اسلام آباد ڈی چوک میں جاری سیاسی ڈرامہ کا ڈراپ سین ہوا۔ افسوس ہے کہ اس کھیل کھیل میں کم و بیش 6 انسانی جانوں اور اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا۔ 26نومبر کو چند امریکی سینیٹرز اور سی این این نے بھی اسلام آباد میں جاری سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت کو پی ٹی آئی کے کارکنوں کے احتجاج کے خلاف ان کے سیاسی و انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے کا خیال رکھنا چایئے۔ تب تک کی اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاجیوں اور آرمی فائرنگ کے تبادلے میں 6 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس میں 4سیکورٹی فورسز کے شہدا بھی شامل ہیں۔ بعد میں تحریک انصاف کے 2مزید کارکنوں کی ہلاکت بھی سامنے آئی۔جبکہ 9 افراد شدید زخمی تھے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق حکومت نے تحریک انصاف کے 4000 رہنماں، کارکنوں اور حمایتیوں کو گرفتار کیا۔ بڑھتے ہوئے احتجاج کو روکنے کے لئے انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کر دی گئی، راستوں اور سڑکوں کو بند کرنے کے لئے پہلے کی طرح کنٹینرز لگائے گئے اور اسلام آباد، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں کاروبار معطل رہا جس سے ایک اندازے کے مطابق کچھ نہیں تو کم و بیش ایک کروڑ ارب روپے کا روزانہ کا نقصان ہوا۔
ایک عدالتی حکم کے مطابق دارلخلافہ اسلام آباد میں احتجاجی ریلی نکالنے پر پابندی تھی جس کی وضاحت کرتے ہوئے دھمکی کے انداز میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ حکومت چاہے تو فائرنگ کھول کر احتجاج کرنے والوں کو چند منٹوں میں تتر بتر کر سکتی ہے۔ موصوف وزیر داخلہ کا یہ بیان تب سامنے آیا تھا جب احتجاج کرنے والے پارلیمنٹ کے ممنوعہ علاقے ریڈ زون میں نہیں پہنچے تھے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان پھر بھی ڈی چوک پہنچے اور پولیس، رینجرز اور فوج کے ساتھ ان کے تصادم سے کثیر جانی و مالی نقصان ہوا ، سردی میں ٹھٹھرتے احتجاجیوں پر نہ صرف رات کے اندھیرے میں فائرنگ کی گئی بلکہ یہ آپریشن احتجاجیوں کے لئے واپسی کے راستوں کو بند کر کے کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود کے پی کے تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پوری اور بشری بی بی کارکنوں کو اکیلا چھوڑ کر بخیریت خیبر پختونخواہ پہنچ گئے جہاں سے 4منٹ کے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے غصے اور دھمکی کے انداز میں کہا کہ جس کا لب لباب یہ ہے کہ اب ہم بھی لاٹھی کے بدلے میں لاٹھی اور گولی کے بدلے میں گولی چلائیں گے۔اس دوران امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سپوکس پرسن میتھیو ملر نے بھی پاکستانی حکومت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت پاکستان امن بحال کرتے وقت احتجاج کرنے والے کارکنوں کے سیاسی و انسانی اور آزادی اظہار کے بنیادی حقوق کی پاسداری کرے اور انہیں پرامن احتجاج کی اجازت دے جس سے دو طرح کا تاثر قائم ہوا ہے کہ ایک ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد اس کی عمران خان کی رہائی کے لئے ہمدردانہ سوچ واضح ہوئی ہے دوم اسٹیبلشمنٹ نے احتجاج کو ناکام بنا کر اس بیانیہ کو رد کر دیا ہے کہ تحریک انصاف اور اس کے رہنما عمران خان کی رہائی ان کی احتجاج، دھرنے اور کسی حد تک دہشت گردانہ سوچ کے پس منظر میں ممکن نہیں ہے۔ اس خفیہ ایجنڈے کو ایک سیاسی چال بھی قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ جونہی کپتان کی بہن علیمہ خان اور بیگم بشری بی بی کو رہا گیا تو بی بی بشری نے چھوٹتے ہی فوج اور سعودیہ مخالف بیان داغا اور پھر گنڈا پوری کو لے کر اسی روش پر چل پڑیں جو 9 مئی کے دہشت گردانہ واقعات کے رونما ہونے سے قبل پیدا ہو گئی تھی۔ خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پوری نے ڈی چوک سے بھاگنے کے بعد اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ احتجاج کے بعد اب ایک ہی راستہ بچا ہے کہ ملک میں انقلاب لایا جائے تو سوال یہ ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کا زور توڑ کر ہی انقلاب لانا مقصود ہے تو حکومت گرانے کے لئے بنگلہ دیش جتنی متحد و منظم عوامی طاقت بھی تو ہونی چایئے ورنہ عوام گولیاں، آنسو گیس اور ربڑ کی بلٹس کھا کر یہ کہنے کے لئے حق بجانب ہے کہ بھاگنا ہی تھا تو احتجاج ہی کیوں کیا تھا جس سے اب تو یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ احتجاج کا مقصد انقلاب لانا نہیں تھا بلکہ اس کا بنیادی نصب العین حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر دبائو بڑھا کر عمران خان کی رہائی تھی۔ جب کسی لیڈر اور اس کے کارکنوں کا منتہائے کمال اور محبوبیت نظریات کی بجائے شخصیات ہوں تو اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے جو اس خونی احتجاج کا نکلا ہے اور یہ بھی نہیں بھولنا چایئے کہ کسی ’’خونی انقلاب‘‘کا نتیجہ بھی ایسا نہیں نکلتا جیسا اس خونی احتجاج کا نکلا ہے جو فقط عمران خان کی رہائی تک ہی محدود رہا۔
حکومت نے آئین کی دفعہ 245کے تحت فوج کو ڈی چوک پر یہ اختیار دیتے ہوئے لگایا تھا کہ احتجاجیوں کو موقع پر گولی ماری جا سکے۔ احتجاج کرنے والوں نے ہائی رسک کے علاقہ جات ریڈ زون کو کراس کیا اور فوج نے انہیں شوٹ کیا۔ فوج کی طرف سے شوٹنگ کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ احتجاج کرنے والوں کی طرف سے بارود سے بھری ایک ویگن کو سیکورٹی فورسز کے عملہ سے ٹکرا دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 4سیکورٹی اہل کار موقع پر ہی شہید ہو گئے تھے، یعنی کہ فوج کو احتجاجیوں نے فائرنگ کرنے پر مجبور کیا حالانکہ فوج کی طرف سے احتجاج سے پہلے اعلامیہ جاری کیا گیا تھا کہ آپ پرامن احتجاج کریں گولی نہیں چلائی جائے گی۔ اس صورتحال سے پاکستان کے خطرناک سیاسی مستقبل کا اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی احتجاج اور سٹریٹ پاور کے ذریعے انقلاب لانا کتنا مشکل ہے۔اس پیش منظر میں ایک تو ٹرمپ کی عمران خان کی رہائی کے غبارے سے ہوا نکلی ہے دوسرا فوج اور حکومت اپنی رٹ میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں کہ عمران خان کو رہا کرنا ملکی سلامتی کے لئے کتنا خطرناک یے۔ فوج اور حکومت کے پاس اس کے پورے ثبوت موجود ہیں جن کے زور پر وہ عمران خان کی سفارش کو آسانی سے رد کرنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ سانحہ ڈی چوک کی دہائیاں دینے والوں کو سوچنا چایئے کہ سانحہ بگن پارا چنار بھی ہوا ہے جن کی لاشیں بییارو مددگار چھوڑ کر خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ ڈی چوک پہنچے تھے۔ انقلاب وہاں آتے ہیں جہاں مظلوم متحد ہوں۔ جہاں مظلوم اپنے اپنے پسندیدہ ظالم کیلئے آپس میں لڑ رہے ہوں وہاں انقلاب نہیں خونی احتجاج کی صورت میں لاشیں گرتی ہیں کہ احتجاج بنتا ہی نہیں تھا کیونکہ یہ صرف عمران خان کو چھڑانے اور حکومت پر دبائو بڑھانے کے لئے کیا گیا تھا۔ اس فائنل کال کی ناکامی کے بعد تحریک انصاف کی انقلاب کی رٹ بھی ختم ہو گئی ہے۔کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن عام پاکستانی ہوتے ہیں، جو ایک بہتر پاکستان کی خواہش رکھتے ہیں اور اپنے نظرئیے سے اس قدر مخلص ہوتے ہیں کہ بار بار دھوکہ کھاتے ہیں، لاشیں اٹھاتے ہیں مگر پھر اپنی اچھی بری قیادت کے پیچھے گھر سے نکل پڑتے ہیں کہ شائد اس دفعہ انقلاب آ جائے۔ ان کارکنوں میں کچھ شرپسند اور دہشت گرد بھی شامل ہو جاتے جیسا کہ اس احتجاج میں کچھ غیر ملکی شناخت رکھنے والوں کو گرفتار کیا گیا مگر اکثریت ایک بہتر پاکستان کی تلاش میں ہوتی ہے۔
کارکنوں کی تربیت کئے بغیر اور ان کو ایک عالمگیر نظریہ دیئے بغیر انقلاب آ سکتا ہو تو پھر احتجاجوں کو ریاستی فسطائیت کا بھی نشانہ نہ بننا پڑتا۔ احتجاج کا مطلب تو محض دھینگا مشتی ہوتا ہے، جو جلائو،گھیرا اور لوٹ مار سے شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم ہو جاتا ہے۔ آج عمران خان اپنی رہائی کے لئے احتجاج کروا رہا ہے کل وزیراعظم شہباز شریف کا بھی نمبر آ سکتا ہے جو اپنے بھائی کی طرح اپنا بیانیہ دہرائیں گے کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘۔ آج یہ ہیں اور کل کوئی اور ہو گا۔ اس سارے کھیل میں مگر یہ کارکن ہی سب سے قیمتی اثاثہ ہیں جو اپنے معتوب رہنمائوں کی خاطر اپنی جانیں دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔سیاسی جنگ ختم ہو جائے گی، لیڈر گرما گرمی سے ملیں گے، اور رہ جائے گی وہ بوڑھی ماں جو اپنے شہید بیٹے کی منتظر ہو گی، اور وہ بچے جو اپنے بہادر باپ کے منتظر ہوں گے، میں نہیں جانتا کہ اس احتجاج کو کس نے بیچا لیکن میں نے دیکھا کہ قیمت کسی اور نے ادا کی۔