اسلام آباد کچہری کے باہر اور وانا کیڈٹ کالج میں دہشت گردی کے جو دو واقعات ہوئے۔ان کے تانے بانے بھارت اور افغانستان سے ملتے ہیں۔ یہ کہنا ہے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا انٹیلی جنس رپورٹس بھی اس الزام کو ثابت کر رہی ہیں۔وزیر دفاع نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے وہ بدلے میں افغانستان کے اندر کارروائی کریں گے۔انٹیلی جنس بیسڈ پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے۔دہشت گردی ہے کیا؟ اس سے متعلق کوئی ایسی تعریف کرنا کہ جو بر موقع سو فیصد اتفاق رائے سے لاگو کی جا سکے اگر ناممکن نہیں تو کم از کم انتہائی مشکل ضرور ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے ہونے والی بحث بہت پرانی ہے اور متنازع بھی۔مجموعی طور پر مختلف ممالک، خاص طور پر یورپ میں اگر ایک یا دو فیصد مسلمان دہشت گردی میں ملوث ہیں تو اس کا الزام ساری مسلم امہ پر نہیں لگایا جا سکتا۔ ایک یورپین تجزیہ کار کا کہنا ہے تمام مسلمان دہشت گرد نہیں،البتہ تمام دہشت گرد مسلمان ضرور ہیں۔ اس بات یا جملہ پر بہت سے لوگوں کا اعتبار بھی ہے تاہم عالمی تناظر میں دہشت گردی جیسے ایشو پر ہم غور کریں تو ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ دہشت گردی کا اس وقت سب سے بڑا نشانہ مسلمان ہی ہیں۔انہیں ہی ہدف بنایا جا رہا ہے۔کیا یہ بات بہت عجیب اور قابل غور نہیں؟اسلام ایسا آفاقی مذہب ہے جس کی بنیاد ہی امن و سلامتی اور محبت پر قائم ہے۔جس مذہب کی بنیاد ہی امن و سلامتی اور محبت پر قائم ہو ، جس نے قیام امن اور انسانیت کے لیے کئی سنہری اصول وضع کئے ہوں۔وہ انسانیت یا امن و سلامتی کے خلاف کیسے ہو سکتا ہے۔اسلام نے کسی بے گناہ کا خون بہانے سے سختی سے منع کیا ہے۔مسلمان یا کافر کی اس میں کوئی قید نہیں۔ ظلم و زیادتی ہر حال میں منع کی گئی ہے۔حتی کہ حالت جنگ میں بھی مسلمانوں کو کسی بھی زیادتی سے روکا گیا ہے۔قرآن و حدیث کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ اسلام فتنہ و فساد سے منع کرتا ہے جو لوگ مسلمان ہو کر بھی فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں وہ ہم میں سے یعنی مسلمانوں میں سے نہیں۔جہاد کیا ہے؟ کن موقعوں پر ہونا چاہیے۔ اسلام نے صراحت سے بیان کر دیا ہے۔اس ضمن میں غور و خوض کی ضرورت ہے تاکہ جہاد اور دہشت گردی کے فرق کو سمجھا جا سکے۔ اسلام میں جہاد کا تصور اور مفہوم بہت وسیع ہے۔اس لئے جنگ کو جہاد کا جزو کہا جا سکتا ہے لیکن ہر وہ عمل جو اسلام کے بنیادی تصورِ جہاد کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو، دہشت گردی کے زمرے میں ہی آئے گا۔چاہے وہ انفرادی یا گروہی سطح پر ہی کیوں نہ ہو۔ایک فریق اگر اپنی لڑائی کو جہاد سمجھتا ہے تو دوسرا اس جنگ کو دہشت گردی سمجھتا ہے۔اس اختلاف کی بنا پر عام لوگوں کو یہ سمجھنے میں ضرور دشواری پیش آتی ہے کہ ان میں سے کون سا فریق صحیح یا غلط ہے۔لہذا ضروری ہے کہ عالم اسلام کے تمام مکاتبِ فکر کے علما اکٹھے ہو کر دورِ نو کے تقاضوں کے عین مطابق جہاد کے فلسفہ، اس کی اہمیت اور ضرورت پر متفقہ رائے قائم کرتے ہوئے جہاد اور دہشت گردی کے مابین فرق کو واضح کریں۔ موجودہ صورت حال میں ملت اسلامیہ انتشار اور فرقہ واریت کا شکار ہے۔ایک ہی موقف پر سب کا اکٹھے ہونا محال دکھائی دیتا ہے۔حتی کہ جہاد جیسے حکم پر بھی عالم اسلام دو حصوں میں تقسیم ہے۔اپنے مقف میں شدت رکھنے والا طبقہ کفار کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جنگ کرنے کے حکم نظریے کے ساتھ ساتھ اپنے عقائد و نظریات سے متصادم مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کو جہاد سے تعبیر کرتا ہے اور اس کے لیئے قرآن و حدیث سے استدلال بھی سامنے لاتا ہے۔جبکہ معتدل فکر کا حامل طبقہ جہاد کو صرف دفاعی نقطہ نظر سے اہمیت دیتا ہے۔جہاد، جنگ یا دہشت گردی میں یہی بنیادی اصول وجہ تفریق ہے کہ جہاد اور اس کی مختلف اقسام کا مقصد دنیا میں امن و سلامتی ہے جبکہ دہشت گردی فتنہ تباہی و بربادی ہے۔
پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سے ایک دہشت گردی ہے۔جو اس وقت ہمارے لیئے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔شایدہی کوئی دن ایسا ہو جب دہشت گردی یا تخریب کاری کا کوئی وقوعہ نہ ہوتا ہو۔ایک سانحے کا دکھ ابھی ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا رونما ہو جاتا ہے۔پاکستان کے دو صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا نمایاں ہیں جن میں تخریب کاری اور دہشت گردی ہوتی ہے۔تمام دراندازی اور دہشت گردی افغانستان سے ہو رہی ہے۔جہاں ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش اور القاعدہ کے کیمپ ہیں۔جہاں سے یہ لوگ بھارتی پراکسی پر پاکستان میں دراندازی کرتے ہیں۔یہاں دہشت گردی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔قریبا تین دہائیوں سے ہم تخریب کاری اور دہشت گردی کا دکھ سہتے آرہے ہیں۔ایک بہت ہی مختصر وقفے کے بعد 11 ستمبر کو پاکستان کے کیپیٹل اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے یکے بعد دیگر دو واقعات ہوئے۔اسلام آباد کچہری کے باہر ایک خودکش دھماکے میں 12 افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 27 افراد زخمی ہو گئے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ حملہ مبینہ طور پر بھارتی سرپرستی اور افغان طالبان کی پراکسی تنظیم فتنہ الخوارج نے کیا۔دھماکہ کچہری کے باہر پارکنگ ایریا میں کھڑی ایک گاڑی کے قریب ہوا۔یہ حملہ خودکش تھا جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور کئی گاڑیاں آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔زخمیوں میں وکلا سائلین اور راہگیر شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں سے کئی کی حالت بہت تشویش ناک ہے-وانا کیڈٹ کالج میں دہشت گرد حملہ ہوا، تو اس وقت 525 کیڈٹس سمیت قریبا 650 افراد کالج میں موجود تھے۔یہ حملہ چار خارجی دہشت گردوں نے کیا۔ایک دہشت گرد نے بارود سے بھری گاڑی کالج کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا دی۔جس سے گیٹ مکمل طور پرمنہدم ہو گیا۔جبکہ تین خارجی دہشت گرد مزید کارروائی کے لیے کالج کی حدود میں داخل ہو گئے۔اس دوران پاک فوج کے افسر اور جوان بھی موقع پر پہنچ گئے اور اپنی کارروائی کا آغاز کیا جس میں دو خارجی دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک کر دئیے گئے۔ یہ ایک بڑا حملہ تھا جس میں کیڈٹس اور اساتذہ کو نشانہ بنایا جانا تھا لیکن پاک فوج نے آپریشن کرتے ہوئے تمام طلبا، اساتذہ اور دیگر عملے کو بحفاظت ریسکیو کر لیا-جبکہ آپریشن کو جامع طریقے سے حتمی انجام تک پہنچایا-افغانستان بھارتی پراکسی پر پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں برابر کا حصہ دار ہے۔وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح طور پر اشارہ دے دیا ہے کہ اب انٹیلی جنس بیسڈ پر افغانستا ن کے اندر قائم دہشت گردوں کے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایاجائے گا جہاں سے پاکستان کے اندر دراندازی اوردہشت گردی ہوتی ہے۔ سپاہی اور عسکری قیادت اس حوالے سے سرجوڑ کر بیٹھ گئی ہے، سوچا اور فیصلہ کیا جا رہا ہے کہ افغانستان کے اندر دہشت گرد کیمپوں پر کب اور کس نوعیت کی کارروائی کی جائے۔