Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

جرمن قوم اور ڈاکٹر رتھ فائو

یہ اسی کی دہائی میں ایف سی کالج لاہور کا زمانہ تھا۔ ان دنوں ہم چند قریبی کلاس فیلوز لاہور اور قرب و جوار میں ہر ہفتے کسی نہ کسی سیرگاہ کو جایا کرتے تھے۔ اس روز ہم چند مخصوس دوستوں کا پروگرام جناح باغ جانے کا تھا۔ ہم سفید رنگ کی بلڈنگ والی جناح لائبریری کے قریب سے گزرے تو ہم نے ایک درخت کے سائے تلے ایک انگریز جوڑا بیٹھا دیکھا۔ کالج لائف میں ہچکچاہٹ نہیں ہوتی اور نہ بندہ انجانے لوگوں سے بات کرتے ہوئے گھبراتا ہے۔ ہم ان کی طرف پلٹ گئے اور گپ شپ شروع کر دی۔ میں ان دنوں گلبرگ کے ایک بنگلہ کے سرئونٹ کواٹرز میں رہتا تھا جو کرنل مختار شاہ کی ملکیت تھا۔ ان کے ساتھ والا بنگلہ شاہ محمود قریشی کے والد سجاد حسین قریشی کا تھا۔ وہ ان دنوں گورنر پنجاب تھے۔ جب اس جوڑے سے علیک صلیک ہوا تو انہوں نے بتایا کہ وہ قذافی سٹیڈیم کے نزدیک گلبرگ تھری میں رہتے ہیں۔ اتفاقاً ان کا گھر میری رہائش سے تین بنگلے چھوڑ کر تھا۔ اگلے دن شام کو انہوں نے مجھے چائے پر بلایا۔ اس جوڑے کا تعلق میونخ جرمنی سے تھا جہاں علامہ اقبالؒ بھی تعلیم حاصل کرتے رہے تھے اور وہ دونوں واپڈا ہائوس لاہور میں شائد منیجر اور انجینئر کے عہدوں پر کام کرتے تھے۔ کرنل مختار شاہ کے بھائی اقتدار علی شاہ دارا پاکستان ہاکی ٹیم کے پہلے کپتان تھے۔ کرنل سید مختار شاہ انتہائی خلیق اور نرم مزاج انسان تھے۔ جب میں نے کرنل صاحب کے سامنے جرمن دوستوں کا ذکر کیا تو انہوں نے اگلے ہفتہ انہیں رات کے کھانے پر بلا لیا۔ کھانے کی میز سے پہلے اور بعد میں یہ میٹنگ انتہائی متاثر کن تھی۔ میں نے زندگی میں پہلی بار عالمی تاریخ پر اتنی خوبصورت گفتگو سنی۔ کرنل صاحب نے جنگ عظیم دوم کی بہت سی یادیں دہرائیں، ہٹلر اور نازیوں کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور ہم سارے مبہوت ہو کر ان کی گفتگو سنتے رہے تھے۔ بعد وہ دونوں واپس جرمنی چلے گئے اور ایک عرصہ تک ہمارے درمیان خط و کتابت ہوتی رہی۔وہ دن اور آج کا دن جرمن قوم سے مجھے خصوصی لگائوپیدا ہو گیا۔
جرمن قوم کے بارے مجھے دوسری دفعہ جانکاری رتھ فائو کے بارے پڑھ کر ہوئی۔ ڈاکٹررتھ فائو کا پورا نام کیتھرینا مارتھا فا (1929ء تا 10 اگست 2017 ء) تھا۔ وہ ایک 30سالہ نوجوان جرمن ڈاکٹر، سرجن اورسوسائٹی آ ڈاٹرز آف دی ہارٹ آ میری نامی کے کی رکن تھیں۔ وہ پہلی بار کراچی 1960ء میں آئیں۔ ان کا دل سڑک پر ایک جذام کے مریض کی حالتِ زار دیکھ کر ایسا پسیجا کہ پھر وہ واپس جرمنی نہیں گئیں اور اپنی پوری زندگی کوڑھ کے مریضوں کا علاج کرنے کے لئے وقف کر دی۔ حتیٰ کہ 1996ء میںعالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کو قابو میں قرار دے دیا۔ پاکستان اس ضمن میں ایشیاء کے اولین ملکوں میں سے تھا جو ڈاکٹر رتھ فائو کی انسانی ہمدردی کے توسط سے یہ درجہ حاصل کر سکا۔ پاکستان نے ڈاکٹر رتھ کے لئے 1989ء میں ہلال پاکستان، 2010 ء میں نشان قائداعظم اور ستارہ امتیاز کا اعلان کیا۔ ان کا انتقال 19اگست 2017 ء میں ہوا اور انہیں گورا قبرستان کراچی میں دفن کیا گیا۔ڈاکٹر رتھ فائو کو پاکستان کی ’’مدرٹریسا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر روتھ فائو 57سال تک پاکستان میں انسانیت کی خدمت کرتی رہیں۔ انہوں نے جذام کے مریضوں کے علاج کی ذمہ داری اس وقت لی جب پاکستان میں اس بیماری کو ’’لاعلاج‘‘ اور ’’خدا کا عذاب‘‘سمجھا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سگے رشتے دار بھی اس مرض میں مبتلا آدمی کو بھلا دیتے تھے۔ حتیٰ کہ والدین اس مرض میں مبتلا اپنی سگی اولاد اور بچے اپنے سگے ماں باپ کو پیٹھ پر بٹھا کر شہر سے باہر ویرانے میں چھوڑ آتے تھے۔ لیکن یہ عظیم الشان خاتون ڈاکٹر رتھ فائو تھیں جو انہی مریضوں کا علاج نہ صرف اپنی اولاد سمجھ کر کرتی تھیں بلکہ اکثر مریضوں کے گھر کا چولہا بھی اپنی جیب سے چلاتی تھیں۔
