تاریخ کو اکثر اقوام کا آئینہ کہا جاتا ہے۔ اس آئینے میں ماضی کی کامیابیاں اور ناکامیاں، فتوحات اور سانحات، دانش و بصیرت اور لغزش و کوتاہیاں سب محفوظ ہوتی ہیں۔ تاہم اس آئینے کی ہر تصویر یکساں طور پر واضح نہیں ہوتی۔ بعض مناظر وقت کی گرد، تعصبات اور نامکمل فہم کی دھند میں اوجھل ہو جاتے ہیں۔ حقیقت کے اصل چہرے کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس گرد کو احتیاط اور دیانت داری سے صاف کیا جائے اور ماضی کا مطالعہ کھلے ذہن اور بے لاگ نگاہ سے کیا جائے۔ تب کہیں جا کر تاریخ ایک ایسی کھلی کتاب بن جاتی ہے جس کے صفحات میں آنے والی نسلوں کے لیے بیش قیمت اسباق پوشیدہ ہوتے ہیں۔
دنیا کی کوئی قوم کمزوریوں اور غلطیوں سے مبرا نہیں رہی۔ ہر معاشرہ کبھی نہ کبھی ناکامی، غلط فیصلوں اور اندرونی انتشار کے ادوار سے گزرتا ہے۔ زوال اور ترقی کے درمیان اصل فرق اس بات میں مضمر ہوتا ہے کہ کوئی قوم اپنے تلخ تجربات سے کیا سبق حاصل کرتی ہے۔ وہ اقوام جنہوں نے دنیا میں ترقی اور استحکام کی منزلیں طے کیں، اس لیے کامیاب نہ ہوئیں کہ ان سے کبھی غلطی نہیں ہوئی بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اپنی کوتاہیوں کا ادراک کیا، اپنی سمت درست کی اور اپنے زخموں کو اپنی قوت میں تبدیل کر لیا۔
پاکستان کی تاریخ بھی ایسے بے شمار اسباق سے بھری پڑی ہے۔ ان میں سب سے المناک باب 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہے۔ یہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا قومی سانحہ تھا جس نے پوری قوم کی اجتماعی یادداشت پر گہرے نقوش ثبت کر دیے۔ پاکستان کے ایک بازو کا جدا ہو جانا آج بھی اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ داخلی تقسیم اور خارجی مداخلت کس قدر سنگین نتائج کو جنم دے سکتی ہے۔
یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ تحریکِ پاکستان میں بنگال کے مسلمانوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ ان کی قربانیاں، وابستگی اور حمایت قیامِ پاکستان کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی تھیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے مطالبات سے لے کر 1947ء میں آزادی کے حصول تک مشرقی بنگال کے عوام اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ انہیں ایک مشترکہ نصب العین، مشترکہ قربانیوں اور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد وطن کے خواب نے ایک لڑی میں پرو رکھا تھاتاہم جغرافیہ نے نو زائیدہ مملکت کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا۔ پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصوں کے درمیان بھارت واقع تھاجس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات ابتدا ہی سے کشیدہ اور مخاصمانہ رہے۔ یہ جغرافیائی حقیقت بیرونی مداخلت کے لیے سازگار مواقع فراہم کرتی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔ سیاسی چالوں، پروپیگنڈے اور علیحدگی پسند عناصر کی سرپرستی کے ذریعے اختلافات کو گہرا کرنے اور غلط فہمیوں کو ناقابلِ مصالحت خلیج میں تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ مکتی باہنی کا ظہور اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات بالآخر پاکستان کے سانحہ سقوط پر منتج ہوئےمگر تاریخ ہم سے صرف حب الوطنی ہی نہیں بلکہ دیانت داری کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ اگرچہ بیرونی مداخلت نے اس المیے میں اہم کردار ادا کیا لیکن ان داخلی کمزوریوں کا جائزہ لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے جنہوں نے ایسی مداخلت کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا۔ قومیں صرف اپنے دشمنوں کی وجہ سے کمزور نہیں ہوتیں بلکہ اکثر اوقات وہ پہلے اپنی داخلی کمزوریوں، باہمی اعتماد کے فقدان اور مؤثر طرزِ حکمرانی کی کمی کے باعث کمزور پڑ جاتی ہیں۔ اسی لیے 1971ء کا سانحہ صرف بیرونی سازشوں کی داستان نہیں بلکہ قومی یکجہتی کی اہمیت کا بھی ایک دائمی سبق ہے۔
(جاری ہے)