Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

سیاسی بصیرت افروزی کا مظاہرہ

اپنے ملک کی عوام کی حب الوطنی اور جذبات سے کھیلنا گھنائونا سیاسی کاروبار ہے جس کی بدترین مثال حالیہ سانحہ اسلام آباد ہے۔ ریاست کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلانا کسی بھی طرح جمہوری عمل نہیں ہے۔ ٹھیک ہے کہ جمہوریت اچھا نظام حکومت ہے۔ میں نے اس کے متبادل نظام کی حمایت میں کبھی نہیں لکھا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں جمہوریت کے حق میں بھی نہیں ہوں، جیسا کہ ہم بحیثیت مجموعی ڈی چوک والے سانحہ کے منفی نتائج بھگت رہے ہیں۔ عوام کا کیا ہے اسے تو سیاسی لیڈران اکٹھا کرتے ہیں اور وہ انہیں جدھر لگائیں لگ جاتے ہیں، جس راہ پر چلائیں وہ چل پڑتے ہیں۔ عوام کے سامنے صرف اپنی اور ملک کی خوشحالی کے خواب ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اور بچوں کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں اور بعض تو اتنے مجبور ہوتے ہیں کہ اگر انہیں مزدور کی دیہاڑی کے برابر بھی کچھ اجرت دے جائے تو وہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ’’آخری کال‘‘کے جتھے کا حصہ بننے کے لیئے گھر سے خوشی خوشی نکل آتے ہیں۔ ان سیاسی کارکنوں کو کون سمجھائے کہ ان میں اکثر نہیں جانتے کہ احتجاج کے لئے گھر سے نکلنے کے بعد وہ نہیں بلکہ ان کی لاش واپس آتی ہے۔اسلام آباد کتنا خوبصورت نام ہے، اس سے ہم پاکستانی مسلمانوں کا کیا کچھ وابستہ ہے، شائد اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہ ہو کہ ہمارے دارالخلافہ ’’اسلام آباد‘‘ کی تاریخ اور آباد ہونے کی وجہ تسمیہ نمود اسلام کی پہلی کرن سی جا ملتی ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں وہاں جمہوریت اور سیاست کے نام پر جو کچھ ہوا، وہ قابل افسوس و مزمت ہی نہیں بلکہ اتنا قابل ماتم ہے کہ کوفہ کی یاد آتی ہے۔
افسوس یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پوری اور بشری بی بی کی موجودگی میں روشنیاں گل کی گئیں، انہیں بھاگنے کا موقع دیا گیا اور پھر یہ دونوں لیڈران احتجاجیوں کو اندھیرے میں شہید ہونے کے لئے اکیلا چھوڑ کر بھاگ گئے یعنی ان دونوں لیڈران نے اپنے ہی سیاسی کارکنوں کے ساتھ کوفیوں والا سلوک کیا۔ اس منحوس حادثے کے ذمہ داران کون تھے؟اس کے ذمہ دار وہ سیاسی راہنمایان ہیں جو معصوم سیاسی کارکنوں کی نیک خواہشات اور جذبوں سے کھیلتے ہیں، جہالت کی منڈی لگاتے ہیں اور جذبات کا کاروبار کرتے ہیں، اس کے ذمہ دار وہ سوشل میڈیا کے ’’نوخیز ایکٹیوٹس‘‘ہیں جنہوں نے اقتدار کی معمول کی کشمکش کو حق و باطل کا معرکہ بنایا، وہ لوگ ہیں جنہوں نے سیاسی کارکنوں کو کفن باندھ کر گھر سے نکلنے کے لئے اکسایا اور وہ سیاسی قیادت ہے جس نے آخری کال دے کر پہلے جذبات کو ابھارا اور پھر ایک سیاسی سرگرمی کو ریاست کے کے خلاف تصادم کے راستے پر ڈال دیا۔اگر ہمارے ملک کی عوام بھی باشعور جمہوریت پسند ہوتی یا ان میں بھی اتنی سیاسی پختگی ہوتی تو احتجاجی پی ٹی آئی رہنماں کے ہاتھوں میں کھیلتے اور نہ ہی حکومت روشنیاں گل کر کے ان پر فائرنگ کھولتی۔ تب اس انسانیت سوز جرم کو چھپانے کے لئے طرح طرح کے ڈھونگ رچائے گئے جس میں ایک یہ سٹوری بھی شامل کی گئی کہ علی امین گنڈا پوری اور بشری بی بی کے قافلے کو ’’ریڈ زون‘‘میں داخلے کے لئے اکسانے والے کچھ نامعلوم افراد تھے جو گنڈا پوری اور اور بشری بی بی کی مرضی کے خلاف ایسا کر رہے تھے۔ یہ اطلاعات بھی آئیں کہ گنڈا پوری اور بشری بی بی کو قتل کرنے کے لئے چائنا چوک بلیو ایریا کی بڑی عمارتوں پر کچھ شوٹنگ سنائپرز کو بھی کھڑا کیا گیا تھا جس کی اطلاع ان تک پہنچی تو وہ گھبرا گئے جس کے بعد سیکورٹی کے عملہ نے پی ٹی آئی کے ان دونوں سیاسی رہنماں کو بحفاظت نکلنے میں مدد فراہم کی۔اگر جمہوریت ہی بہترین نظام حکومت ہے تو ہمارے شاطر سیاست دانوں نے اس میں ایسی سیاسی یکیاں بھی شامل کر لی ہیں جن کے بل بوتے پر وہ حکومت ہو یا اپوزیشن ہو دونوں انہیں استعمال کرنے سے کتراتے نہیں ہیں۔
