پاکستانی سیکورٹی فورسز نے اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے ایک کلیدی رکن عمر دین عرف جذبہ کو گرفتار کیا ہے۔ اس گرفتاری کے بعد ملزم کے اعترافی بیانات نے نہ صرف اس خونی گروہ کے اندرونی حالات کو بے نقاب کیا ہے بلکہ قوم کے سامنے ایک ایسا آئینہ رکھ دیا ہے جس میں دہشت گردی کی اصل شکل نظر آ رہی ہے۔ یہ بیانات صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ایک منظم فتنے کی کہانی ہیں جو معاشرے کو کھوکھلا کرنے، نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور ملک کی امن و امان کو تار تار کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ عمر دین عرف جذبہ کا اعتراف بڑا دل دہلا دینے والا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اپنے والد کے ساتھ معمولی اختلاف اور گھریلو جھگڑے کی وجہ سے اس نے فتنہ الخوارج میں شمولیت اختیار کی۔ یہ حقیقت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ یہ گروہ نوجوانوں کی ذاتی کمزوریوں، جذبات اور خاندانی تنازعات کا فائدہ اٹھا کر انہیں اپنے جال میں پھنساتا ہے۔ ایک نارمل گھریلو ماحول سے نکل کر دہشت گردی کے راستے پر چل پڑنے والا یہ نوجوان اب اس گروہ کی حقیقت سے واقف ہو چکا ہے اور اس نے اپنے بیان میں بہت سے راز کھول دئیے ہیں۔اس نے بتایا کہ فتنہ الخوارج کے بڑے کمانڈروں کے ساتھ 60سے 70افغان جنگجو موجود ہیں۔ ان میں سے متعدد نے افغانستان میں تربیت حاصل کی ہے۔ یہ انکشاف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ دہشت گردی مقامی نہیں بلکہ سرحد پار سے چلنے والا ایک منظم نیٹ ورک ہے۔ افغان سرزمین پر تربیت پانے والے یہ جنگجو پاکستان میں داخل ہو کر معصوم عوام اور سیکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کے لئے خطرہ ہے بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی بڑا چیلنج ہے۔
عمر دین نے فتنہ الخوارج کے ایک اور سرغنہ عامر سہیل عرف مولوی حیدر کے اعترافات کا بھی حوالہ دیا۔ ان اعترافات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ نیٹ ورک شادی خیل بیس پر حملے اور کوٹہ خواہ روڈ پر ہونے والے دھماکے میں براہ راست ملوث تھا۔ یاد رہے کہ اس دھماکے میں ماہ رمضان کے مبارک مہینے میں 7پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔ رمضان جیسے مقدس مہینے میں بھی معصوم پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ گروہ نہ تو دین کا پاس رکھتا ہے اور نہ ہی انسانی جان کا احترام۔ ان کے نزدیک شریعت کا نفاذ صرف قتل و غارت، دھماکوں اور تباہی کا نام ہے۔گرفتار خارجی نے جو انکشافات کئے ہیں ان میں سب سے حیران کن وہ ہے جو اس گروہ کے اندرونی حالات سے متعلق ہیں۔ اس کے مطابق تنظیم کے بعض ارکان منشیات کے عادی ہیں اور مراکز کے اندر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہتے ہیں۔ کمانڈر خود غیر اخلاقی حرکات میں مبتلا ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ان کے دعوئوں کی قلعی کھولتی ہے۔ جو لوگ جہاد اور شریعت کے نام پر نوجوانوں کو بھرتی کرتے ہیں۔ وہ خود اندر سے کھوکھلے، بدکردار اور منشیات کے نشے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ دہشت گرد گروہ اکثر اپنے اندرونی تضادات کی وجہ سے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ لیکن اس کا براہ راست اعتراف ایک گرفتار رکن کی زبان سے سننا بہت اہم ہے۔عمر دین عرف جذبہ کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کو افغانستان میں موجود کمانڈروں سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ تنظیم بھتہ خوری، گاڑیاں چھیننے اور اغوا برائے تاوان جیسی مجرمانہ سرگرمیوں میں بھی پیش پیش ہے۔ یعنی یہ گروہ نہ صرف دہشت گردی کرتا ہے بلکہ ایک منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک بھی ہے۔ بھتہ خوری کے ذریعے تاجر اور عام شہریوں کو لوٹنا، گاڑیاں چھین کر فروخت کرنا اور لوگوں کو اغوا کر کے تاوان وصول کرنا ان کے روزمرہ کے کاروبار بن چکے ہیں۔ یہ سب کچھ جہاد کے نام پر کیا جاتا ہے۔ اصل میں یہ لوگ جہاد کے نام پر صرف اپنے مفادات پورے کر رہے ہیں۔اس گروہ کی سب سے خطرناک حکمت عملی نوجوانوں کو گمراہ کرنا ہے۔ خوارج کمانڈر شریعت کے نفاذ اور جہاد کے خوبصورت نعروں کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں۔ وہ ان کے ذہنوں میں نفرت بھرتے ہیں انہیں معاشرے سے الگ تھلگ کرتے ہیں اور پھر انہیں ہتھیار اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ ایک منظم پروپیگنڈہ مشینری ہے جو سوشل میڈیا، خفیہ مراکز اور ذاتی رابطوں کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔ نوجوان جو جذباتی، ذہنی طور پر غیر مستحکم یا معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں ان کے ہدف بنتے ہیں۔ عمر دین نے اپنے پیغام میں نوجوانوں سے خاص طور پر اپیل کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ خوارج کے دعوں اور پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوں۔ ایسے گروہوں سے دور رہیں جو صرف تباہی پھیلاتے ہیں۔ یہ پیغام بہت اہم ہے۔
آج کے دور میں جب سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانیے اور جذبات انگیز ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں نوجوانوں کو حقیقت سے آگاہ رہنا چاہیے۔ والدین، اساتذہ اور معاشرے کو بھی اس ذمہ داری کو محسوس کرنا ہوگا کہ نوجوان نسل کو اس فتنے سے بچایا جائے۔پاکستانی سیکورٹی فورسز نے نہ صرف اس ملزم کو گرفتار کیا بلکہ اس کی معلومات کی بنیاد پر مزید کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ گرفتاریاں اس بات کی دلیل ہیں کہ ریاست پاکستان دہشت گردی کے خلاف کوئی سمجھوتہ نہیں کر رہی۔ فوج، پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور دیگر ادارے دن رات ایک کر کے ملک کو محفوظ بنانے میں مصروف ہیں۔ شہداء کی قربانیاں اس ملک کی بنیاد ہیں اور ان کی روحیں آج بھی ہم سے کہہ رہی ہیں کہ اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔فتنہ الخوارج کی حقیقت یہ ہے کہ یہ نہ تو کوئی مذہبی تحریک ہے اور نہ ہی آزادی کی جنگ۔ یہ ایک خونی گروہ ہے جو معاشرے میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے۔ ان کے ہاتھوں شہید ہونے والے معصوم بچے، خواتین، پولیس اہلکار، فوجی جوان اور عام شہری اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ لوگ صرف تباہی کے دہشت گرد ہیں۔ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام تو امن، محبت اور انصاف کا نام ہے۔اس گرفتاری سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ دہشت گرد گروہ اب اندر سے کمزور ہو رہے ہیں۔ ان کے اپنے لوگ ہی ان کی حقیقت بیان کر رہے ہیں۔ یہ ان کے زوال کی نشانی ہے۔ مگر اس زوال کو مکمل کرنے کے لئے قوم کو متحد رہنا ہوگا۔ حکومت، اداروں، عوام، علماء کرام اور میڈیا سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر مندی اور مثبت سوچ کی طرف راغب کرنا ہوگا تاکہ وہ ان جالوں میں نہ پھنسیں۔عمر دین عرف جذبہ کا بیان ایک آگاہی کا پیغام ہے۔ یہ پیغام ہر نوجوان تک پہنچنا چاہیے کہ جہاد کا نام لے کر جو لوگ تمہیں گمراہ کر رہے ہیں، وہ خود منشیات، بدکاری اور جرائم میں مبتلا ہیں۔ ان کا اصل مقصد صرف لوٹ مار اور تباہی ہے۔ پاکستان ایک پرامن، ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بن سکتا ہے مگر اس کے لئے ہمیں اس فتنے سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔سیکورٹی فورسز کی اس کامیابی پر پوری قوم کو ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ہم سب کی جنگ ہے۔ جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا امن قائم نہیں ہو سکتا۔ عمر دین جیسے لوگوں کے بیانات ہمیں بتاتے ہیں کہ سچائی آخر کار سامنے آ جاتی ہے۔ فتنہ الخوارج کا یہ چہرہ بے نقاب ہونے کے بعد اب قوم کو مزید چوکنا اور متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ گرفتاری صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ ایک سوچ کی گرفتاری ہے۔ وہ سوچ جو نوجوانوں کے مستقبل کو برباد کر رہی تھی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس سوچ کو جڑ سے ختم کر دیں اور ایک نئے روشن پاکستان کی بنیاد رکھیں جہاں امن ہو، ترقی ہو اور نوجوان اپنے خواب پورے کرنے کے لیے آزاد ہوں۔ اللہ پاکستان کو دہشت گردی سے محفوظ رکھے۔ آمین۔