Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

بنگلہ دیش کا خونی انقلاب اور موتی چور کے لڈو

یہاں ہر خاص و عام پاکستانی بنگالیوں کو بنگالی بھائی کہتا ہے۔ متحدہ پاکستان میں 1971 ء میں سقوط ڈھاکہ سے پہلے تک کوئی بنگالی چاہے لاہور، فیصل آباد اور کراچی وغیرہ میں تھا یا ڈھاکہ، سلہٹ اور چٹاگانگ وغیرہ میں تھا ہر پاکستانی سرراہ ملنے والے دوسرے بنگالی کو صرف بنگالی کہنے کی بجائے ’’بنگالی بھائی‘‘ہی کہہ کر پکارتا تھا۔ جب تک بنگلہ دیش نہیں بنا تھا تب تک ان دونوں ملکوں کو ’’متحدہ پاکستان‘‘کہا جاتا تھا جیسا کہ آج امارات کی ساتوں ریاستوں کو متحدہ عرب امارات یا انگلینڈ کے تمام حصوں (اور کوونٹریز)کو یونائیٹڈ کنگڈم(یو کے)کہا جاتا ہے۔ تب متحدہ پاکستان دو حصوں پر مشتمل تھا۔ ایک کو ’’مشرقی پاکستان‘‘اور دوسرے کو ’’مغربی پاکستان‘‘ کہا جاتا تھا۔
میں انگلینڈ میں نو سال رہا ہوں اور وہاں بھی میں نے پاکستانی کمیونٹی کی اکثریت کو انہیں بنگالی بھائی کہتے دیکھا اور سنا ہے۔ بنگالی بھائیوں کے لئے میرے دل اور دماغ میں اس گہرے تصور کی وجہ سے میں جب بھی کسی بنگالی ریسٹورنٹ یا کیفے ٹیریا سے گزروں تو میں کوئی نہ کوئی بنگالی ڈش ضرور ٹرائی کرتا ہوں۔ کام سے واپسی پر رستے میں پڑنے والے ایک بنگالی کیفے ٹیریا پر میں اکثر رک جاتا ہوں۔
حسب معمول میں آج اس کیفی ٹیریا پر بیٹھا تو میں نے ’’ثنا پوری‘‘ اور ’’پیٹھا‘‘کا آرڈر کیا۔ ویٹر نے مسکراتے ہوئے ثنا پوری تو میرے سامنے رکھ دی مگر پیٹھا کے بارے بتایا کہ ’’صاحب پیٹھا ختم ہو گیا ہے۔‘‘ثنا پوری سفید خشک اور بھنے چاولوں کی ڈش ہے جس میں نمک مرچ اور سلاد مکس ہوتا ہے جبکہ پیٹھا بھی چاول اور میدے سے بنایا جاتا ہے مگر یہ بنگلہ دیشیوں کی ایک ’’سویٹ ڈش‘‘ہے۔ میں نے ابھی ثنا پوری کا پیالہ ختم نہیں کیا تھا کہ اچانک ایک بنگالی بھائی نے میرے سامنے پڑی خالی پلیٹ میں ایک ’’موتی چور لڈو‘‘رکھ دیا۔ میں نے سڑک پر پیچھے مڑ کر دیکھا تو دو بنگالی بھائی گزرنے والوں کے درمیان پاکستان کے بنے ہوئے مشہور موتی چور لڈو بانٹ رہے تھے۔
یہ محض ایک واقعہ ہے مگر یہ ایک بہت ہی خوبصورت اور حسین اتفاق ہے کہ بنگالیوں نے بھائی ہونے کا اپنا حق ادا کر دیا۔ گزشتہ روز بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد نے جب بنگالی طلبہ کے احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور انڈیا بھاگنے پر مجبور ہوئی تو ان بنگلہ دیشی لوگوں نے اس خوشی میں یہاں پاکستان کے بنے ہوئے لڈو تقسیم کئے۔
یہ لڈو بانٹنے والے بنگالی بھائی اس مشرقی پاکستان کے بزرگوں کی اولاد تھے جنہوں نے متحدہ پاکستان کو توڑنے کے لئے مجیب الرحمن اور انڈیا کی بغل بچہ ’’مکتی باہنی‘‘کی سازش اور غداری کا ساتھ دیا تھا۔ اچھا ہوا بنگلہ دیش کی نوجوان نسل نے اس کا ازالہ کر دیا جس کا داغ دھونے کے لئے ڈھاکہ میں مجیب الرحمن کے مجسمہ کو احتجاج کرنے والے طالب علموں نے توڑا اور اس کی دیگر تمام ’’باقیات‘‘کو پاش پاش کر دیا جس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انہوں نے کم و بیش 500شہادتوں کا نذرانہ پیش کیا۔
