عربی زبان کو قرآن میں ’’عربی مبین‘‘ کہا گیا ہے۔ الحمد للہ اس ’’عربی مبین‘‘ کی اہمیت تمام مسلمانوں پر واضح ہے۔ خاکسار نے کئی درجن کالم لکھے جنہیں اوصاف نے شائع کیا‘ خاکسار اپنے کالموں میں عربی زبان کی سکولوں‘ کالجوں میں لازمی تدریس و تعلیم کے معاشرتی‘ معاشی‘ عمرانی اور مفاہمت و یکجہتی مذاہب و مسالک کے فوائد لکھتا رہا ہوں۔ سید قطب شہید کی تفسیر فی ظلال القرآن زیر مطالعہ ہے ‘ مگر انہوں نے جلد دوم صفحہ 113-114 پر عربی زبان کو عالمیت ‘ آفاقیت ملنے کا معاملہ بالکل ہی منفرد انداز میں لکھا ہے۔
میں خود عربی زبان کا طالبعلم ہوں۔ کالج میں عربی کا استاد رہا مگر یہ پہلو جو سید قطب شہید نے پیش کیا بالکل انوکھا اور منفرد ہے۔ خواہش ہوئی کہ اسے ہدیہ قارئین کیا جائے۔ شکریہ کے ساتھ یہ ہدیہ قبول فرمائیں اور سید قطب شہید کے ایصال ثواب کیلئے دعا فرمائیں۔
اسلامی فتوحات دراصل ہمہ گیر انسانی برتری تھی‘ کیونکہ اس میں مکمل انسانی خصوصیات اور انسانی عناصر موجو د تھے۔ اس کی وجہ سے گویا انسان کو دوسرا جنم ملا تھا۔ یہ ایک ایسا انسان تھا جس سے یہ کرہ ارض یقینی طور پر ناآشنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جہاں تک رسائی حاصل کی اس نے لوگوں کو اپنے رنگ میں رنگ دیا اور ان معاشروں پر اپنی پختہ چھاپ لگا دی۔ اسلامی نظریاتی اور سماجی تحریک نے ان سماجوں کو بھی بالکل نابود کر دیا جو صدیوں سے قائم تھے۔ مثلاً مصر میں فرعونی تہذیب ‘ بابل اور اشوریا کے قدیم معاشرے جو عراق میں قائم تھے ‘ شام میں طبقی اور سریانی سماج جو صدیوں سے قائم تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلام کے سماجی تصورات انسانی فطرت میں نہایت ہی گہرائی تک پیوستہ تھے اور نفس انسانی کے اندر وہ دور تک رچے بسے تھے۔ اس کے اصول عظیم اور اس کے رجحانات نہایت وسیع تھے اور انسان کی زندگی کے لئے اسلامی نظام تمام نظریات اور تہذیبوں سے زیادہ اصولی تھا۔
اسلام جہاں گیا‘ لوگوں کی زبان تک بدل گئی اور پھر عربی ان علاقوں کی مادری زبان بن گئی۔ یہ ایک عجیب اور مثالی انقلاب تھا۔ اس سلسلے میں جس قدر علمی تحقیقات کی ضرورت تھی اور جس قدر غور و فکر کی ضرورت تھی‘ مسلمانوں نے یہ بھی تک نہیں کیا ہے۔ میرے خیال میں عقائد و نظریات کی وسعت اور پھیلائو کے مقابلے میں یہ امر نہایت ہی حیرت انگیز ہے۔ اس لئے کہ زبان انسان کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے ہوتی ہے۔ انسان کے اجتماعی سماجی تعلقات زبان کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں اور زبان کا ایسا تغیر ہمیشہ ایک معجزہ تصور ہوتا ہے۔ یہ معجزہ صرف عربی زبان کا معجزہ نہیں ہے۔ عربی زبان پہلے سے جزیرۃ العرب میں قائم تھی لیکن اسلام سے پہلے یہ زبان اس کرہ ارض کے کسی خطے میں یہ معجزہ نہ دکھاسکی۔ یہی وجہ ہے کہ میں عربی کو اسلامی زبان کہتا ہوں اس لئے کہ عربی زبان میں قرآن کریم کے بعد جو قوت پیدا ہوئی اور اسلام کے ہاتھوں اس کرہ ارض پر پھیل گئی تو یہ معجزہ عربی زبان کا نہ تھا بلکہ اسلامی نظام کا معجزہ تھا۔
ایک دوسرا معجزہ جو اسلامی فتوحات سے دکھایا وہ یہ تھا کہ ممالک مفتوحہ کے اندر خفتہ صلاحیتوں کو جگایا اور صلاحیتوں کا اظہار اس جدید زبان میں ہونے لگا۔ ان مفکرین نے اپنی زبانوں کو استعمال نہ کیا۔ انہوں نے دین اسلام کی زبان کو یعنی عربی زبان کو استعمال کیا اور ان مفکرین نے زندگی کے ہر شعبے میں وہ علمی اورثقافتی ذخیرہ پیدا کیا جس کے اندر پوری اصلیت پائی جاتی ہے۔ حالانکہ ان مفکرین نے اپنی اصلی زبان کو چھوڑ کر جدید عربی زبان کو استعمال کیا ‘ ان لوگوں کی زبان میں عربی زبان کی مشکلات کے باوجود کوئی تعقید نہیں ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ ان علاقوں کے مفکرین اور ذہین لوگوں کی اصلی مادری زبان ہی عربی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی فتوحات کا مقصد حریت‘ آزادی اور نئی روشنی کو پھیلانا تھا‘ دوسرے عربی زبان کے اندر جو سرمایہ تھا وہ عظیم تھا ‘ وہ انسانی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ فکری سرمایہ تھا‘ وہ لوگوں کے قلب اور ذہن کے بالکل قریب تھا۔ اس کے مقابلے میں قدیم ثقافتوں‘ سماجوں کے اندر کچھ نہ تھا اور قدیم زبانیں تہی دامن تھیں۔
یہ سرمایہ بھی کیا تھا‘ جو زبان عرب کو ملا؟ یہ روحانی‘ اخلاقی اور اجماعی تعمیر و تربیت کا سرمایہ تھا جو اسلامی نظام حیات نے اس زبان کو عطا کیا تھا اور نہایت ہی مختصر عرصے میں۔ یہ سرمایہ اس قدر عظیم تھا‘ اس قدر گہرا تھا‘ فطرت انسانی کے ساتھ اس قدر پیوست تھا کہ اس نے اسلامی عساکر کی تخت و تاراج کے ساتھ اسلامی زبان کو بھی فتوحات بخشیں اور اس زبان کے مقابلے میں کوئی زبان نہ ٹھہر سکی۔ یہ ہے وہ حقیقی وجہ اور اس کے بغیر ہم اس تاریخی معجزے کی تشریح نہیں کرسکتے۔ بہرحال یہ ایک طویل اور وسیع موضوع ہے اور ظلال القرآن کے اس مقام پر ہمارے لئے بس اس قدر کہنا کافی ہے۔