Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

گورنر راج: ایک سیاسی و نظریاتی جائزہ

ایک بار پھر پاکستان میں گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔اس بار صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر کے ممکنہ نام ڈرائنگ روموں اور نیوز روموں میں زیرِ بحث ہیں، اور وہی پرانا سوال دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا ہیکہ آئین کب کسی صوبے کو براہِ راست وفاق کے زیرِ انتظام کرنے کی اجازت دیتا ہے، اور یہ قدم ہمارے سیاسی نظام کی گہری خامیوں کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟ 1947 ء سے اب تک پاکستان کے ہر صوبے میں کم از کم ایک بار گورنر راج نافذ کیا جا چکا ہے، اور ہر دور نے سیاسی، انتظامی اور آئینی سطح پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔
گورنر راج کا آئینی جواز پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 234 میں موجود ہے۔ اس کے تحت صدرِ مملکت، وفاقی حکومت کے مشورے پر، گورنر کو صوبے کا انتظام سنبھالنے کا اختیار دے سکتا ہے جب صوبائی حکومت آئینی تقاضوں کے مطابق کام کرنے کے قابل نہ رہے۔ آرٹیکل تو واضح اور طریق? کار پر مبنی ہے، مگر اس کے نفاذ کے اسباب ہمیشہ بادی النظر میں سیاسی نظر آتیہیں — اکثر متنازع، اور بعض اوقات مرکز و صوبے، حکومت و اپوزیشن یا امن و بے امنی کے درمیان گہرے تناؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔
عام تاثر کے برخلاف سندھ میں اب تک صرف تین بار براہِ راست گورنر راج نافذ ہوا۔ پہلی بار قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں، جب 1951 ء سے 1953 ء تک گورنر میاں امین الدین نے وزیرِ اعلیٰ محمد ایوب کھوڑو کی برطرفی اور اسمبلی کے تحلیل ہونے کے بعد صوبے کا کنٹرول سنبھالا۔ دوسری مرتبہ 1988 ء میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) رحیم الدین خان کے دور میں، جب کراچی اور حیدرآباد میں شدید لسانی فسادات کے بعد حکومت ہٹا دی گئی۔ تیسری بار 1998 ء میں حکیم محمد سعید کے قتل کے بعد لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر کو صوبے کا انتظام دیا گیا۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق اس سے پہلے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کشیدگی نے حکومتی معاملات کو شدید متاثر کر رکھا تھا، جس سے ظاہر ہوا کہ اتحادی بندوبست دباؤ برداشت کرنے کے قابل نہیں تھے۔
بلوچستان کی تاریخ بھی اسی طرح کے اتار چڑھاؤ سے بھری ہوئی ہے۔ پہلی بار 1973 ء میں عطا اللہ مینگل کی حکومت کو علیحدگی پسندی کے الزامات اور امن و امان کی خرابی کے باعث برطرف کر کے میر غوث بخش بزنجو کے دور میں گورنر راج نافذ ہوا۔ 1975 ء اور پھر 1977 ء میں میر احمد یار خان بلوچ کے تحت دوبارہ گورنر راج نافذ ہوا، جو ملک گیر سیاسی ہلچل سے جڑا تھا۔ بعد ازاں 1999 ء سے 2002 ء تک جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے دوران سید محمد فضل آغا نے صوبے کا انتظام چلایا۔ سب سے حالیہ مثال 2013ء کی ہے، جب بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ دہشت گردی اور حکومت کی مفلوج کارکردگی کے باعث نواب ذوالفقار علی مگسی نے صوبائی انتظام سنبھالا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ہر مثال صرف انتظامی ناکامیوں ہی کی نہیں، بلکہ مرکز کی جانب سے سیاسی مسائل کو جمہوری انداز میں حل نہ کرنے کے رجحان کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