اس خونی انقلاب کے پیچھے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان محبت کے مقابلے میں ایک دوسرے کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت کی ایک پوری داستان ہے کہ 71 کے عام انتخابات میں ایک طرف شیخ مجیب الرحمن اور دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے ’’کرسی‘‘کے لالچ میں اس کی گھنائونی بنیاد رکھی تھی۔ بھٹو کو فوجی ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے پھانسی دی اور مجیب الرحمن اور اس کے خاندان کے تمام افراد کو بنگالی فوج نے گولی ماری جس میں ان کی بیٹی شیخ حسینہ واجد وہاں نہ ہونے کی وجہ سے بچ گئی تھی۔ جب بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو کو دو بار اقتدار ملا تو وہ لیاقت باغ میں گولی کا نشانہ بنیں اور حسینہ واجد 19سال بنگلہ دیش پر حکومت کرنے، اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور معاشی طور پر مستحکم کرنے کے باوجود وہ اپنے باپ کی لگائی ہوئی نفرت اور غداری کی آگ کا خود ہی نشانہ بن گئیں۔
شیخ حسینہ واجد جب تک بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں انہوں نے انڈیا کے ایجنٹ کے طور پر کام کیا۔ وہ اسی بنگلا دیش کی وزیراعظم رہیں جہاں 52 سے 53 سال پہلے غیر بنگالیوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تھے۔ باقاعدہ منصوبہ بندی سے بہاریوں کی نسل کشی کی گئی تھی۔ آج ان سب شہدا ء کی ارواح یقینا بہت خوش ہوئی ہوں گی کہ ان پہ ظلم ڈھانے والوں کی اگلی نسل بھی ذلیل و خوار ہو رہی ہے۔ وہ مکتی باہنی جس نے کبھی مشرقی پاکستان میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا، آج بنگلہ دیش سے اس کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ طلبہ کے احتجاج کا مقصد یہی تھا کہ سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں اس کوٹا سسٹم کو ختم کیا جائے جو مکتی باہنی کے اراکین کی اولادوں کے لئے مختص ہے۔ شیخ حسینہ واجد نے اس احتجاج کو کچلنے کے لیئے ہر جابرانہ و قاہرانہ حربہ استعمال کیا لیکن عوامی جذبات کے سیلِ رواں کے سامنے نہ ٹھہر سکیں۔ احتجاج کرنے والوں نے ہر ظلم کا ڈٹ کر سامنا کِیا اور آخِرکار انہوں نے کرفیو کو توڑ کر اور جان کی بازی لگا کر وزیراعظم ہائوس پر قبضہ کر لیا جس کے بعد حسینہ واجد جان بچا کر بھارت بھاگ گئیں۔
یہ واقعہ ایک غیرمعمولی موڑ ہے جو کامیابی کے بعد بنگلہ دیش کی نہیں بلکہ مشرقی پاکستان کی تاریخ بن گیا ہے جس کا سب سے بڑا اہم سبق یہ ہے کہ تاریخ کبھی بھی کسی سرکش، غدار یا باغی کو معاف نہیں کرتی ہے اور اسے انجام تک ضرور پہنچاتی ہے۔
جس کا تازہ نمونہ یہی ہے کہ بپھرے ہوئے عوام کا ایک سمندر تھا جو حسینہ واجد کی رہائش گاہ کے گرد غیض و غضب سے نعرے بازی کر رہا تھا۔ سچ کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ پانچ عشرے قبل جس ڈھاکا میں پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی تصویروں کی بے حرمتی کی گئی تھی، اسی ڈھاکہ میں آج اس کے بانی مجیب الرحمن کی تصویروں پہ سیاہی اور جوتے پھینکے گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ مجیب الرحمن کے قد آدم بتوں کو بھی توڑ دیا گیا۔ یہ وہ شخص تھا جو بنگلہ بوندھو یعنی قوم کا باپ کہلاتا تھا لیکن اب وہ قوم جس نے کل تک اسے باپ کا درجہ دیا تھا، آج اس کی نشانیوں کو پیروں تلے روند رہی تھی اور اس کی خوشی میں ملک و ملک موتی چور کے لڈو بانٹ رہی تھی۔ یہ منظر گویا زبان حال سے چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ ’’دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو۔‘‘
بنگلہ دیش کے آرمی چیف نے کہا ہے کہ ملک میں فوج کا حکم چلے گا مگر مناسب وقت پر الیکشن کروا دیئے جائیں گے۔ ایسا ہوا تو اسمبلی میں حسینہ واجد کی پارٹی کا کوئی نمائندہ نہیں ہو گا اور خونی انقلاب سے گزرنے والے انہی انقلابی طلباء کو اقتدار کا سنگھاسن ملے گا جو پاکستانی حکومت کے لیئے بہترین موقع ہے کہ وہ بھارت کو بچھاڑ کر اپنے بنگالی بھائیوں کی محبت و دوستی کو گلے لگا لے۔

یہ بھی پڑھیں