Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

پاکستان کا اصولی موقف :امن کی حمایت جنگ کی مخالفت !

ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ جارحیت نے دنیا کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ ایران کا عسکری ردعمل امریکہ اور اسرائیل کے لیے غیرمتوقع اورحیران کن رہا ہے۔ خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں اور اسرائیل پر حملوں کے ساتھ آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں ۔سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کی شہادت کے بعد نئے رہبر اعلٰی کے انتخاب سے امریکہ کی ایران میں رجیم چینج” کی خواہش بھی دم توڑ گئی ہے۔ ایران کے رہبر اعلٰی سمیت مناب اسکول کی معصوم بچیوں کی المناک شہادت پر پاکستان کے عوام بھی دل گرفتہ ہیں۔ بلا امتیاز مسلک تمام مکاتب فکر نے ایرانی قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ حکومت کا ردعمل بھی اس معاملے پر بہت واضح اور دو ٹوک رہا ہے ۔ایران پر جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان نے کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ وزیراعظم،وزیرخارجہ جو کہ ڈپٹی پرائم منسٹر بھی ہیں اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب سمیت دیگر اہلکاروں نے امریکی اور اسرائیلی جارحیت کی کھلے لفظوں میں مذمت کی ہے۔ غور کیاجائے تو پڑوسی ملک ایران پر حملوں کے بعد خلیج میں پھیلنے والی جنگی کشیدگی بطور ریاست ہماری اجتماعی دانش کا بھی امتحان ہے ۔اس حوالے سے بعض پہلو بہت حساس اور توجہ طلب ہیں۔ایران ؛پاکستان کا پڑوسی اور برادر اسلامی ملک ہے۔ بالکل اسی طرح تمام خلیجی ریاستوں کے ساتھ بھی پاکستان کے برادرانہ اور قابل اعتماد تعلقات ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ تو پاکستان کے اہم دفاعی۔ معاشی اور تذویراتی معاہدے بھی ہیں۔ ان تمام ریاستوں کے ساتھ معاشی مفادات کے علاوہ مذہب ،سماجی اقدار اور باہمی رواداری پر مبنی دوستانہ تعلقات کی طویل تاریخ بہت اہمیت کی حامل ہے۔ آج بھی لاکھوں پاکستانی ان ریاستوں میں مختلف ذمہ داریاں نبھا کر ملک میں قیمتی زر مبادلہ بھیجتے ہیں ۔ پاکستان کا ریاستی مفاد یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس خطے میں جنگ کی آگ پھیلنے کے بجائے جلد بجھ جائے۔ جنگی کشیدگی نہ تو خلیجی ممالک کے لیے مفید ہے اور نہ ہی بطور ریاست پاکستان کے لیے سود مند ہے۔ اس پیچیدہ بحرانی کیفیت اور جنگی کشیدگی کے ماحول میں باہم الجھے ہوئے دوست ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو متوازن رکھتے ہوئے امن کے قیام کی کوشش کرنا بےحد دشوار ہےیہ پہلو لائق تحسین ہے کہ ریاست پاکستان اس آزمائش سے تاحال بخوبی گزر رہی ہے۔ ریاستی مفاد یہی تقاضہ کرتا ہے کہ پاکستان کسی فریق کی حمایت یا مخالفت کرنے کے بجائے خلوص نیت سے قیام امن کے لیے سب کا حلیف بن کر پائیدار امن کی بحالی اور جنگی کشیدگی کے خاتمے کے لیے بھرپور کاوشیں کرتا رہے۔ اب تک پاکستان کی سفارتی کوششیں اسی اصول کے تحت جاری و ساری ہیں۔ وزیراعظم نے ایران پر جنگی جارحیت کی واشگاف الفاظ میں مذمت کی ہے، نئے رہبر اعلٰی کے انتخاب پر ایرانی قوم کے لیے نیک تمناؤں کے اظہار کے ساتھ ساتھ اسرائیلی شر پسندانہ عزائم کے خلاف ایران سے یکجیتی کے اظہار کے لیے ایرانی صدر سے فون پر تبادلہ خیال بھی کیا ہے۔ وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پارلیمان میں واضح الفاظ میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان پاکستان کی مصالحانہ کاوشوں کا تذکرہ کر کے خارجہ پالیسی کے اس مثبت پہلو کو اجاگر کیا ہے کہ ہر بحران کے دوران پاکستان ہمیشہ قیام امن کے لیے تمام برادر ممالک کا فریق بنے گا۔ اس وقت وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے ہنگامی دورے پر ہیں جہاں خطے میں پھیلتی کشیدگی کےحوالےسے ان کی ملاقات سعودی فرماں روا شہزادہ محمد بن سلمان سے ہو چکی ہے۔ اس دورے میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ صاف ظاہر ہےکہ سعودی عرب کے دفاعی حلیف ہونے کے ناطے پاکستان خلیج میں پھیلتی جنگی کشیدگی کو ختم کروانے اور امن کی بحالی کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ بیک وقت ایران، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے اعتماد پر مبنی خوشگوار تعلقات کی بدولت ایک مضبوط دفاعی قوت ہونے کے ناطے پاکستان آج قیام امن کی کوششوں میں مرکزی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نازک حالات میں اندرونی محاذ پر مکمل اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے۔ ایران پر اسرائیلی جارحیت کے فوری بعد مظاہروں کے دوران بعض عاقبت نااندیش عناصر نے قانون ہاتھ میں لے کر تشدد کا راستہ اپنانے کی قابل مذمت کوششیں کیں تاہم ریاست کے بروقت اقدامات کے بعداب وہ صورتحال نہیں ۔تمام مکاتب فکر کے علماء نے مسلکی ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتحاد بین المسلمین کی فضا قائم کی ہے۔ پاکستان کے دشمنوں کو یہ پیغام مل گیا ہے کہ جب بھی ریاستی مفاد اور ملت اسلامیہ کی بقا کا معاملہ درپیش ہوگا تو پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد رہے گی ۔برادر اسلامی ممالک کو بھی یہ پیغام ملا ہے کہ پاکستان ایسا قابل اعتماد دوست ہے جو ہر آزمائش کی گھڑی میں امن اور سلامتی کا داعی بن کر اپنے دوستوں سے وفاداری نبھاتا ہے۔ اس کے برعکس مودی کا ہندوستان ایک ایسا “عالمی منافق” بن کر ابھرا ہے جو امن کے دنوں میں تو ایران سے مفادات بٹورتا رہا اورجب جنگ کی آزمائش آن پڑی تو طوطے کی طرح آنکھیں پھیر کر نیتن یاہو کی پشت پر جا کھڑا ہوا۔ الحمدللہ! پاکستان کل بھی امن کا حامی تھا اور آج آزمائش کی گھڑی میں بھی برادر اسلامی ممالک کے شانہ بشانہ قیام امن کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں