کسی بھی خطے یا ریاست کا آئینی اور سیاسی ڈھانچہ راتوں رات وجود میں نہیں آتا، بلکہ اس کے پیچھے دہائیوں کی قربانیاں، تاریخی تسلسل اور قومی عزائم کارفرما ہوتے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کا سیاسی نظام بھی ایک ایسے ہی نازک توازن پر قائم ہے، جہاں ایک طرف مقامی آبادی کی جمہوری نمائندگی ہے، تو دوسری طرف تحریکِ آزادیِ کشمیر اور مسئلہ کشمیر کے ساتھ پاکستان کا وسیع تر قومی و سفارتی عزم جڑا ہوا ہے۔ لیکن حالیہ چند مہینوں کے دوران، اس پرامن خطے میں ایک ایسا گمراہ کن بیانیہ سامنے آیا ہے جس نے آزاد کشمیر کے پورے آئینی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں مقیم جموں و کشمیر کے مہاجرین کی بارہ مخصوص نشستوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جو تحریک شروع میں عوامی حقوق، مہنگائی کے خاتمے اور طرزِ حکومت کی اصلاح کے نام پر کھڑی کی گئی تھی، وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریاست کے بنیادی اداروں، طے شدہ آئینی انتظامات اور خود جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے والی مہم میں تبدیل ہو چکی ہے۔اس وقت آزاد کشمیر میں جاری بحث محض کوئی تکنیکی یا انتظامی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کا بڑا امتحان ہے کہ آیا آئینی اور قومی نوعیت کے سوالات پارلیمان جیسے منتخب فورمز پر طے ہوں گے یا پھر گلی کوچوں میں ہجوم اکٹھا کر کے، سڑکیں بلاک کر کے اور عوامی دباؤ کے ذریعے فیصلے کروائے جائیں گے؟
آج کل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر یہ پروپیگنڈا بڑے زور و شور سے کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں آباد کشمیری مہاجرین کی یہ بارہ نشستیں آزاد کشمیر کے خزانے پر ایک غیر ضروری بوجھ ہیں اور موجودہ دور میں ان کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز باقی نہیں رہا۔ احتجاج کرنے والے اس بنیادی حقیقت کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہ نشستیں جموں و کشمیر کے ان لاکھوں مہاجرین کی سیاسی اور نظریاتی نمائندگی کرتی ہیں جن کے آباؤ اجداد نے مقبوضہ وادی سے ہجرت کی، جن کی جڑیں آج بھی وہاں پیوست ہیں ۔ اس پروپیگنڈے کے پیچھے محض مقامی جذبات نہیں، بلکہ معتبر ذرائع کے مطابق اس مہم کو منظم کرنے اور پاکستان کو داخلی طور پر غیر مستحکم کرنے کے لیے خطیر بیرونی فنڈنگ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان دشمن قوتیں اس فنڈنگ کے ذریعے آزاد کشمیر کے پرامن ماحول کو بگاڑنا اور کشمیریوں کے اس نظریاتی اکٹھ کو کمزور کرنا چاہتی ہیں جو ان بارہ نشستوں کی صورت میں قائم ہے۔یہ دلیل دینا کہ 1974ء سے پہلے ایسی مخصوص نشستیں موجود ہی نہیں تھیں، تاریخ کو مسخ کرنے اور عوام کو دھوکہ دینے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خود آزاد کشمیر کا موجودہ پارلیمانی نظام اور عبوری آئین بھی 1974ء سے پہلے اس شکل میں موجود نہیں تھا۔ اس لیے کسی ایک حصے کو نکال کر یہ کہنا کہ یہ بعد میں شامل کیا گیا، سراسر ناانصافی ہے۔ اگر مالی اخراجات کی بات کی جائے تو ریاستی خزانے پر ان بارہ ارکانِ اسمبلی کا بوجھ مجموعی بجٹ کا ایک انتہائی معمولی اور نا ہونے کے برابر حصہ ہے۔ اسی طرح یہ الزام بھی مبالغہ آرائی پر مبنی ہے کہ یہ بارہ نشستیں حکومتیں گرانے یا سیاسی نتائج کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی آزاد کشمیر میں حکومتیں بنیں، انہیں مقامی نشستوں کے اکثریتی ارکان کی واضح تائید حاصل رہی ہے۔ تحریکِ آزادیِ کشمیر کے بڑے بڑے نامور رہنما اسی انتخابی نظام کے ذریعے ابھر کر سامنے آئے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مہاجر نمائندگی کوئی مصنوعی یا سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا ذریعہ نہیں، بلکہ آزاد کشمیر کی سیاسی اور نظریاتی شناخت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ کی من پسند اور جھوٹی تشریحات کے سہارے، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیری آبادی کے ایک اتنے بڑے اور اہم حصے کو اس کے جائز سیاسی حق سے محروم کیا جا سکتا ہے؟اگر ہم غیر جانبدارانہ طور پر دیکھیں تو “جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی” (JAAC) کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات کی ایک بہت بڑیفہرستکو حکومت نے کھلے دل سے تسلیم کیا تھا۔ حکومت نے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کا ایک باقاعدہ اور قانونی طریقہ کار وضع کیا۔ اس سلسلے میں ماضی میں درج کیے گئے مقدمات واپس لیے گئے، احتجاج کے دوران جانی و مالی نقصان کا شکار ہونے والے شہریوں کے لیے بھاری معاوضے فراہم کیے گئے، اور بجلی و آٹے کی قیمتوں سمیت کئی انتظامی اصلاحات متعارف کروائی گئیں۔کسی بھی جمہوری معاشرے میں جب حکومت کی طرف سے اس سطح کی سنجیدگی اور لچک کا مظاہرہ کیا جائے تو پرامن بات چیت کی راہیں کھلتی ہیں اور احتجاج ختم کر دیے جاتے ہیں۔ لیکنیہاں اس کے برعکس عمل دیکھنے میں آیا۔ سیاسی ماحول کو دانستہ طور پر مزید تلخ کیا گیا اور عین اس وقت دوبارہ احتجاج اور ہڑتال کی کال دی گئی جب آزاد کشمیر میں انتخابی عمل کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا۔ جب آئینی اور سیاسی تنازعات کو قانون ساز ایوانوں اور عدالتوں سے نکال کر سڑکوں کے دباؤ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کا سب سے بڑا نقصان کسی حکومت کو نہیں، بلکہ خود جمہوریت اور عام عوام کو پہنچتا ہے۔
جیسے ہی آزاد کشمیر میں احتجاج کے نام پر پر تشدد مظاہرے شروع ہوا، سرحد پار بیٹھے بھارتی میڈیا نے اس اندرونی خلفشار کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ بھارتی ٹی وی چینلز اور اخبارات نے اسے کشمیر پر پاکستان کے روایتی اور تاریخی مؤقف کی کمزوری کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ آزاد کشمیر میں ہونے والےمعمولی نوعیت کے واقعاتکو بھی دشمن عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی مؤقف کو نقصان پہنچانے اور دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے ہٹانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس لیے یہ محض داخلی امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہماری قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔راولاکوٹ، چہلہ اور دیگر علاقوں میں رونما ہونے والے حالیہ افسوسناک واقعات، جن میں عوامی اور سرکاری املاک کو نذرِ آتش کیا گیا، سیکیورٹی فورسز پر حملے ہوئے، قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے دوران مشتبہ دفاتر اور ٹھکانوں سے جدید خودکار اسلحہ اور مواصلاتی آلات برآمد ہوئے، یہ سب باتیں ثابت کرتی ہیں کہ یہ اب کوئی پرامن سیاسی سرگرمی نہیں رہی۔سیاسی وابستگی اور نظریات سے قطع نظر، دنیا کا کوئی بھی مہذب اور قانون پسند معاشرہ ہسپتالوں پر حملوں، ایمبولینسوں کو روکنے، پولیس اہلکاروں پر وحشیانہ تشدد کرنے، یا طاقت کے زور پر ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتا۔ پُرامن لوگوں کے ساتھ تو ہر سطح پر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں اور ان کی بات سنی جا سکتی ہے، لیکن مسلح جتھوں کے ساتھ نہ تو کوئی مذاکرات ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ریاست کے اندر کسی قسم کی مسلح جدوجہد کی اجازت دی جا سکتی ہے۔