Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

حسینہ واجد کا آئینہ خانہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
حالانکہ شیخ محمد سلیم گاڑیوں کی مرمت کی دکان پر تھے جب انہیں ایک فون کال کے بعد اغوا ء کر لیا گیا۔ وہ بھی آئینہ گھر لے جائے گئے۔ حسین الرحمن ایک ایوارڈ یافتہ فوجی افسر تھے، جنہیں کئی سال خدمات انجام دینے کے بعد یہاں حراست میں رکھا گیا تھا۔ شیخ محمد سلیم اور حسین الرحمن دونوں نے نیٹرا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ راز فاش کئے۔ شیخ سلیم نے کہا کہ ان کے سیلوں میں کھڑکیاں نہیں تھیں، ایک اونچی چھت تھی جس میں صرف ایک روشنی کی کرن آتی تھی، جبکہ بلند آواز اور بڑے ایگزاسٹ فین تھے۔ ان پنکھوں کی آوازوں نے کمرے کی ہر دوسری آواز کو غرق کر دیا تھا۔ وہ عمارت کے اندر تھرتھراہٹ محسوس کر سکتے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ قریب میں کوئی ائیرپورٹ یا ائیربیس تھا۔
انہوں نے بتایا کہ پچھلے قیدیوں نے سیل کی دیواروں پر ڈی جی ایف آئی لکھا تھا۔ شیخ سلیم نے نیٹرا نیوز کو یہ بھی بتایا کہ ’’میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھ سے پہلے اس جیل میں کتنے لوگ بند تھے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ عقوبت خانہ میں ایک جگہ لکھا تھا: “ڈی جی ایف آئی مجھے یہاں لایا۔ان کے مطابق کچھ نقش و نگار دوسروں کے مقابلے میں زیادہ جذباتی کرنے والے تھے۔ ایک قیدی نے لکھا تھا، ’’براہ کرم میرے گھر والوں سے کہیں کہ وہ مجھے تلاش کرنا بند نہ کریں اور انہیں بتائیں کہ حکومت مجھے یہاں لے کر آئی ہے۔‘‘
عقوبت خانے میں شیخ سلیم کو وہ عزت نہیں دی گئی جو دوسرے معزز قیدیوں کو ملتی تھی۔ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مارا پیٹا گیا۔ غریب دوست ڈاکٹر یونس شیخ حسینہ کو کبھی ایک آنکھ نہیں بھائے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دن، انہوں نے مجھے بہت مارا پیٹا اور پھر مجھے ایک مختلف سیل میں لے گئے۔
دراصل سلیم وہ شخص نہیں تھا جسے وہ گرفتار کرنا چاہتے تھے۔ سلیم غلط شناخت کا شکار ہوئے تھے اور انہیں جلد ہی رہا کر دیا گیا جس کے بعد وہ ملائیشیا چلے گئے۔
اسی طرح حسین الرحمن بنگلہ دیشی فوج میں سابق لیفٹیننٹ کرنل تھے۔ وہ ’’بیر پراتیک‘‘نام کا ایک بڑا ملٹری بہادری ایوارڈ حاصل کرنے والی شخصیت تھے۔ وہ ریپڈ ایکشن بٹالین کے کمانڈر تھے جو کہ ایک بدنام زمانہ نیم فوجی گروپ ہے، جس پر امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ حسین الرحمن گروپ عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں کا حصہ رہے تھے، 2012 ء میں انہیں عسکریت پسندوں کے ساتھ ملوث ہونے کے الزام میں برطرف کر دیا گیا تھا۔ انہیں سب سے پہلے 2011 ء میں اغوا کیا گیا تھا۔ پھر 2018 ء میں وہ آئینہ گھر پہنچائے گئے۔ جب انہوں نے بیت الخلا کے ایگزاسٹ فین سے جھانکا تو وہ آئینہ گھر کا مقام پہچاننے میں کامیاب رہے۔
2018 ء میں انہیں میرپور ڈیفنس آفیسرز ہاسنگ سوسائٹی میں واقع ان کے گھر سے پکڑا گیا تھا اور آخر کار، انہیں فروری 2020ء میں رہا کر دیا گیا۔ شروع میں، وہ کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں تھے۔
انہوں نے بھی بتایا کہ آئینہ گھر کے 30 سیل تھے۔ سانڈ پروف تفتیشی سیل، جہاں قیدیوں پر تشدد کیا جاتا تھا۔ آئینہ گھر کی حفاظت سویلینز اور فوج دونوں کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’جب میں وہاں اس جیل میں تھا، میں نے مختلف سیلوں میں بہت سے لوگوں کو روتے ہوئے سنا۔ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے رہا کیا گیا، لیکن بہت سے بدقسمت لوگ اب بھی وہاں موجود ہیں۔‘‘
شیخ سلیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا، ’’میں صرف ان کی خاطر یہ بڑا خطرہ مول لے رہا ہوں۔ میں حکومت پر زور دے رہا ہوں کہ وہ جبری گمشدگیوں کے اس گھنانے جرم کو روکے۔‘‘
ذوالقرنین سائر نے وی او اے نیوز کو بتایا کہ جب متاثرین کو رہا کیا جاتا ہے، تو وہ اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانے کے لیے خاموشی اختیار کرتے ہیں۔
ماضی میں یہی کچھ پاکستان میں بھی صدر جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہوتا رہا مگر انہوں نے بھی اس سے کوئی سبق نہ سیکھا اور بالآخر 17اگست 1988 ء کو بہاولپور میں ایک ہوائی حادثے کا شکار ہو گئے۔ آج بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد بھی اپنے اعمال کے کٹہرے میں ہیں۔ وہ بنگلہ دیش کی چوتھی بار وزیراعظم بنیں مگر تاحال امریکہ اور برطانیہ نے اسے ایک ’’پناہ گزین‘‘ کے طور پر بھی اپنے ملک میں جگہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں