بھارتی جارحیت کا نیا ہدف‘ کشمیری ڈاکٹروں پر ظلم کی لہرمقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مودی حکومت کی جابر پالیسیاں شدت اختیار کر رہی ہیں۔ تحریک آزادی کی آواز دبانے کے لیے سینکڑوں کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، مگر اب یہ ظلم انسانیت کی خدمت کرنے والے ڈاکٹروں تک پہنچ گیا ہے۔ محض من گھڑت الزامات پر چار ممتاز کشمیری ڈاکٹروں کو گرفتار کر لیا گیا، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور آزادی کی جدوجہد کو کمزور کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ یہ واقعات بھارتی ریاستوں میں کام کرنے والے کشمیری پیشہ ور افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور عالمی برادری کو بھارت کی جمہوریت پر سوال اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں۔حالیہ گرفتاریوں کی ابتدا ڈاکٹر عدیل احمد سے ہوئی، جو سہارنپور میں نجی ہسپتال میں کام کر رہے تھے۔ پولیس نے انہیں حراست میں لیا اور الزام لگایا کہ انہوں نے ایک سال تک ہسپتال میں رائفل چھپائی تھی، حالانکہ وہ گزشتہ سال ہی ادارہ چھوڑ چکے تھے۔ مزید الزام ایک پوسٹر چسپاں کرنے کا لگایا گیا، جس میں دکانداروں کو بھارتی ایجنسیوں سے تعاون نہ کرنے کی اپیل تھی۔ بھارتی حکام انہیں عسکری تنظیم سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔ یہ گرفتاری بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر کشمیریوں کی زندگی اجاڑنے کی مثال ہے۔یوپی پولیس کی کارروائیاں جاری رہیں۔ فرید آباد دہلی سے ڈاکٹر مزمل شکیل کو گرفتار کیا گیا، جن پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے کرائے کے کمرے سے 2900 کلوگرام دھماکا خیز مواد، رائفلیں، ٹائمرز اور بیٹریاں برآمد ہوئیں۔ یہ دعوی ہنسی خیز ہے، کیونکہ فرید آباد کے پولیس کمشنر کمار گپتا نے ہی افسران کے دعووں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ رائفلیں AK-47 کی بجائے عام شاٹ گنز تھیں، جس سے پولیس کی کہانی بے نقاب ہو گئی۔ یہ تضاد بھارتی اداروں کی صداقت پر سوال اٹھاتا ہے اور پروپیگنڈے کی نشاندہی کرتا ہے۔خاتون ڈاکٹر شاہین شاہد، لال باغ لکھنو سے تعلق رکھنے والی، کو بھی فرید آباد سے گرفتار کیا گیا۔ حکام نے انہیں ڈاکٹر مزمل سے جوڑنے کی کوشش کی، مگر ثبوت نہ مل سکے۔ ایک خاتون اور معزز پیشہ ورانہ حیثیت کے باوجود انہیں انصاف کے بغیر جیل بھیج دیا گیا۔ گجرات سے ڈاکٹر احمد محی الدین سید کو کیمیائی حملے کی تیاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ یہ سطحی الزامات قانونی معیار پر پورے نہیں اترتے، مگر بھارتی نظام انہیں دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔یہ گرفتاریاں اتفاقی نہیں بلکہ منظم حکمت عملی ہیں۔ ڈاکٹرز معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، جو جان بچانے کا مقدس فرض نبھاتے ہیں۔ ان پر ہاتھ ڈالنا انسانی اقدار کی توہین اور کشمیری تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
5 اگست 2019 ء کو آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بعد بھارت نے دعوی کیا تھا کہ “دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی”، مگر حقیقت میں خون اور آنسو آئے۔ اس کے بعد ڈاکٹروں سمیت ہر طبقے پر ظلم بڑھا۔ ماضی میں بھی کئی ڈاکٹروں کو گرفتار کیا گیا، مگر حالیہ برسوں میں یہ سلسلہ تیز ہوا۔بھارت کی پالیسی مقبوضہ کشمیر سے آگے بھارتی ریاستوں تک پھیلی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مودی اپنے اندرونی بحرانوںمعاشی مندبودگی اور سماجی تقسیم سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کو بدنام کر رہا ہے۔ بہار انتخابات سے پہلے یہ گرفتاریاں سیاسی چال ہیں، جہاں کشمیری ڈاکٹروں کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ “گودی میڈیا” انہیں پروپیگنڈا بناتا ہے، جیسے ڈاکٹر عدیل کی گرفتاری کو پاکستان سے جوڑنا۔ بھارتی وکیل پرسانت بھوشن کے اعترافات سے پتہ چلتا ہے کہ عدالتیں حکومتی اشاروں پر چلتی ہیں، اور سزاوں میں شدت بڑھائی جاتی ہے۔کشمیری ڈاکٹروں کی مالی مشکلات سنگین ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انٹرن ڈاکٹروں کی اجرت دو وقت کی روٹی بھی نہ دے، اور بھارتی ریاستوں میں محنت کرنے والوں کو دہشت گرد بنا دیا جاتا ہے۔ یہ خاندانوں کو خوفزدہ کرتا ہے اور کشمیری قوم کو دہشت گرد پیش کرنے کی کوشش ہے۔ بھارت کشمیری ثقافت، مذہب اور شناخت کو بدنام کر کے اقوام متحدہ تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دبانا چاہتا ہے۔ ڈاکٹرز کی حمایت سے تحریک مضبوط ہو جائے گی، اس لیے انہیں خاموش کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر غلام نبی فائی، امریکہ میں کشمیر امریکن کونسل کے سربراہ، کی مثال بھی دیکھیں۔ انہوں نے حقِ خودارادیت کی حمایت کی، مگر بھارت نے واڈون بڈگام میں چھاپہ مارا، جائیداد ضبط کی اور اشتہاری قرار دیا۔ یہ دیاسپورا کے خلاف جارحانہ حکمت عملی ہے۔
مقبوضہ کشمیر دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں فوجی ڈاکٹروں جیسے افراد کو دہشت گرد بناتے ہیں۔ یہ 78 برسوں کی جدوجہد کو توڑنے کی ناکام کوشش ہے۔ بھارت کی حکمت عملی ماضی میں ناکام ہوئی، اور آج بھی رسوائی لائے گی۔ عالمی برادری کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نوٹس لینا چاہیے اور کشمیری حق کی حمایت کرنی چاہیے۔ ظلم کی انتہا انقلاب کی ابتدا ہے کشمیری جدوجہد مزید مضبوط ہوگی۔