بھگوڑا یوٹیوبر برطانوی عدالت کے کٹہرے میں
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹ اور فریب کاری سے ڈالر کمانے والے جعل ساز اب قانون کی گرفت میں آتے جا رہے ہیں۔ ایک مفرور کورٹ مارشل شدہ بھگوڑا فوجی افسر آج کل برطانوی عدالتوں کے چکر کاٹ رہا
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹ اور فریب کاری سے ڈالر کمانے والے جعل ساز اب قانون کی گرفت میں آتے جا رہے ہیں۔ ایک مفرور کورٹ مارشل شدہ بھگوڑا فوجی افسر آج کل برطانوی عدالتوں کے چکر کاٹ رہا
سسپنس فلموں سے دلچسپی رکھنے والے حضرات بخوبی واقف ہیں کہ بعض اوقات بالکل آخر میں جا کر یہ راز کھلتا ہے کہ سب سے زیادہ بے ضرر اور معصوم دکھائی دینے والا کردار ہی اصل مجرم تھا۔یہ جان کرشائقین
اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے خوش آئند پیشرفت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ وطن سے دور بیرون ملک مقیم ان تارکین وطن کو سمندر پار پاکستانی بھی کہا جاتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں سمندر پار بسنے والے پاکستانیوں کا اہم
بلوچستان میں آگ سلگ رہی ہے۔ دہشت گردی اور لسانی تعصب کا ایندھن استعمال کیا جا رہا ہے۔ کالعدم بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں ۔ان دہشت گرد گروہوں کا نان نفقہ ازلی دشمن بھارت کے
کیا وجہ ہے کہ بیرون ملک مقیم بعض خواتین و حضرات انسانی حقوق اور جمہوریت کی نقاب اوڑھ کر پاکستان کے مفادات پر ضربیں لگا رہے ہیں۔گزشتہ کالم میں سوشل میڈیا سے ڈالر کمانے والے پیشہ ور کلاکاروں کا معاملہ
ہیجانی سیاست کی ماہر تحریک انصاف آج کل پریشان پریشان سی ہے۔ جماعت کے سیاسی قلعے خیبر پختونخواسے آنے والی خبریں کچھ اچھی نہیں۔ایسا لگتا ہے کہ جماعت میں تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا
گزشتہ دنوں فرانس سے ایک اہم خبر آئی ہے۔ اس خبر کا تعلق قانون کی بالادستی اور با اثر سیاسی طبقات کے احتساب سے ہے۔ فرانس میں دائیں بازو کی مشہور لیڈر میری لی پین کو نہ صرف کہ مالی
حقوق کی آڑ میں دہشت گردی کا سلسلہ بے نقاب ہوتا جا رہا ہے۔ جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ نے دہشت گرد گروہ کا بھیانک چہرہ عوام پرواضح کر دیا ہے۔ عالمی سطح پہ کالعدم بی ایل اے کی مجرمانہ کاروائی
سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ گھمبیر ہوتا جارہا ہے! جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ دہشت گردی کی غیر معمولی واردات تھی۔ بلوچ حقوق کی نقاب اوڑھ کر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
پاکستان پر فتنہ خوارج کی یلغار تیز ہوتی جارہی ہے۔ گزشتہ دنوں مساجد پر دہشت گردوں حملوں میں جس طرح علماء کرام کو ہدف بنایا گیا اس سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ خارجیوں کا اسلام