Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

حسینہ واجد کا آئینہ خانہ

یہ دنیا مقافات عمل کی جگہ ہے۔ یہاں انسان جیسا بیج بوتا ہے اسے ویسی ہی فصل کاٹنا پڑتی ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے لوگ روزانہ اپنی انا اور بد اعمالیوں کی وجہ سے نشان عبرت بنتے ہیں۔ لیکن ہم انسان دوسروں کو مقافات سے گزرتے دیکھ کر اس وقت تک سبق نہیں سیکھتے ہیں کہ جب تک خود ہمارے سر پر نہیں آن پڑتی ہے۔ اس پر مستزاد بعض بدبخت تو ایسے بھی ہیں کہ وہ خود پر یہ سب مظالم ڈھا کر بھی زندگی سے کوئی سبق نہیں سیکھتے ہیں۔
ہمارے ہمسائے میں شیخ حسینہ واجد کا انجام ہمارے لیئے ایک بہت بڑا سبق لیئے ہوئے ہے۔ بنگلہ دیش میں وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے کر ملک و ملک بھاگنے والی حسینہ واجد کے بارے اطلاعات ہیں کہ انہوں نے سیاسی قیدیوں کے لئے ایک پراسرار ’’آئینہ گھر‘‘ تعمیر کر رکھا تھا جس میں وہ اپنے سیاسی مخالفین کو طرح طرح کی اذیتیں دیتی تھیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ عقوبت خانہ اس کے سیاسی قیدیوں کے لیئے کسی جہنم سے کم نہیں تھا۔ پنجابی میں کہتے ہیں کہ ’’ات خدا دا ویر اے‘‘ حسینہ واجد کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا کہ عین اس وقت جب وہ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر ہندوستان بھاگ رہی تھیں طلبا ء اور عوام اس سے نفرت کی آگ میں جل رہے تھے، اس کے والد کے مجسمہ پر ہتھوڑے برسا رہے تھے، وزیراعظم ہائوس میں توڑ پھوڑ کر رہے تھے، سامان لوٹ رہے تھے اور جو لباس حسینہ واجد پہنتی تھی اسے نفرت و حقارت اور بدتمیزی کے ساتھ ہوا میں لہرا رہے تھے۔
یہ ’’آئینہ گھر‘‘دراصل اس کے سیاسی مخالفین کے لئے خوف کا گڑھ تھا۔ یہاں سیاسی قیدیوں کو سخت اذیت ناک سزائیں دی جاتی تھی جس سے ان کے اندر خوف پیدا ہو جاتا تھا۔ وہاں حراست میں رکھے گئے اور رہا کئے جانے والے لوگ مشکل سے ہی سے اس بارے میں بات کرتے تھے کہ وہاں ان پر کیا گزرتی رہی تھی۔ جس کی اب تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔
بنگلہ دیش میں 21اگست 2016 ء کو بیرسٹر احمد بن قاسم ارمان اپنا نارمل دن گزار رہے تھے کہ انہیں ڈھاکہ کے میرپور میں ان کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا۔ دو دن بعد، سابق بریگیڈیئر جنرل عبداللہ الامان اعظمیٰ کو بھی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے 1971 ء کی جنگ آزادی میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں اٹھا لیا۔ ان دونوں افراد کا مقام شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے تحت چلنے والی ایک خفیہ جیل تھی جو قیدیوں میں ’’آئینہ گھر‘‘ کے طور پر مشہور تھی۔
بنگلہ دیش کے ایک اخبار ’’ڈیلی آبزرور‘‘کی ایک رپورٹ کے مطابق، ارمان اور اعظمیٰ دونوں کو8سال تک بدترین حالات میں بغیر کسی مقدمے کے قید میں اسی جیل خانہ میں رکھا گیا تھا، جنہیں حسینہ واجد کی حکومت کا دھڑن تختہ ہونے کے بعد 6اگست 2024 ء کو رہا کیا گیا۔
بنگلہ دیش میں اس پراسرار حراستی مرکز کے بارے میں معلومات منظر عام پر اس وقت آئیں جب حسینہ واجد کی حکومت گر چکی تھی اور وہ ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں تھیں۔حسینہ واجد کی حکومت لوگوں کو اچانک لاپتہ کرنے اور سیاسی مخالفین کے ساتھ سخت سلوک روا رکھنے کے لیے مشہور تھی مگر عام لوگ اس سے بے خبر تھے کہ اس کے سیاسی مخالفین پر قید کے دوران کیا سلوک کیا جاتا ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق، اس آئینہ گھر کے علاوہ 23 دیگر خفیہ حراستی مراکز بھی تھے، جن میں سے کچھ ڈھاکہ میں بھی تھے۔ ان پراسرار جگہوں میں سے ایک ڈھاکہ چھانی میں بھی تھا جسے آئینہ گھر کہا جاتا تھا۔ اس آئینہ گھر کو مبینہ طور پر بنگلہ دیش کی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلی جنس(DGFI) چلاتا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں صرف سیاسی قیدیوں ہی کو نہیں رکھا جاتا تھا، بلکہ اس آئینہ گھر کا استعمال شدت پسندوں کو بھی حراست میں رکھنے کے لئے کیا جاتا تھا۔
2024 ء میں ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیشی فورسز نے 2009 ء سے لے کر اب تک 600 سے زائد لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیاتھا، شیخ حسینہ چوتھی بار سال رواں 2024 ء میں برسراقتدار آئی تھیں اور ان کی حکومت نے ان جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے لئے اقوام متحدہ کی مدد لینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں تشدد کے الزامات کی تحقیقات شاذ و نادر ہی ہوتی ہے جہاں 100 سے زائد افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں۔
2022 ء میں، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)کے رہنما مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے کہا کہ پارٹی کی قائم مقام چیئرمین اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمن بھی آئینہ گھر کا شکار ہوئے۔ طارق رحمن، جو بعد میں لندن منتقل ہو گئے تھے والدہ کی رہائی کے بعد بنگلہ دیش واپس جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کے اخبار ’’پرتھم آلو‘‘نے ان کے حوالے سے کہا’’جن لوگوں کو قتل کیا جانا ہوتا ہے، انہیں اس آئینہ گھر کے ٹارچر سیل میں لے جایا جاتا ہے، اور جن لوگوں کو زندہ رکھا جانا ہوتا یے انہیں یہاں برسوں تک تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور قید رکھا جاتا ہے۔‘‘
بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر گیوین لیوس نے جب ڈی جی ایف آئی ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا اور آئینہ گھر کے بارے میں سوال کیا تو دی بزنس اسٹینڈرڈ آف بنگلہ دیش کی رپورٹ کے مطابق، لیوس کو بتایا گیا کہ آئینہ گھر کا کوئی وجود نہیں تھا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں