Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

انقلابی قدم

(گزشتہ سے پیوستہ)
جب میں پہنچا تو وصی شاہ سامعین کی فرمائش پر اپنی مشہور زمانہ نظم ’’ہاتھ کا کنگن‘‘سنا رہے تھے۔ اس کے فورا ً بعد انہوں نے حمزہ علی عباسی کو سٹیج پر بلایا اور ان کی کتاب ’’ایمان اور دریافت ذات‘‘پر گفتگو شروع ہو گئی۔ اس پروگرام کا انعقاد ’’بزم اردو‘‘نے کیا تھا۔ یہ آڈیٹوریم ہال بھی سینکڑوں سامعین سے بھرا ہوا تھا۔ حمزہ علی عباسی نے اپنے روحانی ارتقا ء کے بارے میں بتایا کہ وہ ذات باری تعالی پر اٹھائے ہوئے اپنے تشکیک پر مبنی مختلف سوالات کے ذریعے کس طرح دین کی طرف راغب ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اداکاری کے دوران وہ انتہائی سخت اور مغرور طبیعت رکھتے تھے مگر بعد میں جب انہوں نے احکامات خداوندی کو خود پر عملی طور پر لاگو کیا تو ان کے اندر عاجزی اور انکسار پیدا ہوتا چلا گیا۔یہ پروگرام بڑا معلوماتی اور دلچسپ تھا مگر میرے دونوں فون سیٹس کی بیٹری ڈیڈ ہو گئی۔ میری یادداشت اتنی اچھی نہیں لھذا میں نے اپنے دونوں فونز میں ’’کلر نوٹ‘‘ڈان لوڈ کر رکھے ہیں۔ جب فون بند ہوئے تو میں نے واپس اردو بک سٹال پر جانے میں عافیت سمجھی۔ تب تک رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ سرمد خان کے ساتھ تین اور خان بھی کتابوں کو پلاسٹک کے لفافوں اور گتے کے کارٹنوں میں بند کر رہے ہیں۔ یہ 12گھنٹے کی معیت کافی نہیں تھی۔ ان کے ساتھ کتابوں کی گٹھڑیوں کو ابھی سٹور میں بھی رکھنا تھا۔ حتیٰ کہ ہم نے ڈیرا دبئی فرج مرار میں صبح دو بجے آ کر ڈنر کیا۔ اگلے دن گیارہ بجے ہم دبئی میں سرمد خان کی رہائش گاہ ریگا روڈ پر دوبارہ اکٹھے ہو گئے جہاں حسب معمول مہمانوں کا میلہ لگا ہوا تھا۔ ان کا تین بیڈ روم کا یہ غریب خانہ اچھا خاصا مہمان خانہ ہے۔
کتاب میلوں کے موسم میں سرمد خان پاکستان سے ہر سال آدھی درجن نہیں تو تین چار صحافی دبئی اپنے پلے سے منگواتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں ان کے مہمانوں میں آمنہ مفتی، عامر ہاشم خاکوانی، محمد فاروق چوہان، علامہ عبدالستار عاصم اور اشرف شریف بھی شامل رہے ہیں۔ اس دفعہ بھی ان کے گھر پر کافی مہمان ٹھہرے ہوئے تھے۔ ہم چند خواتین و حضرات سے یاد اللہ کر کے دوبارہ شارجہ نکل گئے۔ وہاں سرمد خان نے کتابوں کے بنڈلوں کا دوبارہ جائزہ لیا، ورکروں کے ذمہ کچھ کام لگائے اور ہم العین کی طرف نکل گئے۔ انہوں نے ایک دوست کو فون کر کے کسی اچھے اور ذائقہ دار ریسٹورنٹ کا پتہ پوچھا جو ایک پہاڑی کے پہلو میں ڈرائیونگ سکول کے سامنے تھا۔ صبح کا ناشتہ نہ کیا ہو اور دوپہر کا کھانا اور ناشتہ اکٹھا کیا جائے تو اسے ’’برنچ‘‘کہتے ہیں۔ ہماری ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے سینئر صحافی عارف شاہد اور میرے پیٹ میں چوہے ناچ رہے تھے، چوہے تو سرمد خان کے پیٹ میں بھی ناچ رہے تھے۔ لیکن جب ہم تینوں نے ریسٹورنٹ کا نام پڑھا تو چونک گئے جس کے سائن بورڈ پر ’’ریسٹورنٹ‘‘71 لکھا تھا۔ ابتدا میں تو سوچا کہ یہ کسی بنگالی کا ریسٹورنٹ ہے مگر ایسا نہیں تھا۔ کھانا زہر مار ہونے سے بچ گیا۔ اس کا مالک ایک لوکل تھا۔ کھانے کا ٹیسٹ بہت اچھا تھا۔ منیجر نے نام کی وجہ تسمیہ مسکراتے ہوئے یہ بتائی کہ نام نہیں مل رہا تھا تو کمپیوٹر نے یہ نام ظاہر کیا اور ہم نے ’’ڈن‘‘کر دیا۔ یوں شروع میں ہمارا جو ’’تراہ‘‘نکلا تھا ہنسی میں بدل گیا۔العین کتاب میلے کا یہ دوسرا دن تھے۔ پہلے ہم ایک بلڈنگ کے سیکنڈ فلور پر بک فیئرز کے مصری منیجر ابراہیم سے جا کر ملے۔
راستے میں عارف شاہد نے سرمد خان سے گلہ کیا تھا کہ آپ پاکستان سے صحافی بلا کر انہیں نوازتے ہیں مگر ’’ہم‘‘آپ کو نظر ہی نہیں آتے۔ ابراہیم صاحب کے عملے نے ہمیں بتایا کہ ان کے پاس کافی فنڈز ہوتے ہیں۔ اس وقت تو سرمد صاحب خاموش ہو گئے مگر جاتے ہی انہوں نے ابراہیم صاحب کو کہا کہ پہلے وہ ان دو صحافیوں کی رجسٹریشن کریں۔ اس کے بعد اگلے کتاب میلوں کے لئے انہوں نے کچھ پاکستانی صحافیوں کے نام بھی دیئے جن کی رجسٹریشن کے بعد امارات کی سرکار انہیں ویزہ، ٹکٹ اور ہوٹل وغیرہ مفت دے گی۔ ہم نے کتاب میلہ دیکھا۔ رات کے نو بج رہے تھے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی سرمد خان نے خوش خبری سنائی کہ آئندہ متحدہ عرب امارات میں شارجہ، شیخ زید سٹی، العین یا ابوظہبی میں کسی بھی میلے کی کوریج کے لیئے آپ کو فی دن کے 1200درہم ملیں گے۔یہ خوشخبری سننے پر ہم دونوں بہت خوش تھے مگر رات گیارہ بجے جب سرمد نے گاڑی دوبارہ شارجہ کی طرف موڑنے اور وہاں پڑی کتابوں کو ٹرک میں لوڈ کرنے کا مرثیہ سنایا تو ہماری خوشی اسی طرح غم میں بدل گئی جیسے آسٹریلین گلورہ کائلی مائینوگ ’’مرڈر اون ڈانس فلور‘‘گاتی ہے۔میں اندر سے پھر بھی خوش تھا۔ ہم تب تک نہیں سدھریں گے جب تک ہم علم اور تعلیم کو اپنا اوڑھنا بچھونا نہیں بناتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ میں ’’نشاتہ ثانیہ‘‘کے لئے تحریک احیائے علوم ہی کو اس کا واحد حل سمجھتا تھا۔ حتیٰ کہ تحقیق کے زریعے دینی تعلیمات اور عقائد کو بھی سائنس کی زبان میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ بقول سرمد خان انہوں نے یہ ایک قدم اٹھایا ہے۔ اربوں میلوں کا سفر بھی پہلا ایک قدم اٹھانے سے مکمل ہوتا ہے۔ خدا جانے یہ ’’انقلابی سفر‘‘ کس کے ہاتھوں مکمل ہو گا؟ علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ ’’پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔‘‘

یہ بھی پڑھیں