Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

سید المبشرین

بہت تھکاوٹ تھی آج میں جلدی سو گیا۔ دن کو سفر کیاتھا، اور ڈاڈھی نیند آئی تھی کہ رات کو 2 بج کر 15 منٹ پراچانک آنکھ کھلی اورپھردوبارہ سو نہیں سکا۔ یہ عاجز کافی دیر تک سوچتا رہا، پھر ایک دم یاد آیا کہ میں نے تو عارف منصور کے بیٹے محمد محسن خان سےسیرت النبی ﷺ پرتبصرہ لکھنے کاوعدہ کیاتھا،جسے میں نبھائےبغیر ہی نیند کی آغوش میں چلا گیا تھا۔ آج دن کو ہماری ایک منہ بولی بہن صبا اسلم نے احقر کو ایک کالم بھیجا تھا، جس کا عنوان ’’مئے کشو آئو مدینےچلیں‘‘تھا۔میں ابھی ’’شارجہ بک اتھارٹی‘‘پہنچنے کے لئے راستے میں تھاکہ سیف اللہ خالدکو جونہی کالم بھیجا، انہوں نے آن لائن شائع کر کےاور ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیرفورا ًمجھے کاپی بھیج دی تھی۔ تب مجھے احساس ہوا کہ رات کو اچانک میری آنکھ کیوں کھلی تھی؟ سیرت طیبہ مطہرہ ﷺ کی اس کتاب پر تبصرہ عقیدت و احترام پیش کرنےکےلئےچند ہی لمحوں بعد یہ کتاب میرے سامنے تھی اور میں دل ہی دل میں کانپ رہا تھا کہ کہاں سے شروع کر کے کہاں پر ختم کروں۔
کافی عرصہ پہلے مولانا شبلی نعمانی رحمتہ اللہ علیہ کی سیرت النبی ﷺ پر ایک کتاب پڑھی تھی، اس کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ رب العزت نے مجھے یہ کتاب پڑھنے اور اس پر تبصرہ لکھنے کی سعادت نصیب فرمائی ہے۔ کتاب کو ابھی مکمل تو نہیں کیا مگر ایک سرسری جائزہ لینے سے اندازہ ہو گیا ہے کہ مصنف نے کتاب کو کس محبت اور عرق ریزی سے لکھا ہے۔قارئین سے درخواست ہےکہ وہ دعا فرمائیں کہ اللہ پاک میری یہ کوشش بھی قبول و مقبول فرمائے۔ سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر ’’سید المبشرین‘‘ جس کے مصنف عارف منصور اور مرتب شیر افگن خان جوہر ہیں، اپنی نوعیت کی پہلی منفرد کتاب ہے جسے منظوم نظمیہ شاعری (جسے انگریزی زبان میں ’’سونیٹ‘‘ کہتے ہیں)میں لکھی گئی ہے۔ سیرت النبی ﷺ میں میرا پسندیدہ عنوان ’’شق صدر‘‘کا واقعہ ہے۔ جب کتاب کھولی اور فہرست مضامین (حسن ترتیب)والا صفحہ دیکھا تو عنوان نمبر 12پر یہ مضمون درج تھا جس کی تفصیل صفحہ نمبر 53 پر دی گئی تھی۔ کتاب کے لکھنے اور ترتیب دینے کا یہ انداز ہے کہ کتاب ہذا کے ہر عنوان کو دائیں طرف سلیس اردو یعنی نثرمیں لکھاگیا ہے اور بائیں طرف عبارت کو نظم (شاعری)میں ترتیب دیا گیا ہے جس کا ایک نمونہ نیچے پیش خدمت ہے:
’’حضور اک دن چلے گھر سے رضائی بھائی کو لے کر
قبیلے کے بہت سے اور بچے بھی تھے ہمراہی
گئے وہ بے خطر وادی میں آگے تھے سبھی ساہی
اچانک ان کے پاس آئے وہاں دو نور کے پیکر
انہوں نے آپ کو تھاما تو بچے ڈر کے سب بھاگے
لٹا کر آپ کا سینہ انہوں نے چاک کر ڈالا
نکالا قلب اطہر کو، صفائی کر کے پھر رکھا
جو پھیرا ہاتھ واپس مل گئے سب جلد کے تاگے
حضور اٹھے تو وہ دونوں ملائک ہو گئے غائب
رضائی بھائی لائے اتنے میں ماں باپ کو گھر سے
دھڑک اٹھے تھے ان کے دل کسی آسیب کے ڈر سے
کہا حارث نے لوٹا دیں انہیں سمجھو اگر صائب
مگر یہ غسل نوری تھا کہ جس سے خوف شب نکلا
کہ شق صدر سے دل میں جو تھا لہو و لعب نکلا
اس بے مثل شاعرانہ انداز میں سیرت النبی ﷺ کے مقدس موضوع پر قلم اٹھانا بےحد مشکل اور پیچیدہ کام تھا مگر مصنف نے اسے توفیق الٰہی اور باکمال فن سے نبھایا ہے۔ اس کتاب کے 142عنوان اور 313 صفحات ہیں ۔جسے جوہر پبلی کیشنز، اردو بازار لاہور، ملتان نے شائع کیا ہے۔
کتاب میلہ میں اردو بکس ورلڈ کے سٹال پر میری ملاقات مصنف کے بیٹے سے ہوئی۔ ان کے والد گرامی کی تصنیف بک سٹال پر نظر سے بھی گزری تھی مگر میں خرید نہیں سکا تھا۔ اگلے روز مصنف کے سعادت مند بیٹے نے فون کر کے بتایا کہ وہ کتاب پہنچانے کے لیے میرے دفتر واقع ڈیرا دبئی تشریف لانا چاہتے ہیں۔ تب میں کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔ شام دفتر واپس پہنچاتو کتاب کی دوبارہ زیارت ہو گئی۔ میں اسے زندگی کی سب سے بڑی خوش قسمتی اور اعزازسمجھتا ہوں کہ جو کتاب خریدناچاہتاتھا مگر نہیں خریدسکا تو وہی کتاب گھر بیٹھے بٹھائےمل گئی۔ میں خواب غفلت کی وجہ سےتبصرہ لکھنےسےقاصر ہو کر سو گیا۔ لیکن میرے نبی رحمت ﷺ نےمجھےجگادیا اوریوں پہلی باراس باعث برکت موضوع پر لکھنے کا موقع ملا۔ محترم المقام، مصنف عارف منصور کی اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عزیز احسن صاحب لکھتے ہیں کہ ’’عارف منصور کو یہ اختصاص حاصل ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کی سیرت مبارکہ اورحیات طیبہ کے مختلف مراحل کو شعری سانچے میں ڈھال کر سید المبشرین کے عنوان سے سانیٹ تخلیق کیے ہیں۔ عارف منصور نے یورپین سانیٹ کے مختلف انداز برتے ہیں اوراپنی سانیٹس میں سیرت رسول ﷺ کے ساتھ ساتھ حیات طیبہ کے مختلف عکس دکھائے ہیں۔‘‘
تبصرہ نگار مزید لکھتے ہیں’’سید المبشرین کی خصوصیت یہ ہے کہ ہیئت کے اعتبار سے یہ تمام سانیٹس انگریزی سانیٹ کے مطابق ہیں مگر نظام قوانی میں ان کی مختلف ترتیب رکھی گئی ہے اور سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر یہی اس کتاب کی انفرادیت اور دلکشی ہے کہ جس کو اردو ادب اور شاعری کی صنف میں پہلی بار سینچا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں