دو ’’ڈونلڈ….. دو کہانیاں!
کالم کا عنوان ’’دو ڈونلڈ دو کہانیاں‘‘ مقبول سلسلۂِ تحریر ’ ’تین عورتیں، تین کہانیاں‘‘ کی رعایت سے ہے۔ ڈونلڈ 1 کا نام، مارچ 2022ء میں اُس وقت فضائوں میں گونجا جب عمران خان کا آفتابِ اقتدار، نصفُ النہار سے
کالم کا عنوان ’’دو ڈونلڈ دو کہانیاں‘‘ مقبول سلسلۂِ تحریر ’ ’تین عورتیں، تین کہانیاں‘‘ کی رعایت سے ہے۔ ڈونلڈ 1 کا نام، مارچ 2022ء میں اُس وقت فضائوں میں گونجا جب عمران خان کا آفتابِ اقتدار، نصفُ النہار سے
عمران خان کو کچھ بھی کہہ لیں، اُنہوں نے پاکستانی سیاست کی کشتِ ویراں میں ایسے ایسے اچھوتے اور نادرِ روزگار عجوبے کاشت کئے ہیں، اور مسلسل کرتے چلے جا رہے ہیں ، کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر
جج اور وہ بھی کسی بڑی عدالت کا جج ہوتے ہوئے، فرصت وفراغت کے ایسے لمحے کہاں کہ باقاعدگی سے روزنامچہ لکھا جائے۔ مجھے تو کبھی ایسی یکسوئی میسّر نہ آئی کہ ٹِک کر اپنی یاداشتیں مرتب کرتا اور اپنے
چھبیسویں آئینی ترمیم کی اُونٹنی کم وبیش دوماہ تڑپنے پھڑکنے، پہلو بدلنے، بلبلانے اور دردِزہ جیسے کرب سے گذرنے کے بعد بالآخر، حکومتی اتحاد کے موافق کروٹ بیٹھ گئی ہے۔ بَرحق زمینی حقیقت اب یہ ہے کہ چھبیسویں ترمیم آئین
میں اتوار کے دِن یہ کالم لکھ رہا ہوں جو آپ منگل کو پڑھیں گے۔ عالم یہ ہے کہ گزشتہ چار روز سے اسلام آباد کی سڑکیں، گلیاں، بازار، منڈیاں، تعلیمی ادارے اور دفاتر بند پڑے ہیں۔ مریض ہسپتالوں تک
13 ستمبر کی شام، تحریکِ انصاف کے بانی، عمران خان کے ترکش نے زہر میں بجھا ایک اور تیرچلایا۔ اُن کے، نیلے نشان والے باضابطہ ’ایکس‘ اکائونٹ سے ایک طویل پیغام جاری ہوا۔ اِس پیغام میں ایک بار پھر آرمی
پُرامن اجتماع اور امنِ عامہ بل 2024ء ، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری اور صدرِ مملکت کی توثیق کے بعد باضابطہ طورپر قانون بن چکا ہے۔ اس قانون کا دائرۂِ اطلاق صرف اسلام آباد تک محدود ہے۔ یہ پانچ
عزت مآب جسٹس منصور علی شاہ کے ’’تصوّرِ آئینی توازن‘‘ کی روشنی میں عدلیہ کے کردار پر بات کرتے ہوئے مجھے اس امر کا احساس رہتا ہے کہ جسٹس صاحب ہماری عدلیہ کا معتبر نام ہیں۔ بطور جج اُن کے
10 اگست کو ’’اقلیتوں کے حقوق‘‘ کے حوالے سے منعقدہ ایک سمینار میں تقریر کرتے ہوئے عزت مآب جسٹس منصور علی شاہ نے بعض نہایت فکر انگیز نکات اٹھائے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’سپریم کورٹ کے فیصلوں پر
یہ کالم کوئی ساڑھے سات ماہ قبل 2 جنوری 2024 ء کو شائع ہوا تھا۔ تب اس کا عنوان تھا ’’ 9مئی! دھند گہری ہو رہی ہے۔‘‘ قندِ مکرر کے طور پر وہی پرانا کالم پیش خدمت ہے اس سوالیہ