(گزشتہ سے پیوستہ)
1993ء کے انتخابات میں جب جماعتِ اسلامی نے ’’اسلامی فرنٹ‘‘کے نام سے کسی اتحاد میں شمولیت کے بغیر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تو مسلم لیگ نون نے اسے اپنے کے خلاف خطرہ سمجھ کر جماعتِ اسلامی اور اس کے قائد، قاضی حسین احمد کے خلاف الزام تراشی پر مبنی مہم چلائی۔جن دنوں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف سیاسی مہم چل رہی تھی، جس میں جماعتِ اسلامی کا بھی فعال کردار تھا، تو بھٹو کے دست راست مولانا کوثر نیازی نے اپنے ایک رسالے کے سرورق پر مولانا ابو الاعلی مودوی کی ایک توہین آمیز تصویر چھاپی تھی۔
قدرت اللہ کے ’’شہاب نامہ‘‘میں لیاقت علی خان کا اپنے سیاسی مخالف، حسین شہید سہروردی سے متعلق وہ جملہ شامل ہے، جس میں انہیں ایک جانور سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ ایک دین داری کے دعوے دار ضیا الحق بھی اپنے سیاسی مخالفین سے متعلق کہا کرتے تھے کہ وہ جب چاہیں گے، سیاست دان دم ہلاتے ہوئے ان کے پاس چلے آئیں گے۔ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی تقاریر اور رہنماوں کی اس زمانے کی پریس کانفرنسز غیر مہذب ’’ٹھوک دیں گے‘‘جیسے جملوں سے بھری پڑی ہیں۔ جن دنوں نون لیگ کی مولانا فضل الرحمن سے نہیں بنتی تھی خواجہ آصف انھیں ایوان میں ’’مولانا ڈیزل‘‘کہا کرتے تھے۔ مخالفین کے لئے سیاسی جلسوں میں شرابی، عورتوں کا رسیا، گنوار، غنڈہ، یہودی ایجنٹ، مداری، شیدا ٹلی اور بلو رانی جیسے القابات کا استعمال ہمارے سیاسی کلچر میں بہت عام رہا ہے۔ اِس سیاسی ماحول میں عمران خان اور ان کی جماعت، تحریکِ انصاف داخل ہوئی، تو امید تھی کہ وہ اچھی سیاست پروان چڑھائیں گے کہ ان کی جماعت میں پڑھے لکھے افراد کی تعداد کافی تھی، مگر انہوں نے بھی گالم گلوچ کی انت کر دی۔ سیاست کے گندے جوہڑ کو گندگی سے مکمل طور پر پر کرنے کا آخری کارنامہ ان ہی کے ہاتھوں انجام پایا۔ عمران خان اپنی تقاریر میں مخالفین کے خلاف، جن میں منتخب وزیرِ اعظم بھی شامل تھے، ایسی زبان استعمال کرتے رہے، جس نے پہلے سے متعفن سیاست کو مزید بدبودار کر دیا۔
مسلم لیگ نون کی قیادت اور کارکنان بھی اس حوالے سے کسی طرح کم نہ تھے اور انہوں نے اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھا اور وہ گھروں میں بیٹھی خواتین کو بھی چوک اور چوراہوں پر گھسیٹ لائے۔ انہوں نے پہلے ریہام خان اور پھر بشری بی بی کے خلاف بے ہودہ گوئی کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔
خواجہ آصف نے اپنی پرانی بے ہودہ اور فحش گالم گلوچ کے ریکارڈ کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ پی ٹی آئی کی رہنما، شیریں مزاری کو ایوان میں ’’ٹریکٹر ٹرالی‘‘ کہہ کر آگے بڑھایا۔ اگر پی ٹی آئی نے مراد سعید، شہباز گل، شہزاد اکبر، فردوس عاشق اعوان اور فیاض الحسن چوہان وغیرہ کو کھلی چھوٹ دی، تو نون لیگ نے رانا ثناء اللہ، دانیال عزیز اور طلال چوہدری وغیرہ کو آزاد چھوڑ دیا کہ وہ جس طرح چاہیں ایک دوسرے کی گندگی کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے سامنے ٹی وی ٹاک شوز اور ایوانوں میں کھڑے ہو کر ننگا کریں۔