ہمارے ہاں تو جمہوری سیاست میں قانون اور اخلاقیات ویسے بھی گناہ دکھائی دیتی ہیں۔ سب سیاست دان انسانیت اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کی تلقین تو کرتے ہیں مگر وہ ان پر شاذ ہی عمل کرتے ہیں۔ ہمارے سیاست دان احتجاج اور دھرنے کی بجائے سیاسی جدوجہد کو اپنائیں تو ڈی چوک جیسے المناک واقعات کبھی بھی پیش نہ آئیں۔ لیکن صد افسوس ہے کہ سیاست دانوں کو سیاست تو کرنی آتی ہے مگر انہیں جمہوریت کرنی ابھی تک نہیں آئی ہے۔ آئین میں 26ویں ترمیم کے بعد بھی وہ عقل کے ناخن نہیں لے رہے۔ وہ آئین اور قانون کی حدود میں رہتے ہوئے بھی اپنا مقدمہ ایوانوں اور عدالتوں میں پیش کر سکتے تھے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ریاست کے ساتھ تصادم سے گریز کیا جا سکتا تھا۔تحریک انصاف کی ایک صوبے میں حکومت قائم تھی اور مرکز کے ساتھ اس کے اشتعال انگیز رویے کے باجود اسے مرکزی حکومت سے کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔ اسلام آباد اور کے پی کے درمیان بہتر ورکنگ ریلیشن شپ قائم کی جا سکتی ہے مگر اس احتجاج کو کسی ملکی مسئلے کی بجائے صرف عمران خان کی رہائی سے منسلک کیا گیا۔ ایسی صورت میں جبر تو تھا مگر مصالحت کے امکانات بھی موجود تھے۔ اس پس منظر میں آخری کال کی کوئی توئک نہیں بنتی تھی؟یہ تو جمہوریت کا عقلی اور منطقی مقدمہ تھا جسے احتجاج اور دھرنے میں بدلنے کی زبردستی کوشش کی گئی۔ اس کی مثالیں ماضی میں بھی ملتی ہیں کہ پیپلزپارٹی اور نون لیگ بھی ابتلا کے ایسے ادوار سے گزرتی رہی ہیں۔ اس دوران انہوں نے کبھی آخری کال نہیں دی۔ 1973ء میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اپوزیشن کا جلسہ ہوا۔ یہ محض ایک سیاسی سرگرمی تھی اس سے حکومت ختم نہیں ہوئی تھی۔ لیکن حکومت نے فائرنگ کروائی اور کئی بے گناہ معصوم احتجاجی شہید ہو گئے۔ تب بھی شہید ہونے والوں کا تعلق کے پی سے تھا۔ پٹھانوں بھائیوں کی حب الوطنی اور قربانیوں سے کھیلنا اب بند کیا جانا چایئے۔ پیپلز پارٹی کے دو وزرائے اعظم قتل کئے گئے۔
نون لیگ پر بھی ابتلا کے دو عہد گزرے۔ مشرف دور میں شریف خاندان جیل گیا اور جلاوطن وطن بھی ہوا۔ اگرچہ یہ سیاسی ڈیل تھی مگر اس میں سیاسی جبر بھی شامل تھا کیونکہ (ن)لیگ کے بہت سے لیڈر گرفتار ہوئے، وہ جیلوں میں رہے اور ان پر تشدد بھی ہوا۔ لیکن آج وہی نون لیگ برسراقتدار ہے اور وہ سیاسی احتجاج اور دھرنے کو ایک دن کے لئے بھی برداشت سے معذور ہو گئی۔ہمارے ہاں جمہوریت کی اصل روح اسی دن بحال ہو گی جب ہمارے سیاست دان انتقام برائے انتقال کی سیاست سے گریز کرنا شروع کریں گے۔ بنگلہ دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جماعت اسلامی کے افراد کو پھانسیاں دی گئیں۔ خالدہ ضیا بہت برس جیل میں رہیں۔ نیلسن میڈیلا کی عظیم مثال بھی ہمارے سامنے ہے جنہوں نے اپنی قیمتی زندگی کے 27برس جیل میں گزار دیئے مگر جمہوری اصولوں کی سودی بازی کی اور نہ ہی اسے ڈی چوک جیسے واقعہ میں بدلنے کی سازش کی۔

یہ بھی پڑھیں