پنجاب جو سب سے بڑا اور سیاسی طور پر سب سے اہم صوبہ ہے—میں بھی تین بار گورنر راج لگ چکا ہے۔ پہلی بار 1949 ء میں، جب وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے دریافت کیا کہ وزیرِ اعلیٰ افتخار ممدوٹ نے اپنی اکثریت بڑھا چڑھا کر پیش کی ہے۔ اس کے بعد سر فرینسس موڈی اور پھر سردار عبدالرب نشتر نے تقریباً دو سال تک صوبہ چلایا، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ نو زائیدہ جمہوری ادارے کس قدر کمزور تھے۔ دوسری بار 1999 ء میں جنرل مشرف کی فوجی حکومت نے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف کی حکومت برطرف کر کے صوبے کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد صفدر اور پھر لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول کے حوالے کر دیا۔ تیسری بار 2009 ء میں، جب صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف اور شہباز شریف کی نااہلی کے بعد صوبائی انتظامی اختیارات گورنر سلمان تاثیر کو دے دیے‘ اگرچہ اسمبلی برقرار رہی۔
خیبر پختونخوا جو پہلے صوبہ سرحد کہلاتا تھا—میں بھی تین بار گورنر راج نافذ کیا گیا۔ پہلی بار 1975 میں میجر جنرل (ر) سید غوث کے دور میں، جب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار میں سیاسی بے چینی بڑھ گئی تھی۔ دوسری بار 1994 ء میں، جب بڑھتی ہوئی داخلی کشیدگی اور انتظامی بدنظمی کے باعث میجر جنرل (ر) خورشید علی خان نے صوبائی انتظام سنبھالا۔ تیسری بار 1999 ء کے بعد، جب لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد شفیق اور بعد ازاں لیفٹیننٹ جنرل (ر) افتخار حسین شاہ نے 2002 ء تک صوبہ چلایا۔ مورخین کے مطابق ہر مثال بدتر امن و امان، کمزور سیاسی اتحاد اور مرکز کی جانب سے کنٹرول سنبھالنے کے رجحان کا نتیجہ تھی۔
ان تمام ادوار کا جائزہ ایک تلخ حقیقت آشکار کرتا ہیکہ پاکستان میں گورنر راج کبھی بھی خالصتاً آئینی اقدام نہیں رہا، بلکہ اس میں ہمیشہ سیاسی رنگ غالب رہا ہے۔ بعض مواقع پر اسے حقیقی انتظامی بگاڑ کے سبب جائز قرار دیا جا سکتا ہے، مگر اکثر یہ سیاسی صف بندی بدلنے، مخالفین کو روکنے یا طاقت کے توازن کو ازسرِ نو ترتیب دینے کا ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ ہمارے صوبائی اداروں کی کمزوریوں اور وفاقی ڈھانچے میں موجود مرکزیت کے رجحان دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔
تاریخ کا سبق واضح ہے؛ گورنر راج وقتی انتظامی ریلیف تو دے سکتا ہے، مگر پائیدار صوبائی حکمرانی کی بنیاد نہیں رکھ سکتا۔ اس کے لیے مضبوط سیاسی جماعتیں، آئینی حدود کا احترام، فعال مقامی حکومتیں اور جمہوری تحمل کا مزاج درکار ہے۔ جب تک پاکستان ان اصولوں کو اپنانے میں سنجیدہ نہیں ہوتا، مداخلت اور عدم استحکام کا چکر صوبائی سیاست کے گرد منڈلاتا رہے گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ فیڈریشن کا اصل امتحان یہ نہیں ہوتا کہ وہ کتنی بار اختیار کو مرکز میں سمیٹتی ہے، بلکہ یہ کہ وہ صوبائی خودمختاری کا تحفظ کرتے ہوئے کس طرح آئینی نظم کو برقرار رکھتی ہے۔ گورنر راج کا سفر یاد دلاتا ہے کہ آئین علاج فراہم کرتا ہے، مگر یہ سیاسی بصیرت پر منحصر ہے کہ وہ علاج زخم بھرتا ہے یا نظام کو مزید زخمی کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں