Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

سلطان محمود غزنوی پرحکومتی حملہ

غزنی اور افغانستان کابل سےاٹھنے والے مسلم ہیرو سلطان محمود غزنوی کو ساری دنیا مانتی ہے۔ عالمی تاریخ برصغیر کے اس حملہ آور کو جو بھی نام و مقام دے ہمارے طلبا اسے کامیاب مسلمان جنگجو اور فاتح ہیرو ہی کے طور پرجانتے ہیں لہذا ہمارے تعلیمی نظام کی تاریخ میں بچوں کو یہی پڑھایاجاتا ہے کہ محمود غزنوی نے ہندوستان پر 17 کامیاب حملے کیے اور ہر بار ہندو راجائوں کو شکست فاش سے دوچار کیا۔
ہمارے وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نےگزشتہ دنوں محمود غزنوی کے بارے ایک متنازعہ بیان داغاجس کی بازگشت میڈیا میں ابھی تک سنائی دے رہی ہے۔ ایک ویڈیو پیغام میں موصوف کہتے نظر آتے ہیں کہ، “میں نہیں مانتا، وہ محمود غزنوی تھا ہی نہیں، وہ تو آتا تھا اور لوٹ مارکرکےچلاجاتا تھا، ہماری تاریخ میں اسے یوں پینٹ کیاجاتا ہےجو میں نہیں مانتا۔” حالانکہ یہ سلطان محمود غزنوی ہی پہلا مسلم حکمران تھا جس نے پاکستان، ایران اور ہندوستان کےکچھ حصوں پر مسلم حکومت کی بنیادرکھی جس سے ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک لمبے عرصہ تک حکومت قائم ہونے کا رستہ ہموار ہوا۔ 1519 میں افغانستان کابل کے بادشاہ ظہیر الدین بابر نے ہندوستان پر حملہ کیا تو یہاں مغلیہ خاندان کی حکومت قائم ہو گئی جو برصغیر پاک و ہند پر 300 سال سے زیادہ عرصہ تک قائم رہی۔ دراصل خواجہ آصف نے یورپی و برطانوی اور ہندو مورخین کے نقطہ نظر کی تصدیق کی ہے جس میں سلطان محمود غزنوی کو “ڈاکو” اور “لٹیرا” کہا گیا ہے۔
افغانستان اپنی حفاظت اور سلامتی کی ایک قابل فخر تاریخ رکھتا ہے جہاں دسمبر 1979 کے روسی حملے اور بعد میں 9/11 کے بعد امریکی افواج کی چڑھائی سے پہلے بھی بیرونی عالمی طاقتوں نے اسے تاراج کرنےکی کوشش کی۔ 1841 میں برطانوی فوج کو پہلی بار افغانستان میں شکست و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ سلطان محمود غزنوی ہی تھا جس کی نفرت میں گورنر جنرل آف انڈیا لارڈ ایلن برو نے 16 نومبر 1842 کو حکم جاری کیا تھا کہ غزنی میں سلطان محمود غزنوی کے مزار کے دروازے اکھاڑ کر ہندوستان لائے جائیں۔ ایلن برو نے اپنے حکم نامے میں سلطان محمود غزنوی پر الزام لگایا تھا کہ سلطان محمود غزنوی نے یہ دروازے 1026 میں سومناتھ کےمندرسےچرائے تھے۔ ایلن برو نےکہا تھا کہ محمود غزنوی ایک لٹیرا تھا۔ اب ڈھکےچھپے لفظوں میں ہمارے وفاقی وزیر نےبھی یہی بات دہرائی ہے کہ، “وہ تو آتا تھا اور لوٹ مار کرکےچلاجاتاتھا۔”
سلطان محمود غزنوی کو حسد اور تعصب کا شکار ہو کر بدنام کرنے کی یہ ایک دانستہ سازش تھی۔ محمود غزنوی پر لارڈ ایلن برو کے چوری کے الزام کی برطانوی حکومت نے تحقیق کروائی اور جب اس کا جھوٹ ثابت ہو گیا تو 9 مارچ 1843 کو برطانوی پارلیمنٹ میں گورنر جنرل آف انڈیا کے جھوٹ پر باقاعدہ بحث ہوئی۔ تاہم لارڈ ایلن برو نے یہ سازش ہندوستان اور افغانستان کے عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لئے کی تھی تاکہ متحدہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان آزادی حاصل کرنے کے لیے متحد نہ ہو سکیں۔ برصغیر پر انگریزوں کی حکمرانی کا مشہور فارمولہ ہی یہ تھا کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو۔” (Divide and Rule) جس کا آغاز محمود غزنوی کے ہندوستان پر سترہ حملوں کو بنیاد بنا کر کیا گیا تھا۔
گو اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں یے کہ برصغیر میں اسلام کی ابتدا محمد بن قاسم اور محمود محمود غزنوی کے حملوں سے ہوئی تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں اسلام مسلم صوفیائے کرام کی جدوجہد، اخلاق حسنہ اور ان کے کردار کی طاقت سے پھیلا۔ اس سے مغربی تاریخ دان یہ مدعی قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہندوستان میں اسلام کی ترویج تلوار” کے زور پر ہوئی۔ اس پر مستزاد برصغیر میں جب 1857 کی “جنگ آزادی” میں برطانوی قابض فوج کے خلاف ہندوستان میں بغاوت ہوئی تو برطانوی مصنفین نے حیلوں بہانوں سے محمود غزنوی کو ایک لٹیرے کے طور پر پیش کیا جس کا اصل مقصد ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنا تھا۔ انہی برطانوی مصنفین کی لکھی ہوئی تاریخ کو مدنظر رکھ کر کچھ ہندو انتہا پسندوں نے بھی محمود غزنوی کی جی بھر کردار کشی کی۔ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ کچھ مسلمان تاریخ نویسوں نے بھی کہانی میں رنگ بھرنے کے لئےسومناتھ پر محمود غزنوی کے حملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور اصل حقیقت الزامات کی دھند میں گم ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب انتہا پسند ہندو آر ایس ایس، ویشوا ہندوپریشد اوربجرنگ دل جیسی تنظیموں کےرہنما بابری مسجد پر حملے اور مسلمانوں کے خلاف اپنی نفرت و حقارت کی وجوہات پر تقریریں کرتے ہیں تو وہ محمود غزنوی کو لٹیرا اور ڈاکو قرار دینے میں کوئی پس و پیش نہیں کرتے ہیں، حالانکہ ان ہندو فرقہ پرستانہ تنظیموں کے بھیانک کردار و عمل کی وجہ سے امریکی سی آئی نے بھی 19 جون 2018 کو ان تنظیموں کو دہشت گردی کی لسٹ میں ڈال دیا تھا کیونکہ ان تنظیموں کی انسانیت سوز کارروائیوں کی وجہ سے بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔ اب جبکہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھی محمود غزنوی کو بالواسطہ طور پر لٹیرا قرار دیا ہے تو پاکستان کے علاوہ بھارت میں بھی نئے سرے سے بحث چھڑ گئی ہے کہ محمود غزنوی واقعی ایک ڈاکو اور لٹیرا تھا جو بھارت میں موجود ہندو مندروں سے سونا چاندی اور ہیرے جواہرات لوٹنے آتا تھا مگر سچ یہ ہے کہ تب یہ مندر ہندوستان میں دفاع کے گڑھ اور جنگی سازشوں کی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔ ہندو رائٹرز ہی نے یہ بھی لکھا ہے کہ سومناتھ میں مسلمانوں پر بہت ظلم ہوتا تھا اورروزانہ ایک مسلمان کو اس مندر کی بھینٹ چڑھایاجاتاتھا لہذا محمود غزنوی نے اسے مسمار کرنے ہی میں مسلمانوں کی عافیت محسوس کی۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں