اور القدس کے لیے حماس کی جدوجہد دوچند ہو گئی ہے۔ اس سے درحقیقت حماس کی آزادی پسند مسلح تحریک مزید مضبوط ہو گئی۔اب اسرائیل حماس کے خلاف اپنے ’’دہشت گرد‘‘تنظیم کے موقف پر قائم رہنے کے لئے کمزور ہو گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے قریبی اتحادیوں کے علاوہ پاکستان، روس اور چین سمیت دنیا بھر کے ممالک اسرائیل کے اس حملے کی شدید مذمت کر رہے ہیں جس سے فلسطینی کاز دنیا بھر میں انصاف اور حق پر مبنی ایک مظلوم اور ہمدردانہ امیج لے کر ابھرے گا۔

یہ بھی پڑھیں