کسی چیز کے کوانٹم ذرات کائنات میں بیک وقت مختلف خواص اور مختلف اشکال میں ہر جگہ اور ہر وقت خود کو قائم رکھ سکتے ہیں!
ہمارے مشاہدے میں نہ آنے والی چیزیں لامحدود ہوتی ہیں کیونکہ ان کے اندر واقع ہونے کے لامحدود امکانات ہوتے ہیں۔
دنیائیں ایک سے زیادہ ہیں۔ ایک دنیا وہ ہے جس میں ہم مر جاتے ہیں۔ دوسری دنیا وہ ہے جس میں ہم مرنے کے باوجود زندہ رہتے ہیں۔ ہمارے لئے اصلی دنیا وہی ہے جس میں ہم زندہ ہوں۔
کائنات ابتدا میں روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز رفتاری سے پھیلی تھی مگر آئن سٹائین کی ریلیٹوٹی تھیوری کے اعتبار سے روشنی سے زیادہ کسی چیز کی رفتار نہیں ہو سکتی۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جب کوئی جسم روشنی کی رفتار 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ سے زیادہ تیز سفر کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کی کمیت یا مادہ لامحدود Infinite ہو جائے گا اور اسے حرکت دینے کے لئے لامحدود حرارت Infinite Energy کی ضرورت ہو گی جو میسر کرنا ناممکن ہے۔ لہٰذا ہماری حقیقی دنیا میں کوئی عام مادی جسم روشنی یا اس سے زیادہ تیز رفتاری سے سفر نہیں کر سکتا ہے۔
ایک عام آدمی جب نظر اٹھا کر کائنات کے بارے سوچتا ہے تو اس کا خیال کائنات کی 200 ارب کہکشائوں کو عبور کر کے آخری ستارے سے ٹکراتا ہے اور کوئی ثانیہ ضائع کیے بغیر واپس آ کر ہمارے دماغ کے نیورانز کو اطلاح دیتا ہے کہ،’’وہ پوری کائنات گھوم آیا ہے‘‘۔ ناسا کی تحقیق کے مطابق ان 200 ارب کہکشائوں میں ہر کہکشاں کے ہمارے سورج کے سائز سے بڑے 200 ارب ستارے ہیں۔
ریاضی کے ماہرین نے ایک حساب یہ بھی لگایا ہے کہ زمین کے ساڑھے سات ارب انسانوں میں ان کہکشائوں میں موجود اجرام فلکی کو تقسیم کیا جائے تو ہر انسان کے حصے میں 200 ارب ستارے آئیں گے۔
بیشک کائنات لامحدود ہے مگر اس کی کسی شے کی رفتار ہمارے خیال کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں ہے۔ کائنات کی اس وسعت کے اعتبار سے کائنات ازلی ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی یا یہ لامحدود ہے، روشنی کی رفتار سے پھیل رہی ہے اور اسے مکمل طور پر کبھی فتح نہیں کیا جا سکے گا۔
لیکن قرآن فرقان نے انسان کو نوید دی ہے کہ کائنات کو تمہارے لئے مسخر کر دیا گیا ہے یعنی انسان کائنات اور مادے کی دنیا کو مکمل طور پر مسخر کر لے گا۔
آئن سٹائن کے سپوکی خیالات کے باوجود نیل بوہر کے مطابق ’’سفر اور رفتار کوئی مسئلہ نہیں ہیں مادے کی دنیا میں کوئی ناممکن چیز محض اس لئے ناممکن ہے کہ ابھی اسے دریافت نہیں کیا گیا ہے‘‘۔ ہم کوشش کریں تو ہر وہ چیز ممکن ہے جو مادی وجود رکھتی ہے۔ اب دیر یا بدیر کوانٹم فزکس کلاسیکل فزکس کو مکمل طور پر آئوٹ کلاس کر دے گی۔ جس طرح کوانٹم فزکس کو کلاسیکل فزکس کے بعد کا دور کہا جاتا ہے۔ اسی طرح جب کوانٹم فزکس ترقی کے عروج پر پہنچے گی تو کوئی نیا سائنسی مضمون کوانٹم کی جگہ لے لے گا۔ تب اس دور کو کوانٹم فزکس کے بعد کا دور کہا جائے گا۔
مذہب بنا بریں ایمان بلغیب پہلے پیش گوئی کرتا ہے اور سائنس اسے بعد میں ثابت کرتی ہے۔ یوں تسلیم و رضا مادیات کے سچ کو ایمان کامل مانتے ہوئے دریافت کرنے کی منزلیں ہیں۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کائنات کی تحقیق ہمیں خدا کی تخلیق اور کاریگری کے قریب کرتی چلی جاتی ہے کیونکہ اس سے قبل جو سنا جاتا ہے یا جس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ ’’یہ بظاہر ناممکن ہے‘‘ انسانی دماغ کی حیرت انگیز کارکردگی اسے مذہبی سچائی کے طور پر ممکن بنا دیتی ہے۔ آئن سٹائن کا ایک قول ہے، جو مذہب اور سائنس کو ایک ہی منزل کے دو راہی ہونے کی تصدیق کرتا ہے کہ ’’ہم جو گہرے یقین سے سوچتے ہیں وہ پہلے سے فطرت میں موجود ہے‘‘۔ ہمیں صرف کرنا یہ ہوتا ہے کہ ہم اسے ٹھوس سچاء مانیں، اسے اپنے ایمان کا حصہ سمجھیں اور اس تک مادی زریعے سے رسائی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
ساٹھ کی دہائی میں کلاسیکل اور کوانٹم فزکس کے اس مسلمہ سچ کے فرق کو سمجھنے کے لئے نیل بوہر، ہائی سن برگ، پال ڈیراک اور شروڈنگر وغیرہ جیسے عظیم سائنسدانوں نے مسلسل تجربات کئے اور جب نتائج سامنے آئے تو وہ کافی چونکا دینے والے تھے۔ انہیں پتہ چلا کہ یہاں کے قوانین ہماری روزمرہ زندگی میں دکھائی دینے والے قوانین سے بالکل مختلف ہیں۔