Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

دال میں کچھ کالا کالا ہے

جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل جاری ہے۔ اس ٹرائل کا کچھ بھی امکانی نتیجہ نکل سکتا ہے۔ ان میں سے ایک امکان یہ بھی ہے کہ انہیں کچھ بھی نہیں ہو گا۔ جب جنرل فیض حمید آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل تھے تو آرمی چیف جنرل باجوہ صاحب ان کے باس تھے۔ اس وقت جنرل باجوہ صاحب ملک سے باہر ہیں۔ ایک افواہ یہ ہے کہ انہیں جان بوجھ کر باہر رکھاجا رہا ہے۔ ایسا ہے تو اس پنجابی محاورے کے مصداق کہ ’’مجھاں مجھاں دیا بھیناں ہوندیاں نے‘‘ اگر باجوہ صاحب کو کچھ نہ ہوا توجنرل فیض حمید کو بھی کچھ نہیں ہو گا۔
اس کے باوجود آئی ایس آئی کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ 9مئی کے مجرمان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو کہ 9مئی کے واقعہ میں ملوث کسی بھی مجرم کو نہ چھوڑا جائے کیونکہ 9مئی کا واقعہ جہاں بڑے پیمانے پر کی گئی اعلانیہ اور اجتماعی دہشت گردی و بغاوت تھی وہاں پس پردہ پاک فوج کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی سعی بھی تھی۔
سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی ایک فوجی بغاوت ہوئی تھی جس میں کچھ فوجی افسران کو کورٹ مارشل کے ذریعے سزائیں دی گئی تھیں بلکہ خود سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو بھی خصوصی عدالت نے آئین شکنی اور سنگین غداری کے مقدمے میں انہیں سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا جس کے ردعمل میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’فوج میرے ساتھ ہے، اگر میں یونیفارم میں نہ بھی ہوا تب بھی فوج میرے ساتھ ہو گی، یہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔‘‘ہوا بھی یہی کہ جنرل پرویز مشرف کی سزائے موت پر کوئی عمل دخل نہیں ہوا تھا۔
9مئی کےواقعہ کو فوجی بغاوت کے تناظرمیں دیکھاجائے تو اس میں ملوث فوجی افسران جس میں جنرل فیض حمید سرفہرست ہیں کے علاوہ ان سویلین کا ٹرائل بھی فوجی عدالت میں ہی ہونا چاہیے اور انہیں قرار واقعی سزا بھی دی جانی چاہیے۔ 9مئی کے ان سویلین مجرموں کے سرغنہ عمران خان پہلے ہی جیل میں ہیں۔ انہیں سرغنہ اس لیے لکھا ہے کہ وہ ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں تو وہ اسی لفظی سلوک کے مستحق ہیں۔ لیکن حیرت ہے کہ انہیں جیل میں وہ ساری سہولتیں میسر ہیں جو جیل سے باہر بیٹھے آزاد پاکستانیوں کو بھی میسر نہیں ہیں۔ عمران خان پر کسی حکومتی رکن نے دبے لفظوں میں یہ الزام لگایا تھا کہ انہیں جیل میں بھی کوکین کی سہولت دی جا رہی ہے۔ اس الزام پر یہی بھلا مانس تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ پنجابی محاورے کی طرح کہ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں کہ بابا حکومت بھی آپ کی ہے اور جیل سپرنٹنڈنٹ بھی آپ کا ہے اور آپ الزام عمران خان پر لگا رہے ہیں کہ وہ جیل میں بیٹھ کر کوکین پیتا ہے۔ ’’خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد، جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔‘‘ پہلے کسی معزز رکن اسمبلی کے منہ سے اسمبلی کے فلور پر یہ بھی سنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل میں فائیو سٹار ہوٹل کی سہولیات میسر ہیں۔ یاد آیا کہ جب سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف شریف جیل میں تھے تو انہیں بھی فائیو سٹار ہوٹل کی سہولتیں میسر تھیں۔ اگر یہ سہولیات میسر نہیں بھی تھیں تو انہیں ماڈل ٹائون کی لسی اور سری پائے ضرور بھجوائے جاتے رہے ہوں گے۔ یہ ایسے بڑے مجرموں کا پروٹول ہے، عوام کے معاشی حالات جائیں بھاڑ میں، ان شرفا ہائے عظام کو ایسی سہولیات ملنی چاہیے۔
معزز قارئین کرام، اب عمران خان کے اس بیان کے تناظر میں اس سہولت پر بھی تھوڑا غور کریں کہ ایک طرف ڈی جی آئی ایس پی آر پریس کانفرنس کرتے ہیں اور دوسری طرف اسی روز اس پریس کانفرنس کے ردعمل میں خان صاحب کا سخت بیان بھی چھپتا ہے کہ مجھے جنرل فیض کے ٹرائل سے ڈرایاجا رہا ہے، جنرل فیض جنرل باجوہ کی اجازت سے ملنے آتا تھا اور جنرل باجوہ کو رپورٹ کرتا تھا۔ جنرل باجوہ کے بغیر فیض کا ٹرائل بدنیتی ہے۔ جنرل فیض، جنرل باجوہ کے ماتحت تھا، باجوہ کو اس لئے باہر رکھا جا رہا ہے کہ اس نے رجیم چینج کیا، جنرل باجوہ کو ٹرائل میں لائیں تو وہ سارے بھید کھول دے گا، عمران خان…!!حالانکہ جیل میں قید عمران خان کو بیان دینے یا قلیل وقت کی ایسی کوئی پریس کانفرنس کرنے کا موقع تو تبھی ملتا ہےجب ان کا سامناجج کے سامنے پیشی کے وقت صحافیوں سے ہوتا ہے مگر خان صاحب تو جب چاہتے ہیں جیل میں بیٹھ کر بیان پر بیان داغتے رہتے ہیں، آخر ایسا کیوں اور کیسے ممکن ہوتا ہے؟
اس پس منظر میں اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان کیا کھچڑی پک رہی ہے یہ اسٹیبلشمنٹ جانے یا عمران خان جانے، ہم صرف اتنا کہے دیتے ہیں کہ دال میں کچھ کالا کالا ضرور ہے۔ عمران خان کو اس کے حسب منصب سہولیات ضرور ملنی چاہئیں البتہ جمہوریت کی گاڑی کو مزید ’’پنکچر‘‘نہیں لگائے جانے چاہئیں یعنی ہماری ناقص رائے میں دال میں کچھ کالا کالا ہو، خیر ہے، مگر ساری دال کو ہرگز کالا نہیں ہونا چاہیے۔ جمہوریت کی ریل گاڑی بڑی مشکل سے پٹڑی پر چڑھی ہے اسے چلتے رہنا چاہیے۔
دنیا کی ابھرتی ہوئی سپر پاور چین 1949 ء میں آزاد ہوا اور ہمیں اس سے 2سال قبل 1947ء میں آزادی نصیب ہوئی۔ اب چائنا ترقی کرتے کرتے کہاں پہنچ گیا ہے اور ’’کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ‘‘کے مصداق ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کو بھی چاہیے کہ اب وہ سیاسی معاملات کی نگرانی کرتے وقت کچھ سنجیدگی سے کام لے۔ یہ روز روز کی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور ادل بدل پہلے سے بھٹہ بیٹھی ملکی معیشت کو مزید برباد کر دے گی۔ غیر معمولی حالات کی یہ نشاندہی بہت عاجزانہ اور دست بستہ سی ہے۔ اس پر غور نہیں کیا گیا تو جیسے عمران خان کو پہلے ہٹایا گیا اور پھر پی ٹی آئی کو عددی اکثریت کے باوجود حکومت نہیں دی گئی، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا یہ سلسلہ تو پھر یونہی چلتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں