Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

برق گرتی ہے بیچارے مسلمانوں پر

اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی ذمہ داری ابھی تک اسرائیل نے قبول نہیں کی ہے۔ گزشتہ روز جب اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیل ہگاری سے ایک صحافی نے اس بارے سوال کیا تو انہوں نے واضح طور پر بیان دیا کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کی رات اسرائیلی فوج نے مشرق وسطیٰ میں کسی علاقے میں فضائی یا میزائل حملہ نہیں کیا تھا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس شہادت کی ذمہ داری اسرائیل اٹھانے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق بھی اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیل ہگاری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اسرائیلی فوج کے منگل کی رات لبنان میں فضائی حملے میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈر فواد شکر ضرور مارے گئے تھے لیکن ابھی تک عالمی میڈیا اس راز سے پردہ نہیں اٹھا سکا ہے کہ اسرائیل کے خلاف برسرپیکار حماس کے بانی رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل میں ایران ملوث ہے یا اسرائیل اور امریکہ ملوث ہیں۔
یہ بات اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہی تھی جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ وہ تصدیق کریں گے کہ آیا اسماعیل ہنیہ اسرائیل کے میزائل حملے میں یا پھر وہ بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔
شہید اسماعیل ہنیہ کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں 2 اگست کو قطر میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ 31 جولائی کو ایران کے دارالحکومت تہران میں سابق فوجیوں کے لئے بنائی گئی پاسداران انقلاب کی ایک محفوظ ترین عمارت میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو پراسرار انداز میں نشانہ بنایا گیا تھا۔اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر ایران اور حماس نے حملے کا ذمہ دار اسرائیل اور امریکہ کو ٹھہرایا تھا۔ تاہم اسرائیل نے اس حملے کی تردید یا تصدیق نہیں کی تھی جبکہ کسی اور گروپ کی جانب سے بھی حملے کی ذمہ داری تادم تحریر قبول نہیں کی گئی ہے۔
پاسداران انقلاب اور ایرانی کی دیگرخفیہ ایجنسیاں تاحال اس پراسرارحملے کا سراغ نہیں لگا پائی ہیں۔ تاہم اخباری اطلاعات کے مطابق ایران نے اس حوالے سے اپنے متعدد فوجی و انٹیلی جنس کے افسروں کو ضرور گرفتار کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت ایران میں کسی اندرون خانہ منصوبہ کے تحت ہوئی ہے کیونکہ اگر اسماعیل ہنیہ کی شہادت میزائل حملے سے بھی ہوئی ہے تو اخباری اطلاعات کے مطابق اس میزائل کو ایرانی ایجنٹوں کے ذریعے عمارت کے بہت قریب سے فائر کیاگیا تھا۔ اس سے قبل ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں بم نصب کیا گیا تھا اور بعد میں برطانوی اخبارات نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں نصب کئے گئے دھماکہ خیز مواد یا ’’ٹائم بم‘‘ کے پھٹنے سے ہوئی تھی۔دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے اس سے پہلے دعوی کیا تھا کہ اسماعیل ہنیہ کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کی ابھی اسرائیلی فوج کے ترجمان نے تردید کر دی ہے۔
ماضی کی خلیجی تاریخ میں مصر کے صدر انور سادات، فلسطین کے صدر یاسر عرفات کی ہلاکتیں، ایران عراق کی جنگ، عراقی صدرصدام حسین کی پھانسی اور باغیوں کے ہاتھوں لیبیا کے صدر کرنل قذافی کا کسی نامعلوم مقام پر انجام کسی کو بھولا نہیں ہو گا۔
6اکتوبر 1981ء کو مصر کے تیسرے صدر انور سادات کو قاہرہ میں سالانہ وکٹری پیریڈ کے موقع پر اس وقت قتل کیا گیا تھا جب مصر اسرائیل جنگ کے دوران مصر اسرائیل کے قبضے سے نہر سویز اور صحرائے سنہائے واپس لینے کے بعد جشن منانے کےلئے آئے تھے۔
صدر یاسر عرفات فلسطین کے علامتی صدر کےطور پر سب سے زیادہ مشہور صدر تھے جنہوں نے پی ایل او کے اعلان کے مطابق 15 نومبر 1988 ء کو یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ صدر یاسر عرفات 1994 ء تک فلسطینی نیشنل اتھارٹی کے بھی صدر رہے تھے اور کہا جاتا ہے کہ وہ بھی قدرتی موت نہیں مرے تھے بلکہ ان کی شہادت بھی پراسرار طور پر ہوئی تھی۔
یاسر عرفات نے سنہ 1950 ء میں ’’الفتح‘‘ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی تھی جو اسرائیل سے برسر پیکار رہی۔
یاسر عرفات نے 1988ء میں مذاکرات کے ذریعے اسرائیل کے حق خودمختاری کو تسلیم کر لیا۔ یاسر عرفات کو 1993ء میں اوسلو معاہدے اور 2000ء میں کیمپ ڈیوڈ امن مذاکرات کی بنا پر امن کا ’’نوبل پرائز‘‘ بھی دیاگیا مگر اسرائیلی حکومتوں سے ان کے نرم گوشے اور حماس کے عروج پر یاسر عرفات 2004 ء تک دو سال کے لئے رملہ کمپائونڈ تک محدود ہو گئے تھے اور 11نومبر 2004ء کو جب ان کی غیر متوقع طور پر 75سال کی عمر میں اچانک وفات ہوئی تو اس پر بھی دنیا بھر کے میڈیا نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔
اب اس پس منظر میں حماس کے سیاسی رہنما ابراہیم ہنیہ کی ایران میں پراسرار شہادت ایران کے لئے ایک امتحان کی شکل اختیار کر گئی ہے کہ اگر ایران علامتی طور پر بھی پہلے کی طرح اسرائیل پر کوئی حملہ کرتا ہے تو جہاں ایران اسرائیل کی کھلی جنگ چھڑنے کا امکان موجود ہے وہاں اسرائیل (اور امریکہ و اتحادیوں)کے ہاتھوں حماس کے مزاحمتی رہنمائوں اور فلسطینی باشندوں کے لئے عرصہ حیات مزید تنگ ہو جائے گا جو بالآخر مسلم امہ ہی کا جانی و مالی ہے۔

یہ بھی پڑھیں