اِس دوران ٹاک شوز باقاعدہ مچھلی بازار کا منظر پیش کرتے رہے ہیں، مگر بعد میں یہ روز کا معمول بن گیا، جب ایک ٹاک شو میں حکمران جماعت کی رہنما اور معاونِ خصوصی برائے اطلاعات، پنجاب، فردوس عاشق اعوان نے دورانِ بحث طیش میں آ کر پیپلز پارٹی کے نومنتخب رکن قومی اسمبلی، قادر خان مندوخیل کو زوردار تھپڑ دے مارا۔ مزید برآں اس سیاسی لچر پن کے فروغ میں قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی میں منتخب اور معزز ارکان کی باقاعدہ پانی پت کی طرح کی دو بدو لڑائیوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا جس میں منتخب معزز اراکین اسمبلی نے ایک دوسرے کو گندی گالیاں دیں، جوتے پھینکے، گتھم گتھا ہوئے اور ایک دوسرے کو زخمی بھی کیا۔اِس مختصر سے تاریخی جائزے سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا سیاسی کلچر بے ہودگی اور بے توقیری کی کس انتہا کو پہنچ چکا ہے اور نوجوان نسل میں مزید فروغ پا رہا ہے۔ ہم اپنی ٹی وی اسکرینز پر اسمبلیوں کے اجلاسوں کی کارروائی میں خود مشاہدہ کرتے ہیں کہ جب کسی پارٹی کا کوئی رکن مخالفین پر زیادہ بدتمیزی سے گرج رہا ہوتا ہے اور اس کے منہ سے جھاگ کے ساتھ ناشائستہ جملے بھی نکل رہے ہوتے ہیں، تو اجلاس میں موجود پارٹی قیادت اسے روکنے کی بجائے، اس کی باتوں سے لطف اندوز ہو رہی ہوتی ہے۔
شائد ہمارے سیاست دان غیر پارلیمانی زبان کو ہی پارلیمانی زبان سمجھتے ہیں۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اب ہمارے ہاں گندی زبان کے استعمال کو عوامی طور پر پارلیمانی زبان کہا جانے لگا ہے۔ایسے بدتہذیب منتخب اراکین کو معزز ارکانِ اسمبلی کہنا کسی گناہ سے کم نہیں ہے جو اسمبلیوں میں کھڑے ہو کر ایک دوسرے کو فحش گالیاں دیتے ہیں، تھپڑ مارتے ہیں اور ایک دوسرے سے ہاتھا پائی کر کے ایوان کو مچھلی مارکیٹ بنا دیتے ہیں۔ یہ تماشا پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بارہا لگ چکا ہے.
اس وقت بھی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان حکومت کی تحویل میں ہیں اور جیل میں ہیں۔ اس کے باوجود نون لیگی رہنما ان پر الزام لگا رہے ہیں۔ شیخ سعدی کی ایک حکایت ہے کہ جب لشکر کا سپہ سالار کسی باغ سے ایک پھل توڑے گا تو باقی لشکری پورے باغ کی جڑیں بھی اکھاڑ لیں گے۔ برائی ہمیشہ اوپر سے نیچے سفر کرتی ہے۔ جیسے ہمارے بچے ہم سے اچھے اطوار یا بدتمیزی سیکھتے ہیں اسی طرح عوام الناس اپنے سیاسی لیڈروں سے سماجی رویئے سیکھتے ہیں۔ ہم جس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہیں ان کا فرمان ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ اخلاق و اطوار انسانی تہذیب کی بنیاد ہیں۔ لھذا منتخب ارکان اسمبلی کو چایئے کہ وہ ملکی قیادت کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنی گفتار و کردار میں اعلی انسانی تہذیب کا مظاہرہ کرنا سیکھیں۔ ہمیں جاننا چایئے کہ اس سیاسی بدتہذیبی کا فروغ کیوں ہو رہا ہے اور اس کا اصل ذمہ دار کون ہے۔