ڈاکٹر رتھ فائو 1929 ء میں جرمنی میں دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں کے درمیان پیدا ہوئی تھیں۔ وہ جرمنی سے فرانس گئیں اور وہاں طب کی تعلیم حاصل کی۔ 1960ء میں سماجی خدمت کے لئے انہوں نے انڈیا جانے کا فیصلہ کیا لیکن ویزا کے مسائل کی وجہ سے انہیں پاکستان کے شہر کراچی میں رکنا پڑا۔ کراچی میں اس قیام کے دوران انہوں نے آئی آئی چندریگر روڈ پر جذام کے مریضوں کی ابتر حالت دیکھی تو انہوں نے انڈیا جانے کا ارادہ ترک کر کے کراچی ہی میں رکنے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر روتھ فائو نے عارضی ڈسپنسری کو مستقل کلینک کی شکل دی اور چند برسوں بعد کراچی کے علاقے صدر میں ’’میری ایڈیلیڈ لیپ روسی سینٹر‘‘کی بنیاد رکھی۔ پچاس بیڈ پر مشتمل یہ ہسپتال آج بھی قائم ہے جہاں دوائیں، ٹیسٹ اور دیگر تمام سہولیات پہلے دن کی طرح آج بھی بالکل مفت دی جاتی ہیں۔جرمن قوم کے ہٹلر کا کردار ایسا ہے کہ جنگ عظیم دوم کا ذکر آئے اور ہٹلر کا نہ آئے تو ایسا لگتا ہے کہ تاریخ ان کے بغیر ادھوری رہ گئی ہے۔ میں 1998ء میں انگلینڈ گیا۔ سنٹرل لندن میں دریائے تھیمز کے کنارے جنگ عظیم دوم کی ایک یادگار ہے۔ ہم وہاں سے گزرے تو ایک دوست نے بتایا کہ اس جگہ ہٹلر کے جہازوں نے بمباری کی تھی۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ جرمنی نے حملہ کیا تھا۔ بمباری کے نشانات دکھاتے ہوئے اس دوست نے ہٹلر کا حوالہ دیا تھا۔ جب میں 1998 ء میں روزنامہ اوصاف میں سب ایڈیٹر تھا تو تب بھی جرمنی کا ذکر اکثر ہوا کرتا تھا کیونکہ روزنامہ ہذا کے مالک اور چیف ایڈیٹر مہتاب خان جرمنی میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان لوٹے تھے۔
نو سال قبل دبئی میں ایک دوست نے عمیرہ بیگم Amira Begumنامی ایک جرمن خاتون سے تعارف کروایا تو پتہ چلا کہ جرمنی کے لوگ واقعی دلیر اور ایک وفادار قوم ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں وہ کر دکھاتے ہیں۔ اس عرصے میں ہماری ہر ہفتہ ملاقات ہوتی رہی ہے بلکہ کبھی کبھی روزانہ اور کبھی ہر دوسرے دن بھی ہو جاتی ہے۔ میں جب ناشتے یا کھانے کی میز پر ملتا ہوں، کبھی ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ وقت پر نہ پہنچی ہوں۔ ملنے کا وقت پہلے طے ہو جاتا ہے، دوبارہ ہمیں ایک دوسرے کو یاد کرانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہم دونوں طے شدہ وقت پر پہنچ جاتے ہیں۔ میں نے ان کا ایک دو دوستوں سے تعارف کروایا تو پتہ چلا کہ عمیرا نے کاروبار میں ان کے ساتھ ہزاروں لاکھوں درہم کی انوسٹمنٹ کی مگر وعدے کے مطابق مجھے اس کی بھنک تک نہ ہونے دی۔ وہ ایک بار جو الفاظ دے دیں جتنا مرضی نقصان ہو جائے وہ اس سے کبھی واپس نہیں پلٹتی ہیں۔عمیرہ بیگم کو ملنے کے بعد احساس ہوا ہے کہ ایک قوم مذہب، علاقے یا رنگ و نسل سے نہیں بنتی بلکہ وہ اپنے خوبصورت اصولوں اور کردار سے بنتی ہے کیونکہ انسانوں کے بارے باقی سب کچھ بھول جاتا یے مگر ان کے اصولوں و ضوابط اور اچھا اخلاق وغیرہ کبھی نہیں بھولتا ہے۔ جرمن خواتین کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ وفادار خواتین ہیں۔ عمیرہ کو دبئی میں رہتے ہوئے دس سال ہو گئے ہیں اور وہ ایک بار بھی واپس جرمنی نہیں گئی ہیں۔ انہوں نے اپنا نام عمیرہ بیگم دبئی میں آنے کے بعد تبدیل کیا۔ اب ان کا بھی پروگرام ہے کہ وہ انسانی خدمت کے فلاحی کاموں کا آغاز کریں۔ میں جب بھی عمیرہ بیگم سے ملتا ہوں مجھے ان کی صورت میں ڈاکٹر رتھ فا ئویاد آتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں