مجھے آج بھی 1982ء کاہاکی ورلڈ کپ فخر اور خوشگوار یادوں کے ساتھ یاد ہے۔ اس وقت پاکستان کی ہاکی ٹیم بہترین نظم و ضبط، مہارت اور اجتماعی ہم آہنگی کی علامت تھی۔ میدان میں منطورالحسن سینئر،قاضی محب الرحمن، رشیدالحسن، عبدالرشید جونیئر، حسن سردار، کلیم اللہ خان، محمدحنیف خان، سلیم اللہ خان، سمیع اللہ خان اور شاہد علی خان جیسے نام جگمگا رہے تھے۔ یہ صرف کھلاڑی نہیں تھے بلکہ پاکستان کی کھیلوں کی عظمت کے معمار تھے۔ ان کے سامنے بڑےسےبڑا حریف بھی بے بس دکھائی دیتا تھا۔ ان کی ٹیم ورک، درست پاسنگ اور مربوط حکمتِ عملی نے ایک ایسا ترنم پیدا کیا تھا جس نے مخالف ٹیموں کو بےاثر کردیا۔ جہاں بھی ان کے اسٹک حرکت کرتی، کامیابی خود بخود ان کے قدم چومتی۔
آج میں وہی جذبہ یکجہتی دوبارہ دیکھ رہا ہوں مگر اس بار ہاکی کے میدان میں نہیں بلکہ پاکستان کی قیادت میں۔ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم محمدشہبازشریف، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر قومی و پارلیمانی رہنمائوں کی دانشمندانہ قیادت اور باہمی تعاون سے پاکستان ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی رفتارحاصل کرتانظر آرہاہےجیسے ہمارے ہاکی کے ہیروز اپنی پوزیشن اور کردار بخوبی نبھاتے تھے، ویسے ہی آج یہ رہنما بھی اپنے اپنے دائرہ کار میں ذمہ داری اور ہم آہنگی کے ساتھ ملک کو استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں۔
ایک وقت تھاجب پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوچکا تھا۔ غیر ملکی رہنما اور وفود اسلام آباد آنے سےگریزاں تھے۔ ہماری سفارتکاری مدافعانہ اور کمزور دکھائی دیتی تھی،اوردنیا ہمیں شک و تذبذب کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔ لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والےالمناک حملے نے ہماری ساکھ کو مزید دھندلا دیا تھا۔ ہمارے اسٹیڈیم ویران ہو گئے اور شائقینِ کرکٹ کی آوازیں خاموش پڑگئیں۔ یہ تنہائی اور محرومی کے دن طویل اور کربناک تھےمگر پھر حالات کا رخ بدلنے لگاحوصلے، اتحاد اور عزم کے ساتھ۔ 8 اور 9 مئی 2025 ء کو پاکستان کی قیادت نے بھارت کی اشتعال انگیزی کےجواب میں جس غیرمعمولی ضبط، تدبر اورجرات کامظاہرہ کیا، اس نے دوستوں اور دشمنوں دونوں کو حیران کر دیا۔ یہ ردِعمل جارحانہ نہیں بلکہ پراعتماد تھاایسا اعتمادجو قومی یکجہتی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی سے جنم لیتا ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے عزت و وقار کی نئی بلندیوں کو چھوا۔ دنیا نے ہمارےتدبر، اتحاد اور بالغ نظری کو تسلیم کیا۔ جن ملکوں کی نظروں میں کبھی ہم شک کے دائرے میں تھے، وہی اب ہمارے حوصلے اورخودمختاری کے معترف بنے۔ اسلام آباد نے ایک بار پھر عالمی مرکزِ مکالمت کے طور پر اپنی پہچان بحال کی۔
اس کے بعد کے مہینے پاکستان کی مثبت تبدیلی کے گواہ بنے۔ پارلیمانی سفارتکاری نے ملک کی بین الاقوامی ساکھ کی بحالی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اکتوبر 2025ء کے اوائل میں ترکی اور آذربائیجان کے ہم منصبوں کے ساتھ سہ فریقی اسپیکرز اجلاس کی میزبانی کی، جس کا مقصد پارلیمانی اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا تھا۔ اسی طرح چیئرمین سینیٹ سیدیوسف رضاگیلانی کی زیرِقیادت پاکستان نے بین الپارلیمانی یونین کےاسپیکرز کانفرنس کی میزبانی کی، جہاں اسلام آباد جمہوری مکالمے اورعالمی شراکت کےایک متحرک مرکزکے طور پر ابھرا۔ یہ واقعہ پاکستان کی عالمی پارلیمانی برادری میں بطور ایک پراعتماد اور متوازن جمہوریت دوبارہ واپسی کی علامت بن گیا۔
سفارتی محاذ پر بھی 2025 ء پاکستان کے لیے غیر معمولی سرگرمیوں کا سال رہا۔ فروری 2025 ء میں صدر آصف علی زرداری نے ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید کا ایوان صدر میں پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنمائوں نے پاکستان-یو اے ای شراکت کے دیرپا تعلقات کی تجدید کی اور تجارت، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ستمبر 2025ء میں پاکستان اورسعودی عرب نےاسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ پر دستخط کیے،جس کےتحت کسی ایک ملک پرحملہ دونوں پرحملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ دفاعی تعاون کےایک نئےباب کا آغاز تھا۔ اکتوبر 2025ء میں وزیراعظم شہبازشریف نےریاض میں 9ویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں توانائی، دفاع اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوئی اور سعودی قیادت نے پاکستان کے استحکام اور سمت کی تعریف کی۔
اسی سال ستمبر میں وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ امریکہ نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا۔ صدرڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلی امریکی حکام سے ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی استحکام پر گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نےامریکی کمپنیوں کو توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، اور پاکستان کے مثبت، پرامن اور شراکت دارانہ رویے کو اجاگر کیا۔
اس سارے منظرنامے کے مرکز میں جنرل عاصم منیرکی قیادت نمایاں رہی، جنہوں نے مئی 2025 کی ایک روزہ جنگ کے دوران ملک کو غیر معمولی استقامت، نظم و ضبط اور حکمت کے ساتھ رہنمائی فراہم کی۔ ان کی قیادت نے دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان جارحیت کے بجائے وقار اور اعتماد سے اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا جانتا ہے۔ ان کی دور اندیشی اور خاموش قوت نے نہ صرف افواج پاکستان بلکہ پوری قوم کے دلوں میں اطمینان اور فخر پیدا کیا۔
اس مختصر مگرفیصلہ کن جنگ کےبعدپاکستان کی سفارتکاری ایک نئے اعتماد کے دور میں داخل ہوئی۔ مستحکم قیادت اور مضبوط ادارہ جاتی ہم آہنگی کے باعث پاکستان کے عالمی روابط میں غیرمعمولی تیزی آئی۔ امریکہ، ترکی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک نے پاکستان کی بالغ نظری اوراستقامت کوسراہا۔ یہ سفارتی پیش رفت نہ صرف پاکستان کے وقار میں اضافےکاباعث بنی بلکہ تجارت، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں نئے امکانات کے دروازے بھی کھول گئی۔
آج دنیا کا رویہ پاکستان کے بارے میں واضح طور پر بدل چکا ہے۔ جو ممالک کبھی فاصلہ رکھتے تھے، اب ہماری قیادت کو عزت و احترام سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ پاکستانی وفود کو بیرونِ ملک گرم جوشی سےخوش آمدید کہا جاتا ہے، اور اسلام آباد میں عالمی رہنمائوں کی آمد معمول بن چکی ہے۔ کبھی سنسان رہنے والے کرکٹ اسٹیڈیم اب ایک بار پھر تماشائیوں کی گونج سے بھر گئے ہیں، جہاں دنیا بھر کی ٹیمیں کھیلنے آ رہی ہیں سوائے ایک کے۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد اور راولپنڈی کے میدانوں میں گونجتی تالیوں کی آواز اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا اعتماد اور وقار واپس حاصل کر لیا ہے۔
پاکستان کا یہ سفر تنہائی سے عزت و وقار تک نہ تو مختصر تھا، نہ آسان۔ یہ اجتماعی دانش، قومی یکجہتی اور قیادت کے باہمی ہم آہنگ کردار کا نتیجہ ہے۔ وہی جذبہ جو کبھی ہماری ہاکی ٹیم کو عالمی چیمپئن بناتا تھا، آج ہماری حکمرانی اور سفارتکاری کی بنیاد بن چکا ہے۔ جب ہماری قیادت ایک وژن اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، پاکستان کا پرچم دنیا کے افق پر اور بلند ہوتا جا رہا ہے۔ یہ قوم، اجتماعی عزم اور مقصدیت کے ساتھ، ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک روشن تر مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے۔