زندگی تلخ و شیریں تجربات اور یادوں کا مجموعہ ہے۔ ایک ہی عمل کو انجام دینے والے دو مختلف افراد میں سے ایک بیک وقت خوش ہوتا ہے اور دوسرا اسی عمل کی انجام دہی سے غم زدہ ہو جاتا ہے۔ اس کی مثال ریسلنگ یا باکسنگ وغیرہ کے دو کھلاڑیوں سے بھی دی جا سکتی ہے کہ جس میں ایک ہی کھیل کا نتیجہ مختلف نکلنے سے ایک کھلاڑی جیت کر خوش ہوتا ہے اور دوسرا ہار کر پریشان و نڈھال ہو جاتا ہے جس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ زندگی میں غم اور خوشی کا انحصار انسان کی کوشش سے نکلنے والے نتائج پر ہے۔ زندگی میں بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنی جدوجہد سے جو حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اسے حاصل تو نہیں ہوتا مگر اس کی پریشانی یا مخصوص ذہنی کیفیت اسے آگے چل کر کوئی بڑا فائدہ دیتی ہے یا اسے کسی بڑے نقصان سے بچا لیتی ہے۔ اس لحاظ سے ہماری زندگی جدوجہد، اعمال اور ان کے نتائج کا ایک انتہائی پیچیدہ کھیل ہے۔ یوں ہمیں زندگی میں اپنے اعمال کے مثبت یا منفی نتائج پر مکمل کنٹرول ہرگز حاصل نہیں یے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک قول ہے کہ، ’’میں نے اللہ کو اپنے ارادوں کی شکست سے پہچانا۔‘‘ انسان کی زندگی میں تقدیر یا قسمت کا عمل دخل زندگی کی اسی کشمکش کی وجہ سے قائم ہوتا ہے۔ ہم اپنی زندگی میں ابھی ناخوش اور غیر مطمئن ہیں تو یہ کچھ بعید از قیاس نہیں کہ اگلے ہی لمحے آپ کو کوئی ایسی خبر ملے کہ اگر آپ خوش ہیں تو غمزدہ ہو جاتے ہیں اور غمگین ہیں تو خوشی سے لہرانے لگتے ہیں۔ بہت سے لوگوں میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ دوسروں سے حد سے زیادہ متاثر ہو جاتے ہیںاور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ ناکامیوں یا مشکلات سے گھبرا کر اپنے آپ ہی سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔بعض لوگ زندگی کی تلخیوں سے گھبرا کر بہت سا غصہ خود اپنے خلاف رکھنے لگتے ہیں۔ زندگی میں بہت سے لوگ ناکامیوں اور غم و آلام سے تنگ آ کر خود کو مختلف طریقوں سے مجروح کرنے لگتے ہیں۔ اگر وہ اچھے انسان ہیں تو برے بن جاتے ہیں، جنسیت یا شراب کے رسیہ ہو جاتے ہیں اور یہاں تک کہ بعض لوگ ’’منافقین‘‘ پر بھی اتر آتے ہیں۔انسان کی زندگی میں اس سے زیادہ تلخ منظر کوئی اور نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ تنگی حالات کی وجہ سے گھبرا کر اپنی اچھی فطرت اور عادات کو بدلنے پر مجبور ہو جائے اور یہاں تک کہ وہ برائی کرے یا دل میں نفرت اور منافقت کو پروان چڑھانے لگے۔ آخر یہ ناخوشی، بے اطمینانی، غصہ اور تلخی اپنا آپ کب تک برداشت کرے؟ نتیجتا انسان کا یہ غصہ دوسروں پر بھی چھلکتا ہے۔ لیکن یہی وقت انسان کے امتحان کی گھڑی ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک خود کو کنٹرول کرتا ہے یا اپنے اعصاب پر قابو رکھ سکتا ہے۔اس لمحہ انسان اپنی ذات کے اندر جاری اس مسلسل ملگجی تاریکی والے تلخ ماحول کو نہ سمجھ سکے تو اسے ساری دنیا ہی بری لگنے لگتی ہے۔ خود سے ناخوش ایسے انسان کو اتنا یاد رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ ایک لمحے کے لیئے اپنے ذہن کا ایک تنقیدی جائزہ ہی لے سکے۔ بنیادی طور پر تو انسانی جبلت میں خود پسندی اور خود پرستی ہی پائی جاتی ہے جو اس کی بقا کے لئے لازمی ہے۔ پھر انسان کے اندر یہ خوف سے کہ I I a؟اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر یہ دو اہم مگر ایک دوسرے کے برعکس یہ وجوہات انتہائی دلچسپ ہیں۔ اپنے آپ پر غصے کی تہوں میں زیادتی یا ناانصافی کا شدید احساس ہوتا ہے۔ کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو، مسلسل طعنوں تشنوں کے ماحول میں رہتے ہوئے یہ تسلیم کر لیا کہ ہاں ہم برے ہیں مثلاً مسلسل رنگت یا جسامت پر طعنے ملیں تو ہم بسا اوقات تسلیم کر لیتے ہیں کہ ہاں ہم بدصورت اور بدہیئت ہیں تو اس دوران ہم خود سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ انسانی نفس اپنی اصل میں خود سے نفرت نہیں کر سکتا۔ اس لئے اس نفرت کا غصہ دوسروں پر بھی نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔اس کے برعکس کچھ لوگ پرفیکشنسٹ ہوتے ہیں۔ اس کے پیچھے بھی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر خوب سے خوب تر کی جستجو خود سے غیر مطمئن رکھتی ہے مگر یہ ناخوشی نفرت تک نہیں پہنچنی چایئے۔ اسی طرح ایسے لوگ دوسروں سے بھی زیادہ خوش نہیں ہوتے مگر بہرحال چونکہ اپنے آپ سے بھی راضی نہیں ہوتے تو اس لئے وہ دوسروں پر بھی زیادہ غصہ نہیں ہوتے ہیں۔ یہ ایک مشکل ہدف ہے جسے حاصل کرنے کے لیئے کچھ لوگ اس کے قریب پہنچتے ہیں تو وہ خوش ہونے کے بجائے اپنے لیئے مزید ٹاسکس طے کر لیتے ہیں۔ اس طرح وہ کچھ وقت کے لیئے غیر مطمئن رہتے ہیں اور تھکتے تو رہتے ہیں مگر یہی لوگ ہیں جو اپنی پرفیکشن کی خاطر مسلسل محو سفر رہتے ہیں۔ پہلی قسم کے لوگ اگر اصل وجہ پر کام کئے بغیر محض سیلف لوو کا سبق کہیں سے سیکھ لیں تو خلا کو بھرنے لئے سطحی طور پر خود ستائشی شروع کر دیتے ہیں مثلا سوشل میڈیا پر کچھ لوگ مسلسل خودنمائی کرتے ہیں اور کہتے ہیں میں اپنے آپ سے کسی زمانے میں خفا اور اعتماد کی کمی کا شکار تھا تو اب سیلف لوو سیکھا ہے۔ لیکن دل سے بتائیے گلیمر کی دنیا کے لوگوں کے علاوہ کتنے ذہین لوگ، خود سے مطمئن ہیں۔ بااعتماد لوگ اپنی اچیومنٹس کا ذکر نہیں کرتے۔ وہ اپنی تعریفوں کے اشتہار نہیں لگاتے ہیں۔ پروفیشنل اور اکیڈمک دنیا میں جو جتنا بڑا پروفیسر ہے، مطمئن ہے، خود اعتماد ہے وہ اتنا ہی تصویروں کی نمائش، جذباتی سائیکولوجیکل کوٹیشن لگانے سے دور رہتا ہے۔ کامیاب بزنس مین، سائنسدان، دقیق علم رکھنے والے علماء اپنی سیرو تفریح کی مختلف زاویوں سے کھینچی تصاویر سوشل میڈیا پر لگا کر سیلف لوو کا پرچار نہیں کرتے ہیں ورنہ اس سے ان کے اندر پائی جانے والی ’’خود اعتمادی‘‘ ختم ہو جاتی ہے۔کچھ لوگ ’’سیلف لوو‘‘ کے نام پر مجروح سیلف ایسٹیم والوں کو ایسے طریقے سکھاتے ہیں جو ایک گہرے زخم پر مرہم اور بینڈیج سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ کسی حد تک ابتدائی فائدہ دے گا مگر اس زخم کو گہرے ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت سارا مرہم اور ہر روز نئی بینڈیج بلکہ کئی کئی بینڈیجز لگانے سے بعض زخم ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں مگر آپ کو یہ اطمینان رہتا ہے کہ آپ علاج کر رہے ہیں اور ٹھیک ہو رہے ہیں مگر درحقیقت ایسا ہو نہیں رہا ہوتا ہے۔یہ انہی لوگوں کی کہانی ہے جن کے بارے ایک دن آپ اچانک سنتے ہیں کہ ایسے کسی شخص نے خودکشی کر لی، نشے میں مبتلا ہو گیا، طلاق ہو گئی، لوگوں سے مسلسل لڑائی اور گھر والوں سے قطع تعلق رہنا شروع ہو گیا ہے۔ آخر یہ سب کیا ہے؟ یہ اپنی تکمیل کے سفر پر چلنے والے پرفیکشنسٹ افراد کے ساتھ ایسا اکثر ہوتا ہے۔ زندگی کے دوسرے مسائل اس سے الگ ہیں۔ لیکن اگر دونوں مسائل ایک ہی فرد میں جمع ہو جائیں تو مسئلہ دوسری قسم کا ہو جاتا ہے۔ ہر انسان کی ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ اپنی تکمیل کی بنیاد محاوروں اور کہاوتوں پر نہ رکھیں بلکہ اس کا آغاز دوسروں کی بجائے خود کو سمجھنے سے کریں۔