Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

کتب بینی کے فوائد

(گزشتہ سے پیوستہ)
مسائل کے حل کے لیئے مجھے زیادہ جدوجہد نہیں کرنا پڑتی اور ذہن میں روز نئے اور اچھوتے خیالات آتے ہیں۔ کتب بینی اور مطالعہ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کا بچا ہوا وقت ضائع ہونے سے بچ جاتا یے اور وقت کا صحیح استعمال ہی زندگی ہے۔مطالعہ کے لئے کتابوں اور موضوعات کا انتخاب احتیاط سے کرنا چایئے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کون سی کتابیں پڑھنی ہیں کیونکہ کچھ کتابیں بھی زہر کی مانند ہوتی ہیں۔ خود کو کسی بھی ایک نظریئے کے ساتھ باندھ لینے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ اس کے خلاف کچھ نہیں پڑھ سکتے۔ یہ ایک خوفناک بات ہے۔ کتاب کا مطالعہ آپ کے ذہن کو کھولتا ہے ناکہ وہ بند کرتا ہے۔ ژاں پال سارتر کہتے ہیں کہ “میں نے اپنی زندگی میں جو کچھ بھی سیکھا ہے،سب کتابوں ہی کی دین ہے۔”
ہم بعض دفعہ عقلی طور پرجمودکاشکار ہوجاتے ہیں۔ حقائق سے آشنا ہو کر منطقی نتائج اخذ کرنے کے لیئے کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے۔ اسی لئے ہمارے اساتذہ کہتے ہیں کہ کتابوں کا مطالعہ کیجئے یاجس موضوع سےشغف ہو،اس موضوع کی متعلقہ تمام کتابوں کو پڑھیں ۔ ایک مفکر الجاحظ نے ایک پریشان حال شخص کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ” کتاب ایک ایسا دوست ہے جو آپ کی خوشامدانہ تعریف نہیں کرتا اور نہ آپ کو برائی کے راستے پر ڈالتا ہے۔ یہ دوست آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا ہونے نہیں دیتا۔ یہ ایک ایسا پڑوسی ہے جو آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ ایک ایسا واقف کار ہے جو جھوٹ اور منافقت سے آپ سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرے گا۔” اچھی کتاب وہ ہوتی ہے جو زندگی کے معیار کو بہتر بناتی ہے۔ ان کتابوں کو بھی پڑھیں جن پر پابندی لگ چکی ہے ان لوگوں سے ملیں جن کو معاشرہ برا کہتا ہے ان جگہوں پر جائیں جہاں جانا منع ہے یہ چیزیں آپکو مضبوط بنائیں گی۔ کتابیں معاشرے کے بنے راستوں سے ہٹاتی ہیں، آپکو ایسے تجربات سے آگاہ کرتی ہیں جن کے متعلق معاشرہ آپکو آگاہ نہیں کر سکتا ہے۔
مذہبی معاشروں میں فلسفہ اور تحقیقی کتابیں پڑھنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے مگر یہ کتابیں انسان کے علمی معیار کو ترقی کی منازل طے کروانے میں مدد کرتی ہیں۔ یہ کتابیں اِن سوالات سے آشنا کرتی ہیں اور ان کے جواب دینے کی کوشش کرتی ہیں کہ علم کی حقیقیت کیا ہے؟ علم کا سرچشمہ کہاں ہے؟ دائرہ علم کی حد کیا ہے؟ نقصان دہ کیا ہے؟ یہ سوالات ہر قوم کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین تعلیم نے علم کی حقیقت اور ماہیت کو سمجھنے اور پرکھنے پر زور دیا ہے۔ جس وجہ سے انسان کے شعور سے آشنائی کا ذریعہ صرف کتابیں قرار پائی ہیں، جو علم کا مرکز و محور ہیں. انسان جب پڑھنا شروع کرتا ہے تو وہ سب کچھ پڑھنا چاہتا ہے جس کی مثال اس اہرام کی سی ہے جو نیچے سے بہت بڑا ہوتا ہے مگر اوپر جا کر ایک نوک کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اسی طرح کچھ کتابیں بھی ایسی ہوتی ہیں شروع میں سب کچھ پڑھاجاتاہےمگر وہ آہستہ آہستہ سمجھ میں آتا ہے۔کتابیں صرف انسان کی بہترین دوست اور ساتھی ہی نہیں بلکہ علم کا خزانہ بھی ہیں۔ مشہور شاعر شیلے کہتے ہیں کہ مطالعہ ذہن کو جلا دینے اور اس کی ترقی کیلئے بہت ضروری ہے۔ جبکہ ابراہیم لنکن” کا کہنا ہے کہ کتابوں کا مطالعہ ذہن کو روشنی عطا کرتا ہے۔ “والٹیئر” کا قول ہے کہ وحشی اقوام کے علاوہ تمام دنیا پر کتابیں حکمرانی کرتی ہیں۔ کتابوں کی سیاحت میں انسان شاعروں، ادیبوں، مفکروں اور دانائوں سے ہم کلام ہوتا ہے، جبکہ عملی زندگی میں عام طور پر احمقوں اور بے وقوفوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ بقول شخصے اگر آپ مہینے میں ایک دو کتابیں پڑھیں اور پندرہ سولہ سال کی عمر میں پڑھنا شروع کریں تو ستر سال کی عمر تک آپ ایک ہزار کے قریب کتابیں پڑھ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے بیش تر لوگوں کے لئے یہ تسلسل اور تواتر قائم رکھنا مشکل ہے کیونکہ دوسرے کام بھی کرنا ہوتے ہیں لہذا زندگی میں زیادہ سےزیادہ کتابوں کامطالعہ کرنےکا ٹارگٹ رکھنا چاہیے۔ کتابوں کے موضوعات اور مصنفین کا انتخاب بھی احتیاط سےکرناچایئے جو مثبت ہو اور آپ کے مقصد حیات کے قریب تر ہو۔
ایک واقعہ مشہور ہےکہ کتابوں کے مطالعہ کا شوقین ایک شخص سمندری جہاز میں ایک کتاب کے مطالعہ میں مصروف ہوتا ہے۔ اچانک سمندر میں طوفان آ جاتا ہے اور جہاز ڈوبنے لگتا ہے۔ شپ میں سوار سارے لوگ رونے اور آہ و بقا کرنے لگتے ہیں۔ ایک شخص کتاب کے مطالعہ میں مصروف آدمی سے کہتا ہے، “سارے لوگ مرنے جا رہے ہیں اور آپ سکون سے کتاب کیوں پڑھ رہے ہیں؟” اس پر کتاب کا قاری جواب دیتا ہے کہ، “اگر مجھے معلوم ہے کہ تھوڑی دیر بعد میں مرنے جا رہا ہوں تو میں اپنا وقت کتاب پڑھ کر اپنی روح کو ترقی دینے کی بجائے آہ و فغاں میں کیوں ضائع کروں۔
“مطالعہ میں گزرنے والا وقت گزرتا نہیں بلکہ تھم جاتا ہے، آپ زندگی کو خوبصورت بنانا چاہتے، کامیابیاں سمیٹنا چاہتے ہیں اور خوش و مطمئن گزارنا چاہتے ہیں تو مطالعہ کی عادت اپنائیں، آپ کی زندگی کا حسن نکھرنے لگے گا اور آپ پہلے سے بہتر انسان بننے لگیں گے کیونکہ مطالعہ انسان کو آگاہی فراہم کرتا ہے اور ہمیں اس دنیا کی سیر کرواتا ہے جہاں ہم پہلی بار داخل ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں